فضل الرحمٰن کو کمیٹی کی چیئرمین شپ،گھر دیا جائے ،طاہر اشرفی

 فضل الرحمٰن کو کمیٹی کی چیئرمین شپ،گھر دیا جائے ،طاہر اشرفی

وفاقی وزیر کا درجہ ،جہاز استعمال کرنیکی اجازت ، سب کو حصہ ملاتو انکو بھی ملنا چاہیے حکمرانوں نے بلاوجہ ناراض کیا،بزرگ ہیں، بلڈ پریشر ہائی ہو تو آرام کروایا کریں

 لاہور (سیاسی نمائندہ) چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ طاہر محمود اشرفی نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکمرانوں نے ان کے ساتھ زیادتی کی، اگر خیبر پختونخوا میں سب کو حصہ دیا گیا تو مولانا  فضل الرحمٰن کو بھی ان کا حصہ دینا چاہیے تھا، انہوں نے مشورہ دیا کہ مولانا کے لیے ایک بڑی کمیٹی بنائی جائے ، انہیں اس کا چیئرمین مقرر کرکے وفاقی وزیر کے برابر درجہ دیا جائے ، منسٹرز انکلیو میں گھر فراہم کیا جائے اور جہاز استعمال کرنے کی اجازت بھی دی جائے ، حکمرانوں کو چاہیے کہ ان کا فون اٹھایا کریں، انہیں بلاوجہ ناراض کیا ہوا ہے ، پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن ہمارے بزرگ ہیں اور عمر کا تقاضا ہے کہ ان کا خیال رکھا جائے۔

سنا ہے کہ وہ ایک وقت میں دس سے بارہ گولیاں کھاتے ہیں، ان کے ساتھیوں سے گزارش ہے کہ جب ان کا بلڈ پریشر ہائی ہو تو تقریر کروانے کے بجائے انہیں پانی پلا کر آرام کروایا کریں، انہوں نے کہا کہ پہلے پی ڈی ایم میں مولانا فضل الرحمٰن کو صدر بنانے کا وعدہ کیا گیا، لیکن یہ وعدہ پورا نہیں ہوا، بعد ازاں انہیں معلوم ہوا کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں انہیں کچھ نہیں ملنا تو ان کا رویہ تبدیل ہوگیا۔ ریاست مولانا فضل الرحمٰن کو راضی کرنا جانتی ہے ، تاہم جب معاملہ ماموں یا پھوپھا کے پاس آئے گا تو پھر اس کا حل بتایا جائے گا،قبل ازیں کانفرنس سے خطاب میں کہا پاکستان علماء کونسل کو ملک بھر میں ضلعی اور ڈویژنل سطح پر یوتھ کونسل کے ذریعے مزید مضبوط کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر، وزیراعظم شہباز شریف اور وزارت خارجہ ملکی صورتحال کے حوالے سے اہم کردار ادا کر رہے ہیں، اگر غوثیوں کا ہدف مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ ہے تو پوری قوم سعودی عرب کے تحفظ کے لیے کھڑی ہوگی۔  

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...