مکمل ویزا،پاسپورٹ پر مسافر کو بیرون ملک جانے سے نہیں روکا جاسکتا:سپریم کورٹ
جہاز ڈوبنے سے امیگریشن کا تعلق نہیں بنتا، مسافر یہاں سے جہاز پر گئے تھے ، کشتی پر نہیں:جسٹس محمد علی مظہر، ریمارکس شواہد ہیں تو قانون کے مطابق انکوائری کی جائے ، لیبیا کشتی حادثہ کیس میں FIAافسران کی بحالی کیخلاف کیس نمٹا دیا گیا
اسلام آباد (کورٹ رپورٹر)سپریم کورٹ نے لیبیا کشتی حادثہ کیس میں ایف آئی اے کے افسران کی بحالی کے خلاف دائر درخواستیں نمٹا دیں اور قرار دیا کہ اگر ملزمان کے خلاف شواہد موجود ہیں تو قانون کے مطابق باقاعدہ انکوائری کی جائے ، آئین کے آرٹیکل 10-A کے تحت منصفانہ ٹرائل اور دفاع ہر شہری کا بنیادی حق ہے ۔ جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے کہ اگر کسی مسافر کے پاس مکمل ویزہ اور پاسپورٹ موجود ہو تواسے بیرون ملک جانے سے نہیں روکا جا سکتا،سفری دستاویزات مکمل ہونے کی صورت میں ایف آئی اے افسر کا کیا قصور ہے ؟ جہاز ڈوبنے سے امیگریشن کا تعلق نہیں بنتا، مسافر یہاں سے جہاز پر گئے تھے ، کشتی پر نہیں۔ جسٹس شاہد بلال حسن نے ریمارکس دیئے کہ سعودی عرب میں بھکاریوں کی پیکنگ کی گئی، جنوبی پنجاب میں بھکاریوں کے گروہ بنے ہیں۔ ایف آئی اے نے ملتان ایئرپورٹ پر احرام باندھے مسافروں کو آف لوڈ کیا تھا۔ میں 35 سال سے ان معاملات سے واقف ہوں، میرے بھائی اور دوست ایف آئی اے میں ہیں۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ 250 افراد تفریحی ویزے پر لیبیا گئے جن میں سے 155 کشتی حادثے میں جاں بحق ہوئے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments