فارماسیوٹیکل ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم پر عملدرآمد کا باقاعدہ آغاز
9 اکتوبر سے ادویات پر بارکوڈ پرنٹنگ،یونیک سیریلائزیشن لازمی قرار، ڈریپ کا نوٹیفکیشن
لاہور (ہیلتھ رپورٹر)ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کے لیے فارماسیوٹیکل ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم پر عملدرآمد کا باقاعدہ آغاز کر دیا۔ڈریپ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق 9 اکتوبر 2026 سے پاکستان میں تیار ہونے والی اور درآمد کی جانے والی تمام فارما سیوٹیکل اور بائیولوجیکل ادویات پر 2-D بارکوڈ پرنٹنگ اور یونیک سیریلائزیشن لازمی قرار دی گئی ہے ۔ مقررہ ڈیڈ لائن کے بعد بغیر بارکوڈ کے کوئی بھی دوا مارکیٹ میں فروخت نہیں ہو سکے گی۔اتھارٹی کے مطابق اس مقصد کے لیے ایک یکساں ڈیجیٹل پلیٹ فارم تعینات کر دیا گیا ہے جو سپلائی چین کی مکمل نگرانی اور ادویات کی ٹریسیبلیٹی کو یقینی بنائے گا۔ نیا نظام فعال ہونے سے دوا کی تیاری سے لے کر مریض تک پہنچنے تک کے تمام مراحل کی آن لائن تصدیق ممکن ہو گی۔اس سلسلے میں ڈریپ نے ملک بھر کی فارما انڈسٹری کی تربیت کا فیصلہ کیا ہے ۔ اسلام آباد، راولپنڈی اور آزاد کشمیر کی فارماسیوٹیکل انڈسٹری کے لیے پہلی ہینڈز آن ٹریننگ کل راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں منعقد ہوگی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments