بلدیاتی الیکشن کیا 28ویں ترمیم کے بعد ممکن بن پائیں گے ؟

بلدیاتی الیکشن کیا 28ویں ترمیم کے بعد ممکن بن پائیں گے ؟

صوبوں کے حوالے سے پیشرفت کے ساتھ مضبوط بلدیاتی نظام پر کام ہو رہا

(تجزیہ:سلمان غنی)

الیکشن کمیشن ملک بھر میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے سنجیدگی ظاہر کرتا نظر آ رہا ہے ،اسلام آباد میں انتخابی شیڈول دئیے جانے کے بعد اب خیبر پختونخوا میں بھی الیکشن کے حوالے سے احکامات جاری کر دئیے گئے ہیں ،جہاں حلقہ بندیاں ہو چکی ہیں وہاں بلدیاتی انتخابات ہوں گے ، جہاں حلقہ بندیاں نہیں ہوئیں وہاں حلقہ بندیوں کا شیڈول جاری کرنے کے احکامات آئے ہیں ۔اب پنجاب کی باری ہے ۔پنجاب حکومت نے الیکشن کمیشن کو انتخابات کے انعقاد کیلئے پندرہ دسمبر سے پندرہ جنوری تک کا وقت دیا تھا لیکن بعد ازاں مختلف محکموں کی جانب سے ان ایام میں سموگ کے باعث انتخابی شیڈول کو ناقابل عمل قرار دیتے ہوئے التوا کی درخواست کی گئی تھی ۔پنجاب حکومت نے الیکشن کمیشن کو انتخابی شیڈول کے بارے میں اپنے فیصلے سے آگاہ کرنا تھا مگر آج جمعرات کو یہ میٹنگ ممکن نہیں بن رہی، اطلاعات تو یہ ہیں کہ پنجاب حکومت نے بلدیاتی انتخابات کے شیڈول کیلئے چار ،گیارہ اور سترہ اپریل کی تاریخیں تجویز کی ہیں ،اگر الیکشن کمیشن اس سے قبل انتخابات کے انعقاد پر مصر رہے گا تو پنجاب نے رمضان المبارک سے قبل 30جنوری کو پہلے مرحلہ کے شیڈول کا اعلان تجویز کیا ہے لیکن دوسرے مراحل پھر عیدالفطر کے بعد ہوں گے ۔ کیا الیکشن کمیشن پنجاب حکومت کی تجویز کردہ شیڈول کی تجاویز کو تسلیم کرے گا اور انتخابی عمل پر پیش رفت ہوگی ،اس حوالے سے آئندہ ہفتے کا اجلاس اہم ہوگا ۔

اطلاعات یہی ہیں کہ الیکشن کمیشن پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کیلئے مارچ اپریل سے پہلے کا ہی شیڈول دے گا ،لہٰذا اب دیکھنا یہ ہوگا کہ کیا اسلام آباد ،خیبر پختونخوا اور پنجاب میں حکومت بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے پیش رفت کر پائے گی؟اس حوالے سے انتخابی امور کے ماہرین مطمئن نظر نہیں آ رہے جن کا کہنا ہے کہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد بنیادی طور پر الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری ہے اور اسے ان انتخابات کیلئے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہیں اور وہ اس ضمن میں سرگرم نظر آتا ہے ۔ لیکن اگر زمینی اور سیاسی حقائق کا جائزہ لیا جائے تو بظاہر حکومتیں اور حکمران جماعتیں بلدیاتی انتخابات سے اپنی کمٹمنٹ تو ظاہر کرتی نظر آتی ہیں اور انتخابات یقینی بنانے کی بات کرتی ہیں لیکن عملاً ایسی صورتحال نہیں، اسلام آباد کا انتخابی شیڈول آنے کے بعد ابھی ان کے انعقاد بارے حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا اور خیبر پختونخوا کا شیڈول آنے کے بعد پختونخوا حکومت کا یہ بیان بھی ریکارڈ پر ہے کہ یہاں منتخب حکومت نہیں گورنر راج ہے اور اس کیفیت میں انتخابی عمل میں پیش رفت ممکن نہیں ہوگی ۔پنجاب میں بھی بلدیاتی انتخابات کا انعقاد نظر نہیں آ رہا اور اس کی بنیادی وجہ سیاسی حکومتوں کی عدم دلچسپی، قانونی پیچیدگیاں، سکیورٹی اقدامات اور موسمی عوامل شامل ہیں۔

پنجاب میں 2015کے بعد سے اب تک بلدیاتی انتخابات نہیں ہوئے ، اسلام آباد میں یہ سلسلہ پانچ مرتبہ التوا کا شکار ہوا ہے اور خیبرپختونخوا کی صورتحال بھی اس سے مختلف نہیں ۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ انتخابی شیڈول پر عملدرآمد ہو پاتا ہے یا نہیں ۔ بلدیاتی انتخابات کے حوالہ سے پیش رفت بارے ماہرین کی رائے یہ ہے کہ بلدیاتی انتخابات کا عمل مجوزہ 28ویں ترمیم کے بعد ہی ممکن بن پائے گا، ان کا کہنا ہے کہ سب کو معلوم ہے کہ صوبائی حکومتیں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد پر پیش رفت کیوں نہیں کرتیں اور خصوصاً اس ضمن میں اراکین اسمبلی کے تحفظات بھی آڑے آتے ہیں ۔مجوزہ 28ویں ترمیم کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ اس میں جہاں نئے صوبوں کے حوالے سے پیش رفت ہورہی ہے وہیں ملک میں ایک مضبوط بلدیاتی سسٹم کے انعقاد کو یقینی بنانے پر کام ہو رہا ہے ۔ بلدیاتی انتخابات کو آئینی تحفظ دیتے ہوئے انہیں چاروں صوبوں میں ایک ہی وقت میں کرانے کی تجویز سامنے آ سکتی ہے ،اس نئے نظام کے تحت بلدیاتی سسٹم مضبوط اور بلدیاتی اراکین بااختیار ہوں گے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...