مولانا فضل الرحمن نے کبھی ہم سے گورنر شپ نہیں مانگی :رانا ثنا اللہ

مولانا فضل الرحمن نے کبھی ہم سے  گورنر شپ نہیں مانگی :رانا ثنا اللہ

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے اپنے بیان میں کسی سیاسی جماعت کا نام نہیں لیا۔

 مولانا فضل الرحمن نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے معاملے پر سنجیدہ اور محدود مؤقف اختیار کیا ،انہوں نے کبھی ہم سے گورنر شپ کا مطالبہ نہیں کیا،ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ محسن نقوی کے بیان کو کسی مخصوص شخصیت یا جماعت سے منسلک نہیں کرنا چاہیے ، ان کے مطابق جمعیت علمائے اسلام نے پارلیمان میں صرف اپنے جمہوری مؤقف کا اظہار کیا ہے ،رانا ثناء اللہ نے کہا کہ 2024 کے انتخابات کے بعد مسلم لیگ (ن) کی خواہش تھی کہ مولانا فضل الرحمن حکومت کا حصہ بنیں تاہم انہوں نے معذرت کر لی تھی، جمہوریت پر یقین رکھنے والے سیاستدان کے لیے ایمرجنسی اور گورنر راج کی حمایت کرنا آسان نہیں ہوتا،رانا ثناء اللہ نے کہا کہ دہشت گردی کا معاملہ ملک کے وجود کے لیے خطرہ بنتا جا رہا ہے ، پوری قوم اور تمام سیاسی جماعتوں کو اس جنگ میں ایک پیج پر ہونا چاہیے ،مذاکرات کے دوران بھی یہ مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ریاست اور ملکی بقا کے لیے دہشت گردی کے خلاف کھڑا ہونا ضروری ہے ، شرائط کے ساتھ سیاسی کردار ادا کرنے کی بات ہی پہلے معاملات کو خراب کرنے کا سبب بنی تھی،انہوں نے بھارت پر الزام عائد کیا کہ وہ افغانستان میں دہشت گردوں کی مالی معاونت اور تربیتی کیمپوں کی حمایت کر رہا ہے ، انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قومی اتحاد ناگزیر ہے ، سہیل آفریدی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ انہیں اگر مگر چھوڑ کر محب وطن پاکستانی کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے ، ایسی شرط نہیں رکھنی چاہیے کہ وہ واپس آئیں تو انہیں دوبارہ وزیراعلیٰ بنا دیا جائے ،مزید کہا کہ اگر تحریک انصاف آئینی اور قانونی کردار ادا کرنے پر آمادہ ہو تو ملاقاتوں اور ہسپتال منتقلی سے متعلق معاملات پر عمل درآمد کیلئے حکومت اب بھی تیار ہے ، اسے سیاسی عمل میں واپس آنا چاہیے ، وزیر اعظم کے سیاسی مشیر نے کہا کہ صوبائی اسمبلی کو 60 دن کیلئے معطل کیا ہے اور دو ماہ بعد دوبارہ جائزہ لیا جائے گا کہ آیا صوبائی اسمبلی اپنا کردار ادا کر سکتی ہے یا نہیں،انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف اگر مثبت آئینی و قانونی کردار ادا کرے تو مذاکرات پر غور کیا جا سکتا ہے ،اپوزیشن کے طرزِ عمل سے خود اسی جماعت کو نقصان پہنچ رہا ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...