پٹرولیم لیوی معاملہ پر پیشرفت ورنہ نومبر میں لانگ مارچ :حافظ نعیم

پٹرولیم لیوی معاملہ پر پیشرفت ورنہ نومبر میں لانگ مارچ :حافظ نعیم

وزیر اعظم نے مہلت مانگی ،اس شرط پر اتفاق کیا ریلیف کا معاملہ مزید موخر نہیں ہوگا پٹرولیم لیوی پر اختلاف برقرار، ہم مکمل خاتمہ،حکومت مرحلہ وار ختم کرنا چاہتی ہے فارم 47 کی ہو یا 48 کی لیکن بات حکومت سے ہی کرنی ہوتی ہے ، پریس کانفرنس

 اسلام آباد (نامہ نگار ،اپنے رپورٹرسے، مانیٹرنگ ڈیسک،نیوز ایجنسیاں )امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ وزیراعظم نے ملاقات میں مزید سات  سے دس دن کی مہلت طلب کی ہے تاکہ دونوں فریقوں کی کمیٹیاں ریلیف کے دائرہ کار اور طریقہ کار پر مزید بات چیت کر سکیں، جماعت اسلامی نے اس شرط پر مہلت دینے پر اتفاق کیا ہے کہ حکومت عوام کے لیے ریلیف دینے کے معاملے کو مزید مؤخر نہیں کرے گی، وزیر اعظم سے ملاقات کے بعد پُرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے اتفاق کیا ہے کہ پہلے اعلان کردہ ریلیف پیکیج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو سہولت پہنچائی جا سکے تاہم پٹرولیم لیوی کے خاتمے پر حکومت اور جماعت اسلامی کے مؤقف میں اختلاف برقرار ہے ، حکومت اسے مرحلہ وار ختم کرنے کی بات کر رہی ہے جبکہ جماعت اسلامی کا مطالبہ ہے کہ اس ٹیکس کو مکمل طور پر ختم کیا جائے ،حافظ نعیم نے دوٹوک انداز میں کہا کہ جماعت اسلامی چند روپے کی معمولی کمی یا عوام کو عارضی ریلیف دے کر اس مسئلے کو ختم نہیں سمجھتی، حکومت کی جانب سے 20 سے 25 یا 30 روپے فی لٹر لیوی کم کرنے کی تجویز کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس بہت سے آپشنز ہو سکتے ہیں، لیکن ہمارا مطالبہ واضح ہے کہ لیوی ختم کی جائے ، حکومت نے عوام کو مناسب ریلیف فراہم کیا۔

پیکیج کا دائرہ بڑھایا اور پٹرولیم لیوی کے خاتمے کی جانب عملی پیش رفت کی تو یہ بہتر ہوگا، بصورت دیگر جماعت اسلامی اسلام آباد مارچ سے دستبردار نہیں ہوئی، مارچ کی تیاریاں جاری رہیں گی اور نومبر کے وسط میں یہ مارچ ضرور ہوگا، انہوں نے کہا کہ مذاکرات اور احتجاج ساتھ ساتھ جاری رہیں گے ، جماعت اسلامی اب اپنا اسلام آباد مارچ ملتوی نہیں کرے گی ،ہم نے حکومتی نمائندوں کو واضح کیا ہے کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ پوری قوم کو معاشی طور پر گروی رکھ دیا جائے اور ہر مشکل کا حل عوام پر نئے ٹیکس لگانے میں تلاش کیا جائے ۔ حکومت اپنی نااہلی کا بدلہ قوم سے نہ لے ،ایک سوال پر کہا کہ جماعت اسلامی حکومت سے مذاکرات اس لیے کر رہی ہے کہ عوامی مسائل کا حل نکالا جا سکے ۔ حکومت جس کے پاس فیصلے کرنے اور ان پر دستخط کرنے کا اختیار ہے ، حکومت فارم 47 کی ہو یا 48 کی ، بات حکومت سے ہی کرنی ہوتی ہے ، ہائی جیکر جہاز ہائی جیک کرلیتا ہے تو بات اُسی سے کرنا پڑتی ہے ،انہوں نے مزید کہا کہ ہوسکتا ہے سڑک پر بیٹھ کر بات کرنی پڑے ، ہماری کوشش ہے کہ مسئلہ پرامن طریقے سے حل ہو کیونکہ پاکستان مزید سیاسی اور معاشی عدم استحکام کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ تمام سیاسی جماعتوں کو بھی چاہیے کہ وہ اس عوامی مسئلے پر جماعت اسلامی کا ساتھ دیں،انہوں نے کہا کہ ملک کو صرف پٹرولیم لیوی ہی نہیں بلکہ زراعت، گندم، کپاس، ایل پی جی اور گیس کے سنگین مسائل کا بھی سامنا ہے ۔ گندم کا بحران سر اٹھا رہا ہے ، کپاس کی فصل کم ہو رہی ہے اور کسان شدید مشکلات کا شکار ہے ۔ ایل پی جی کی سرکاری قیمت اور مارکیٹ میں وصول کی جانے والی قیمت میں نمایاں فرق ہے ، جبکہ گیس کی لوڈشیڈنگ نے بھی عوام کو پریشان کر رکھا ہے۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...