حافظ فیصل محمود جانباز دین سے محبت کرنے والے ایک بہترین عالم اور خطیب ہیں۔ ان کی خطابت اتنی مؤثر ہے کہ سننے والوں کو عمل صالح کی طرف راغب کر دیتی ہے۔ چند روز قبل مجھے اطلاع ملی کہ حافظ صاحب کا 14 ماہ کا بچہ شدید علیل ہے اور اس کو گوجرانوالہ کے ایک ہسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔ مجھے یہ بات سن کر بڑی تشویش ہوئی۔ میں نے بیٹے قیم الٰہی ظہیر سے کہا کہ وہ ہسپتال کے سینئر ڈاکٹرز سے رابطہ کرے۔ قیم نے ڈاکٹروں سے رابطہ کیا اور میری بھی متعلقہ ڈاکٹرصاحب سے بات کرائی۔ ڈاکٹرصاحب نے بڑی گرم جوشی سے مجھے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ حافظ فیصل کے بیٹے کا علاج بڑی توجہ کے ساتھ کیا جائے گا۔ بعد ازاں فیصل بھائی سے بات ہوئی تو انہوں نے بھی بتایا کہ ڈاکٹرز خصوصی توجہ دے رہے ہیں اور امید ہے کہ بچے کی طبیعت جلد سنبھل جائے گی مگر ہفتے کی رات اطلاع ملی کہ فیصل محمود کا بیٹا بیماری کی شدت کو سہہ نہیں پایا اور اس دنیائے فانی سے کوچ کرگیا ہے۔ یہ بات سن کر میرے دل کو سخت چوٹ لگی۔ میں نے حافظ فیصل محمود سے اس سانحہ پر تعزیت کی۔ ان کی آواز آنسوئوں میں ڈوبی ہوئی تھی اور وہ اپنے بچے کی جدائی پر شدید صدمے کی کیفیت میں تھے۔ میں نے انہیں ممکن حد تک تسلی اور دلاسا دیا کہ اس سانحہ پر صبرکریں‘ اس لیے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا امر انسانوں کی خواہشات اور ان کی تدابیر پر غالب آ جاتا ہے۔
ایسے واقعات مختلف اوقات میں سننے کو ملتے رہتے ہیں کہ کسی کا محبت کرنے والا عزیز اچانک اس کو داغِ مفارقت دے کر اسے صدمے میں مبتلا چھوڑ کر چلا گیا۔ میں نے خود بھی زندگی میں اس طرح کے بہت سے واقعات اپنی آنکھوں سے دیکھ رکھے ہیں کہ جب محبت کرنے والے عزیز دنیا سے رخصت ہوتے ہیں تو انسان بہت دیر تک صدمات کی لپیٹ میں رہتا ہے۔ میں 15 برس کا تھا کہ جب والد گرامی علامہ احسان الٰہی ظہیر اس دنیائے فانی سے کوچ کر گئے۔ وہ بالکل صحتمند اور تندرست تھے اور کبھی یہ سوچا بھی نہیں تھا کہ اس قدر جوانی میں وہ دنیا سے کوچ کر جائیں گے۔ بھری جوانی میں دنیا سے والد کی رخصتی طویل عرصے تک شدید صدمے کا سبب رہی اور آج بھی خوشی اور غمی کے موقع پر ان کی یاد ستاتی رہتی ہے۔ محض چار برس بعد‘ 19 برس کی عمر میں والدہ محترمہ بھی داغِ مفارقت دے گئیں اور برسہا برس گزرنے کے باوجود ان کی شفقتیں اور محبتیں یاد آتی رہتی ہیں۔ ان تمام صدمات کو سہنے کے بعد اس بات کا یقین مزید پختہ ہو جاتا ہے کہ یقینا یہ دنیا فانی ہے اور یہاں سے ہر کسی نے چلے جانا ہے۔
اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ جلد یا بدیر انسان کو اس دنیا سے جانا ہوگا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ التکاثر کی آیات 1 تا 8 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''تمہیں (مال کی) حرص نے غافل کر دیا۔ یہاں تک کہ قبریں جا دیکھیں۔ ایسا نہیں! آئندہ تم جان لو گے۔ پھر ایسا نہیں! یقینا آئندہ تم جان لو گے۔ ایسا نہیں چاہیے‘ کاش تم یقینی طور پر جانتے۔ البتہ تم ضرور دوزخ کو دیکھو گے۔ پھر تم اسے ضرور بالکل یقینی طور پر دیکھو گے۔ پھر اس دن تم سے نعمتوں کے متعلق پوچھا جائے گا‘‘۔
اسی طرح سورۃ الرحمن کی آیت: 26 میں ارشاد فرمایا: ''جو کوئی زمین پر ہے فنا ہو جانے والا ہے۔ اور آپ کے پروردگار کی ذات ہی باقی رہے گی‘ جو بڑی شان اور عظمت والا ہے‘‘۔ سورۃ القصص کی آیت: 88 میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ''اور اللہ کے ساتھ اور کسی معبود کو نہ پکار‘ اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں‘ اس کی ذات کے سوا ہر چیز فنا ہونے والی ہے‘ اسی کا حکم ہے اور اسی کی طرف تم لوٹ کر جائو گے‘‘۔
ان تمام آیات مبارکہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ انسان کو جلد یا بدیر اپنے خالق اللہ کے سامنے پیش ہونا ہو گا۔ یہ انسان کی بہت بڑی کوتاہ بینی ہے کہ اپنے قریبی دوست احباب‘ پیاروں‘ والدین اور رشتہ داروں کے جنازوں کو دیکھ کر بھی نجانے کیوں اس غلط فہمی کا شکار ہو جاتا ہے کہ میں شاید موت کے شکنجے سے بچ نکلوں گا۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں جو بھی آیا ہے‘ اس کو جلد یا بدیر یہاں سے رخصت ہونا ہوگا۔ انسان کو چاہیے کہ اس زندگی میں جتنے ایام اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس کو عطا کیے ہیں ان کو غنیمت سمجھتے ہوئے اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف رجوع کرے اور آخرت کی تیاری ابھی سے کرنے کی کوشش کرے۔ جو شخص اس زندگی کو غنیمت سمجھتے ہوئے آخرت کی تیاری کرتا ہے‘ اللہ تبارک وتعالیٰ اس کو کامیابیوں سے ہمکنارفرما دیتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۂ آلِ عمران کی آیت: 185 میں ارشاد فرمایا: ''ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے‘ اور تمہیں قیامت کے دن پورے پورے بدلے ملیں گے‘ پھر جو کوئی دوزخ سے دور رکھا گیا اور بہشت میں داخل کیا گیا‘ سو وہ کامیاب ہوا‘ اور دنیا کی زندگی سوائے دھوکے کی پونجی کے اور کچھ نہیں‘‘۔
اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید کے بہت سے دیگر مقامات پر بھی اس حقیقت کو واضح فرمایا کہ کامیابی انہی کو حاصل ہو گی جنہوں نے دنیا کی زندگی کو حرفِ آخر سمجھنے کے بجائے اخروی کامیابی کے لیے اس دنیا میں رہتے ہوئے تیاری کی ہو گی۔ ان کے مدمقابل وہ لوگ ناکام اور نامراد رہیں گے جنہوں نے سرکشی کا راستہ اختیار کیا۔
اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ النازعات کی آیات 37 تا 41 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''چنانچہ جس نے سرکشی کی اور ترجیح دی دنیا کی زندگی کو۔ تو بیشک جہنم ہی ہے اس کا ٹھکانہ۔ لیکن جو کوئی ڈرا پیشی سے اپنے رب کے حضور‘ اور روکا اس نے اپنے نفس کو خواہشات کی پیروی سے۔ تو بیشک جنت ہی ہے اس کا ٹھکانہ‘‘۔
اسی طرح اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الکہف کی آیت: 103 تا 108 میں دونوں طرح کے لوگوں کے انجام کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: ''کہہ دو کیا میں تمہیں بتائوں جو اعمال کے لحاظ سے بالکل خسارے میں ہیں۔ (یہ وہ لوگ ہیں) جن کی ساری کوشش دنیا کی زندگی میں کھو گئی اور وہ خیال کرتے ہیں کہ بیشک وہ اچھے کام کر رہے ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کی نشانیوں کا اور اس کے روبرو جانے کا انکار کیا پھر ان کے سارے اعمال ضائع ہو گئے‘ سو ہم ان کے لیے قیامت کے دن کوئی وزن قائم نہیں کریں گے۔ سزا ان کی جہنم ہے‘ اس لیے کہ انہوں نے کفر کیا اور میری آیتوں اور میرے رسولوں کا مذاق بنایا تھا۔ بیشک جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کیے‘ ان کی مہمانی کے لیے فردوس کے باغ ہوں گے۔ ان میں ہمیشہ رہیں گے وہاں سے جگہ بدلنا نہ چاہیں گے‘‘۔
سورۃ القارعہ کی آیات 6 تا 11 میں اسی حقیقت کو یوں بیان کیا گیا: ''تو جس کے اعمالِ (نیک) تول میں زیادہ ہوں گے۔ تو وہ خاطر خواہ عیش میں ہو گا۔ اور جس کے اعمالِ (صالح) تول میں کم ہوں گے۔ تو اس کا ٹھکانا ہاویہ ہو گا۔ اور آپ کو کیا معلوم کہ وہ کیا چیز ہے۔ وہ دہکتی ہوئی آگ ہے‘‘۔
ان تمام آیاتِ مبارکہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ قیامت کے دن کامیابی کے لیے انسان کے اعمال کی درستی ازحد ضروری ہے۔ جس نے اللہ تبارک وتعالیٰ کی رضا کو طلب کیا ہو گا اور دنیا کی زندگی میں اس کے لیے کوشش کی ہو گی‘ اللہ تبارک وتعالیٰ کل آخرت میں اس کو کامیاب و کامران کر دیں گے۔ اس کے برعکس جس نے اس دنیا کی زندگی میں اپنی جائز اور ناجائزخواہشات کی تکمیل کا راستہ اختیار کیا ہوگا وہ ابدی زندگی میں ناکام ونامراد ہو جائے گا۔
دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں بصیرت دے تاکہ ہم دنیا میں رہتے ہوئے اپنی اخروی زندگی کو سنوارنے کے لیے جستجو کرکے حقیقی معنوں میں کامیاب ہو سکیں‘ آمین!