فضل الرحمن کا بیانیہ:متحدہ اپوزیشن کے قیام کی کوششیں معدوم
کچھ حلقوں کا دباؤ ، سب مولانا کیخلاف یک زبان، یہ پی ٹی آئی کیلئے بھی پیغام
(تجزیہ :سلمان غنی)
سربراہ جے یو آئی (ف)فضل الرحمن کے حکومت و ریاست مخالف طر ز عمل خصوصا دھشت گردی کے حوالہ سے انکی جانب سے اختیار کئے جانے والے بیانیہ نے خود اپوزیشن کی صفوں میں پریشانی پیدا کر رکھی ہے اور اس ضمن میں خود پی ٹی آئی بھی مکمل طور پر ان کے ساتھ کھڑی نظر نہیں آ رہی ۔خود پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر کے فضل الرحمن کے حالیہ بیانات پر تحفظات سے ظاہرہو رہا ہے وہ ان کے خیالات سے متفق نہیں۔ لہذا اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے ایوان سے باہر متحدہ اپوزیشن کے قیام کی کوششیں بھی معدوم نظر آ رہی ہیں اور اس ضمن میں 10 نومبر سے قبل اے پی سی کا انعقاد بھی ممکن نظر نہیں آ رہا۔لہذااس امر کا تجزیہ ضروری ہے کہ کیا متحدہ اپوزیشن کے قیام پر پیش رفت یا جے یو آئی کے ساتھ پی ٹی آئی کھڑی ہو پائے گی،کوئی بڑی عوامی تحریک چل سکے گی؟۔ بلا شبہ حکومت اور اپوزیشن دونوں فضل الرحمن اور انکی جماعت کی اہمیت و حیثیت کو سمجھتے ہیں ،ماضی قریب تک حکومت جے یو آئی اور اسکی لیڈر شپ مولانا فضل الرحمن کی جانب سے حکومت مخالف بیانیہ کے باوجود اسے ٹارگٹ کرنے سے گریزاں ر ہی مگر حا ل ہی میں ان کے قومی اسمبلی سے خطاب میں پختونخوا میں گورنر راج اور تہران کانفرنس میں نمائندگی بارے تحفظات کے باعث حکومت کا پیمانہ صبر چھلک پڑا۔
حکومت نے فضل الرحمن کے سیاسی کردار کو بری طرح ٹارگٹ کیا اور ان کی سیاست کو مالی اور حکومتی مفادات سے جوڑتے ہوئے بہت سے سوالات کھڑے کر دئیے اور اب خود اپوزیشن بھی فضل الرحمن کے ساتھ ملنے اور چلنے سے گریزاں نظر آ رہی ہے ،جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی مزاحمتی کردار کی بجائے مفاہمتی کردار کی طرف لوٹ رہی ہے اور حکومت سے مذاکراتی عمل کی خواہاں ہے اور اب پختونخوا میں علی امین گنڈا پور نے بھی جماعت کے اندر نئی صورتحال طاری کر دی ہے ۔ لہذا پی ٹی آئی تو فی الحال حکومت کے خلاف کسی بڑی مزاحمتی عمل کی پوزیشن میں نہیں جبکہ اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی کو اپنی سیاسی بقا کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔پی ٹی آئی مولانا کی احتجاجی صلاحیت سے فائدہ تو اٹھانا چاہتی ہے مگر انہیں اپوزیشن لیڈر کا کردار کبھی نہیں دے گی اور مولانا بھی اپنا کردار بیانات اور اعلانات تک محدود رکھے ہوئے ہیں ، جہاں تک فضل الرحمن کے بیانات پر پیدا شدہ صورتحال میں حکومتی حکمت عملی کا سوال ہے تو جب ایوان میں فضل الرحمن نے خصوصاً خواجہ آصف کے بحیثیت وزیر دفاع کے کردار کو ٹارگٹ کیا اور خصوصا ًتہران کانفرنس سے ان کی عدم حاضری کا سوال اٹھایا تو یہ کچھ حلقوں کے لئے خطرے کی گھنٹی تھی اور پھر جب حکومت پر اس حوالہ سے دباؤ آیا تو سب فضل الرحمن کے خلاف یک زبان ہو کر برس پڑے اور ان پر ملکی مفادات کی پامالی کے الزامات جڑ دئیے ، یہ عمل خود اپوزیشن اور پی ٹی آئی کیلئے بھی پیغام تھا اور اپوزیشن دفاعی محاذ پر چلی گئی،مذکورہ صورتحال سے نکلنے میں اپوزیشن کو اب وقت لگے گا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments