گورنر راج کو کامیاب بنانا اس کے نفاذ سے بھی بڑا چیلنج
ایمرجنسی کا سلسلہ پختونخوا تک محدود نہ رہے گا،گورنر بدلا تو تحفظات بڑھیں گے
(تجزیہ: سلمان غنی)
قومی اسمبلی نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی قرارداد کی منظوری تو دے دی لیکن قومی اسمبلی میں حکومت اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے ایمرجنسی کے نفاذ کو اپنی مجبوری اور حتمی آپشن کو بروئے کار لانے کی بات کو موجودہ حالات میں اہم قرار دیا جا سکتا ہے ، پیپلز پارٹی خاصی دباؤ میں نظر آ رہی ہے اس ضمن میں قومی اسمبلی سے پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے خطاب کو اہم قرار دیا جا سکتا ہے جس میں انہوں نے بالواسطہ طور پر ایمرجنسی کے اقدام کو ٹارگٹ کرتے ہوئے کہا کہ ایسے حالات نہیں پیدا ہونے چاہئیں کہ نوبت ایمرجنسی تک آئے سیاسی ماحول بہتر ہو جائے تو وہ خود وزیراعظم سے ایمرجنسی کے خاتمہ کی درخواست کریں گے ، بلاول بھٹو کی جانب سے یہ ریمارکس اہم تھے کہ اگر کسی جماعت کے لئے سیاسی سرگرمیوں کی گنجائش تنگ کی جاتی ہے تو اس کے اثرات صرف اس جماعت تک ہی محدود نہیں رہتے ان کا یہ بیان اس امر کا عکاس ہے کہ پیپلز پارٹی خود بھی ایمرجنسی کی نظیر کو مستقبل کے لئے خطرہ سمجھ رہی ہے اور ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ ان کی جماعت کے بعض ارکان نے بھی اس عمل پر تحفظات ظاہر کئے ہیں۔
کیونکہ یہ آئینی ہتھیار کسی بھی وقت کسی بھی جماعت اور صوبہ کے خلاف استعمال ہو سکتا ہے ، اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی نے بھی اپنے خطاب میں آئندہ ایمرجنسی کے آپشن کو سندھ میں استعمال کرنے کا عندیہ دیا ہے اور پوچھا ہے تب پیپلز پارٹی کہاں کھڑی ہو گی ۔لگتا ہے کہ بلاول بھٹو مذاکرات اور مفاہمت کی بات کر کے اپوزیشن کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو اس وقت پریشان کن صورتحال سے دوچار ہے ۔ بلاول بھٹو زرداری کے اس بیان سے یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ وہ صرف مفاہمت تک محدود نہیں رہنا چاہتے بلکہ ضرورت پڑنے پر جارحانہ سیاسی راستہ اختیار کرنے کا اشارہ بھی دے رہے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت سیاسی قوتوں اور خصوصاً پیپلز پارٹی کو اس حوالے سے دفاعی محاذ پر نہیں آنا چاہئے کیونکہ خود پیپلز پارٹی کی سیاسی تاریخ اس حوالے سے کافی پیچیدہ ہے ، پیپلز پارٹی کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے دوران مجموعی طور پر پانچ ایسے مواقع آئے جہاں اس نے ایمرجنسی اور گورنر راج کی توثیق کی اور اب 2026 میں اس کے کردار کو شامل کر لیا جائے تو یہ تعداد چھ بن جاتی ہے ، پیپلز پارٹی اب یہ کہہ کر بھی اپنی جان چھڑاتی نظر آ رہی ہے کہ یہ اقدام تو وفاقی حکومت کا ہے مگر نوٹیفکیشن ایوان صدر سے جاری ہوا ہے ۔
بلاشبہ ایمرجنسی کا اقدام حکومت اور پیپلز پارٹی نے مل کر کیا ایم کیو ایم کی تائید بھی انہیں حاصل تھی ، اب جبکہ گورنر راج اور ایمرجنسی کا اقدام ہو گیا ہے تو اب حکومت اور اس کے اتحادیوں کو اس کے مقاصد کے حصول کے لئے تگ و دو شروع کرنی چاہئے ، اب یہ وفاقی حکومت اور اتحادیوں کا کڑا امتحان ہے کیونکہ انہیں اب دہشت گردی اور شدت پسندی کو کنٹرول کرنا ہے اب کوئی یہ کہنے کی پوزیشن میں نہیں رہا کہ صوبائی حکومت رکاوٹیں ڈال رہی ہے اب صوبہ مکمل طور پر ان کے کنٹرول میں ہے اور اگر واضح طور پر کوئی تبدیلی نہ آ سکی تو حکومت پر تنقید ہوگی اور اس اقدام سے صوبہ میں پی ٹی آئی اور حکومت میں کشیدگی بڑھے گی، پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے اور اس طرح سے پیپلز پارٹی کو ہی پختونخوامیں کنٹرول ملا ہے اور وہ حکومت کے ساتھ اس محاذ پر جوابدہ ہوگی۔ ویسے تو گورنر راج کے آغاز پر ہی فیصل کنڈی کے حوالے سے افواہیں گرم ہیں کہ ان کی جگہ کسی اور کو گورنر بنایا جا رہا ہے جس کی کہیں سے تصدیق تو نہیں ہوئی لیکن اگر ایسا ہوتا ہے تو پیپلز پارٹی اور خصوصاً اس کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ایمرجنسی پر تحفظات اور بڑھیں گے ، مخصوص حلقوں کی جانب سے اب تو یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ایمرجنسی کا یہ سلسلہ پختونخواہ تک محدود نہیں رہے گا خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا نفاذ ایک اہم فیصلہ تھا مگر اسے کامیاب کرنا ایک بہت بڑا چیلنج ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments