"AIZ" (space) message & send to 7575

دو رۂ اسلام آباد

اسلام آباد پاکستان کا دارالحکومت ہے‘ ایوانِ صدر، ایوانِ وزیراعظم، پارلیمنٹ ہاؤس، سپریم کورٹ، پی ٹی وی کا ہیڈ آفس اور غیر ملکی سفارتخانوں سمیت بہت سی اہم عمارتیں اسی شہر میں واقع ہیں۔ اسلام آبادکی شاہراہیں کشادہ اور عمارتیں دلنشین اور خوبصورت ہیں۔ اسلام آباد میں ہریالی اور سبزے کی فراوانی نظر آتی ہے۔ یہاں موسم گرما میں اعتدال اور سردیوں میں پہاڑی علاقوں کی قربت کی وجہ سے قدرے ٹھنڈک پائی جاتی ہے۔ یہاں آ کر انسان کو کشادگی کا احساس ہوتا ہے۔ اسلام آباد میں اہم قومی و بین الاقوامی تقریبات کا انعقاد ہوتا رہتا ہے جن میں شرکت کے لیے مجھے گاہے گاہے اسلام آباد جانے کا موقع میسر آتا رہتا ہے اور اس دوران بہت سی اہم شخصیات سے ملاقات بھی ہوتی ہے اور اہم تقریبات میں ان سے گفتگو کرنے کا موقع بھی ملتا ہے۔
22 نومبر کو سعودی سفارتخانے نے مجھ سے رابطہ کیا اور بتلایا کہ امام کعبہ الشیخ صالح بن حمید‘ جو سعودی مجلس شوریٰ کے سپیکر بھی رہ چکے ہیں اور سعودی عرب کے بڑے علما میں شمار ہوتے ہیں‘ پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے ہیں۔ اس دورے کے دوران جہاں انہوں نے بہت سے اہم سیاسی اور مذہبی رہنماؤں سے ملاقات کرنی ہے‘ اُن کی آپ سے بھی ملاقات ہونی چاہیے۔ امام کعبہ شیخ صالح بن حمید سعودی عرب میں اپنی علمی اور دینی کاوشوں کی وجہ سے ممتاز ہیں۔ ان کی پاکستان آمد یقینا اہلِ وطن کے لیے خوشی اور مسرت کا باعث تھی اور دینی طبقات اس عظیم علمی شخصیت کی آمد پر دِیدہ و دِل فراشِ راہ تھے۔ اس موقع پر ان سے ملاقات کی دعوت یقینا کسی اعزاز سے کم نہ تھی۔ میں نے اپنے رفقا انجینئر محمد عمران اور محمد عرفان سے رابطہ کیا۔ برادر ساجد وکیل اور مذکورہ دونوں ساتھیوں کے ہمراہ اسلام آباد روانہ ہو گیا۔ اسلام آباد میں قرآن و سنہ موومنٹ کے نمائندگان مولانا عمر فاروق اور طیب رشید کو بھی اس ملاقات میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ اگلے دن جمعرات کو ساڑھے تین بجے اسلام آباد کے ایک فائیو سٹار ہوٹل میں امام کعبہ سے ملاقات طے تھی۔ امام کعبہ سے ملاقات کا اشتیاق تمام دوست احباب کے دل میں موجود تھا۔ جب ہم ہوٹل کے اُس کمرے میں پہنچے جہاں امام کعبہ قیام پذیر تھے تو تمام دوستوں میں بے تابی پائی جا رہی تھی۔ ہم ان کے ہوٹل کے کمرے سے متصل لاؤنج میں داخل ہوئے تو امام صاحب کے سیکرٹری نے ہمارا استقبال کیا۔ کچھ ہی دیر کے بعد امام کعبہ بھی جلوہ افروز ہوئے۔ انہوں نے پُرتپاک انداز میں ہمارا خیر مقدم کیا۔ حال چال دریافت کرنے کے بعد مختلف امور پر ان کے ساتھ دلچسپ گفتگو ہوئی۔ امام کعبہ نے اس موقع پر اہلِ پاکستان کی حجازِ مقدس سے محبت پر مسرت اور اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس موقع پر والد گرامی علامہ احسان الٰہی ظہیرؒ کی کتاب ''القادیانیہ‘‘ کا ذکر بھی کیا اور بتایا کہ زمانہ طالب علمی میں انہوں نے اپنی ایک اسائنمنٹ بنانے کے دوران اس کتاب سے بھرپور طریقے سے استفادہ کیا تھا۔ انہوں نے محترم چچا ڈاکٹر فضل الٰہی کا بھی ذکر کیا کہ ان کی کتابیں علمی اعتبار سے بہت مفید ہوتی ہیں۔ دونوں ملکوں میں تعلیم و تدریس کے معیار پر بھی گفتگو ہوئی۔ جب ان کے سامنے یہ بات آئی کہ میں آج کل پی ایچ ڈی کے تحقیقی مقالے پر کام میں مصروف ہوں تو انہوں نے اس مقالے میں بڑی دلچسپی کا اظہار کیا اور مقالے کے عنوان ''نفسیاتی مسائل کا کتاب و سنت کی روشنی میں حل‘‘ پر بہت قیمتی تجاویز دیں۔ اس موقع پر اہلِ فلسطین کے حوالے سے بھی انہوں نے غیر معمولی جذبات کا اظہار کیا۔ ہم نے ان کے سامنے اس بات کو رکھا کہ امت اہلِ فلسطین کی زبوں حالی اور مظلومیت پر انتہائی بیتاب ہے تو امام کعبہ نے اس موقع پر ان کے حق میں بھرپور طریقے سے دعا کی اور ان کے دشمنوں اور ا ن پر ظلم کرنے والوں کے لیے بددعا بھی فرمائی۔ اس موقع پر امام کعبہ الشیخ صالح بن حمید نے دنیا کے دیگر مسلمانوں کے لیے بھی دردِ دل سے دعائے خیر کی اور یہ ملاقات اپنے جلو میں بہت سی خوبصورت یادوں کو لیے ہوئے اختتام پذیر ہو گئی۔
امامِ کعبہ سے ملاقات کے بعد اسلام آباد کی ایک سوسائٹی میں جانا ہوا جس کے ایک سینئر ذمہ دار عمر فاروق میرے سکول کے کلاس فیلو اور بچپن کے دوست ہیں۔ ان کے ساتھ بچپن اور ماضی کی بہت سی یادوں کو تازہ کرنے کا موقع ملا۔ یقینا ماضی کی یادیں اور زمانہ طالب علمی کی باتیں انسان کو ماضی میں کچھ اس انداز سے لے جاتی ہیں کہ انسان ماضی کے دور میں چلا جاتا ہے جہاں انسان کے بچپن کی معصومانہ باتوں کی یادیں اور خوشبو رچی بسی ہوتی ہے۔بچپن کا دور اس اعتبار سے منفرد ہوتا ہے کہ انسان معاشرے کے تفکرات سے بالکل آزاد ہوتا ہے۔ یہیں پر استحکام پاکستان پارٹی کے مرکزی رہنما عبدالعلیم خان سے بھی ملاقات ہوئی۔ عبدالعلیم خان بھی سکول کے زمانے میں میرے کلاس فیلو رہے اور ان کے ساتھ بھی ماضی کی بہت سی خوبصورت یادیں وابستہ ہیں۔ پُرتپاک اور محبت بھری ملاقات نے ماضی کی بہت سی یادوں کو تازہ کیا اور اس موقع پر یوں محسوس ہوا جیسے زمانے اور وقت کی رفتار مستقبل کی طرف بڑھنے کے بجائے ماضی کی طرف بڑھ رہی ہے۔ یقینا گزرتا ہوا وقت انسان کو اس بات کا بھی احساس دلاتا ہے کہ انسان ایک کمزور مخلوق ہے اور جلد یا بدیر اس کو اپنے مالک و خالق کے پاس پلٹنا ہے۔ گزرتا ہوا وقت درحقیقت ہمیں موت کی طرف دھکیل رہا ہوتا ہے لیکن انسانوں کی بہت بڑی تعداد اپنے انجام سے غافل ہو کر اپنی زندگی کے صبح و شام کو بسر کر رہی ہے اور اس بات کو مکمل طور پر فراموش کر چکی ہے کہ ہمیں جلد یا بدیر مٹی میں مل کر مٹی ہو جانا ہے۔ ہمیں اس حوالے سے اپنے معاملات کو بہتر بنانا چاہیے ۔
اس کے بعد جمعہ کی شام کو سیکٹر G10/2 کے مرکزامام ابن تیمیہؒ میں قاری عمر فاروق کے پاس جا پہنچے جہاں قرآن و سنہ موومنٹ اسلام آباد کے ذمہ داران محمد طیب رشید، عبدالمعین، سفیان الثوری اور نوید قمر بھائی موجود تھے۔ ان تمام بھائیوں نے پُرتپاک انداز سے استقبال کیا اور 25 نومبر کو راولپنڈی آرٹس کونسل کے پروگرام کی تیاریوں سے آگاہ کیا۔ آرٹس کونسل کا یہ پروگرام اس اعتبار سے اہم تھا کہ قرآن و سنہ موومنٹ کے کارکنان نے بھرپور انداز میں اس کی تشہیری مہم کو چلایا۔ ہفتے کی شام کو ہونے والے اس پروگرام میں بڑی تعداد میں مقررین نے شرکت کی جن میں مولانا یحییٰ عارفی، ریاض الرحمن حیدر، قیم الٰہی ظہیر، ریاست حسین شاہ، حافظ فیصل بلال و دیگر مقررین شامل تھے۔ میں نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے جن گزارشات کو سامعین کے سامنے رکھا، ان کو کچھ کمی بیشی اور ترامیم کے ساتھ قارئین کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔
پاکستان کے حصول کا مقصد ایک اسلامی فلاحی ریاست کا قیام تھا۔ قیام پاکستان کے لیے نوجوانوں، بزرگوں اور خواتین نے بڑے پیمانے پر قربانیاں دیں، اپنے گھروں کو خیرباد کہا اور پاکستان آ کر آباد ہو گئے۔ ان قربانیوں کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ ایک ایسی ریاست کو حاصل کیا جائے جس میں اسلامی قوانین کے علمبرداری ہو۔ بدنصیبی سے ایک عرصے سے ملک میں فواحش اور منکرات پر قابو نہیں پایا جا سکا، شراب، جوئے اور قمار بازی پر بھی مکمل پابندی عائد نہیں کی جا سکی اور بینکوں میں سودی لین دین کے کائونٹرز بھی جاری و ساری ہیں۔ ان منکرات کے خاتمے کے لیے حکومت کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے لیکن حکومت ان معاملات میں کردار ادا کرنے کے بجائے ٹرانس جینڈر بل اور اس قسم کی دیگر خرافات کی بڑھوتری میں مصروف ہے۔ ملک میں ایک عرصے سے عورت مارچ کے نام پر ایسے پروگرامز کا انعقاد کیا جا رہا ہے جس سے ملک کے تہذیبی ڈھانچے کو شدید قسم کے خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔ ملک بھر میں جنسی جرائم کے واقعات بھی آئے روز سننے کو ملتے رہتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل قومی اسمبلی میں بچوں کے ساتھ برائی کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے سزائے موت کی سزا کو تجویز کیا گیا تھا لیکن تاحال اس پہ عمل نہیں ہو سکا۔
میں نے اس موقع پر کہا کہ ملکی معیشت ایک عرصے سے دھچکوں کا شکار ہے اور بدستور تنزلی کے راستے پہ گامزن ہے۔ اس تنزلی سے معیشت کو باہر نکالنے کے لیے پاکستان سے سودی نظام کو ختم کرنا ہو گا۔ ملک میں برآمدات اور صنعتکاری کے فروغ کے لیے حکومت کو تجارتی اعتبار سے تاجروں کو ریلیف دینا چاہیے اور ملک میں کاروبار کے ذرائع اور مواقع کو بڑھانا چاہئے تاکہ ملک میں مقیم لوگ بیرونِ ملک جانے کے بجائے ملک میں رہتے ہوئے ہی اچھا روزگار تلاش کر سکیں۔ اسی طرح ٹیکسوں کی شرح کو کم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان میں معاشی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی ہو۔ پاکستان کے دفاعی اثاثوں کا تحفظ کرنا جہاں عسکری اداروں کی ذمہ داری ہے وہیں دفاعی اثاثوں کی حفاظت کے لیے عوام کو بھی ہوشیار، چوکنا اور بیدار ہوکر دفاعی اداروں کی پشت پر کھڑے ہونا چاہیے۔ پاکستان کو بین الاقوامی تنازعات کے حل کیلئے بھی مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔ جہاں جہاں مسلمان مظلوم ہیں ان کی حمایت کے لیے بھرپور طریقے سے آواز اٹھانی چاہیے۔ پاکستان کو بین الاقوامی برادری کے ساتھ مساوی بنیادوں پر تعلقات رکھنے چاہئیں اور اپنی معیشت کو فروغ دینے کے لیے قرضوں کے بجائے خود انحصاری کے راستوں پر چلنا چاہیے۔ پاکستان کی بقا اور استحکام کے لیے اسلامی تعلیمات کی پیروی اور آئین کی سربلندی انتہائی ضروری ہے۔ آئینِ پاکستان کتاب و سنت کی عملداری کی ضمانت دیتا ہے لیکن بدنصیبی سے عرصۂ دراز سے اس پر صحیح طریقے سے عمل نہیں ہو سکا جس کی وجہ سے ملک میں نظریاتی اعتبار سے کشمکش کی کیفیت نظر آتی ہے۔ بڑی سیاسی جماعتوں نے کبھی اسلامی قوانین کی افادیت کو عملی اعتبار سے اہمیت نہیں دی۔ ملک کی تمام دینی جماعتوں کو ایک پیج پر آکر اللہ تبارک وتعالیٰ کی دین کی سربلندی کے لیے یکسوئی سے اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے اور اس حوالے سے باہمی و فروعی اختلافات کو نظر انداز کرنا چاہیے ۔
ملک کو سیاسی استحکام کے راستے پر ڈالنے کے لیے پُرامن اور شفاف انتخابات کی ضرورت ہے اور اس حوالے سے ملک کے تمام اداروں کو اپنی ذمہ داریوں کو نبھانا چاہیے۔ سامعین نے اس موقع پر تمام مقررین کی تقاریرکو بڑے جذبے سے سنا اور بھرپور انداز سے ان کی تائید کی۔ یہ اجتماع اپنے جلو میں بہت سی خوبصورت یادوں کو لیے ہوئے اختتام پذیر ہوا۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں