حوثیوں کے حملے :سعودیہ کا دفاع پاکستان ، ترکیہ کیلئے امتحان

حوثیوں کے حملے :سعودیہ کا دفاع پاکستان ، ترکیہ کیلئے امتحان

عالم اسلام میں تشویش، علاقائی امن کیلئے سفارت کاری ، مذاکرات ناگزیر

(تجزیہ:سلمان غنی)

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض اور اہم شہروں پر داغے گئے میزائل حملوں سے عالم اسلام میں تشویش پیدا ہو گئی اور وہ اس مذموم عمل کو مقدس مقامات حرمین شریفین کیلئے خطرے کی گھنٹی قرار دیتے ، اپنی حکومتوں پر دباؤ ڈالتے نظر آ رہے ہیں کہ حوثیوں کی جارحیت کے سدباب میں اہم کردار  ادا کریں۔ پاکستان کے بعد اب ترکیہ نے بھی ان حملوں کیخلاف سعودی عرب سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ حملے قطعی طور پر غیر قانونی اور غیر انسانی ہیں اور اس مذموم عمل کو روکنے کیلئے ممکنہ آپشنز بروئے کار لائیں گے ۔ لہٰذا اس امر کا تجزیہ ضروری ہے کہ کیا سعودیہ اور حوثیوں کے درمیان جاری تنازع کا کوئی قابل عمل حل ہے ، اور کیا ایران کی جانب سے ثالثی کا عمل نتیجہ خیز بن سکتا ہے ۔ علاقائی امور کے ماہرین اس حوالہ سے یکسو ہیں کہ حوثیوں کا علاج کسی ایک فریق کیلئے ممکن نہیں، اس کیلئے کثیر الجہتی پالیسی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ اب جب حوثیوں نے ریاض ایئر پورٹ کے بعد سعودی عرب کے شہروں کو بھی ٹا رگٹ کرنا شروع کیا ہے تو نہ صرف سعودی حکومت کیلئے پریشانی بڑھ رہی ہے بلکہ مکہ دفاعی معاہدہ کے فریقین پاکستان اور ترکیہ کا امتحان بھی شروع ہو چکا اور وزیراعظم شہباز شریف کے بعد ترکیہ کے صدر طیب اردوان نے بھی بھرپور انداز میں سعودیہ کے ساتھ یکسوئی اور سنجیدگی سے کھڑا ہونے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان اور ترکیہ کا بنیادی مقصد تو سعودی عرب کا دفاع ہے لیکن دونوں اس حوالہ سے براہ راست کسی کارروائی سے احتراز کرتے نظر آ رہے ہیں کیونکہ ایران بھی اس حوالہ سے تحفظات ظاہر کرے گا ۔پاکستان اس وقت ایسی پوزیشن میں نہیں کہ وہ ایران کو اس کا موقع دے لیکن پاکستان کی کوشش ہوگی کہ کشیدگی کسی وسیع علاقائی جنگ میں تبدیل نہ ہو اور ایسی اطلاعات ہیں کہ پاکستان مذکورہ صورتحال پر ایران کے ساتھ رابطے میں ہے اور تہران اب اس جنگ میں فریق بننے کی بجائے ثالثی کردار کی بات کر رہا ہے ۔ پاکستان اس تنازع کے سفارتی حل اور اس پر ڈائیلاگ کے عمل کو آگے بڑھانے پر زور دے رہا ہے اور اس ضمن میں وہ تنازع کے فریق ممالک سمیت خطہ کے اہم ممالک کے ذمہ داران سے بھی رابطوں میں ہے اوراس وقت سفارتکاری کو ہی بہتر حل سمجھا جا رہا ہے اور حوثیوں کی جارحانہ حکمت عملی کو روکنے کا سب سے موثر راستہ یہی ہوگا کہ سعودی عرب کا دفاع مضبوط ہو ، یمن کے سیاسی تنازع کے حل کیلئے موثر کوشش کی جائیں ،حوثیوں کی صلاحیت اور اسلحہ کی غیر قانونی فراہمی کو محدود ،یمن کے اندر مفاہمت اور جامع مذاکرات کی راہ ہموار کرنا اور ایران سمیت متعلقہ علاقائی فورسز کو حملوں کی روک تھام کیلئے بروئے کار لانا بھی اہم ہوگا۔ سعودیہ اب مکہ دفاعی معاہدے کے بعد اراکین پر مکمل اعتماد کئے نظر آ رہا ہے اور اب مصر سمیت دیگر ممالک بھی سعودیہ کی خود مختاری کے تحفظ بارے پرعزم دکھائی دے رہے ہیں، امت کبھی نہیں چاہے گی کہ سعودی حکومت اور ریاست غیر مستحکم اور کمزور ہو۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...