"AIZ" (space) message & send to 7575

بے راہ روی کی روک تھام

دنیا بھر میں 14 فروری کو ویلنٹائنز ڈے منایا جاتا ہے‘ جس میں بہت سے ایسے امور کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے جو دینِ اسلام کے حیا اور حجاب کے تصور کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتے۔ اس کے علاوہ بھی آج کل کئی ایسے رواج چل پڑے ہیں جو معاشرے میں برائی اور بدکاری کی راہ ہموار کر رہے اور بے راہ روری کو فروغ دیتے ہیں۔ قرآن مجید اور احادیث طیبہ میں بے راہ روی کی شدید مذمت کی گئی ہے اور اس کے قریب جانے سے بھی منع کیا گیا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۂ بنی اسرائیل کی آیت: 32 میں ارشاد فرماتے ہیں ''خبردار! زنا کے قریب بھی نہ پھٹکنا کیونکہ وہ بڑی بے حیائی ہے اور بہت ہی بری راہ ہے‘‘۔ قرآن مجید کے متعدد مقامات پرفحاشی اور بے راہ روی کی شدید مذمت کی گئی ہے اور اس حوالے سے سورۃ النور میں تفصیلی احکامات بیان کیے گئے ہیں۔ سورۃ النور میں برائی کے انسداد کے حوالے سے بہت سی اہم تدابیر بتلائی گئی ہیں جن میں سے بعض اہم تدابیر درج ذیل ہیں:
مردوں کا اپنی آنکھوں کو جھکا کر رکھنا اور پاکدامنی کی حفاظت کرنا: سورۃ النور میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے مسلمان مردوں کو اپنی آنکھیں جھکانے اور پاک دامنی کے تحفظ کا حکم دیا ہے۔ سورۃ النور کی آیت: 30 میں ارشاد ہوا ''مسلمان مردوں سے کہہ دیں کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں‘ اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت رکھیں‘ یہی ان کے لیے پاکیزگی ہے‘ لوگ جو کچھ کریں اللہ سب سے خبردار ہے‘‘۔
عورتوں کو نگاہوں کو جھکا کر رکھنے اور پردہ کرنے کا حکم: اللہ تبارک وتعالیٰ نے جہاں مردوں کو اپنی نگاہوں کو جھکا کر رکھنے کا حکم دیا وہیں عورتوں کو پردہ داری کا حکم دیا گیا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ النور کی آیت: 31 میں ارشاد فرماتے ہیں ''مسلمان عورتوں سے کہہ دیں کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں‘ سوائے اس کے جو ظاہر ہے اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رہیں‘ اور اپنی آرائش کو کسی کے سامنے ظاہر نہ کریں‘ سوائے اپنے خاوندوں کے یا اپنے والد کے یا اپنے خسر کے یا اپنے لڑکوں کے یا اپنے خاوند کے لڑکوں کے یا اپنے بھائیوں کے یا اپنے بھتیجوں کے یا اپنے بھانجوں کے یا اپنے میل جول کی عورتوں کے یا غلاموں کے یا ایسے نوکر چاکر مردوں کے جو شہوت والے نہ ہوں یا ایسے بچوں کے جو عورتوں کے پردے کی باتوں سے مطلع نہیں۔ اور اس طرح زور زور سے پائوں مار کر نہ چلیں کہ ان کی پوشیدہ زینت معلوم ہو جائے‘ اے مسلمانو! تم سب کے سب اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرو تاکہ تم نجات پائو‘‘۔
بے نکاح مردوں اور عورتوں کے نکاح کا حکم: قرآن مجید نے بے نکاح مردوں اور عورتوں کے نکاح کا حکم دیا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ النور کی آیت: 32 میں ارشاد فرماتے ہیں ''تم میں سے جو مرد عورت بے نکاح کے ہوں ان کا نکاح کر دو اور اپنے نیک بخت غلام اور لونڈیوں کا بھی۔ اگر وہ مفلس ہوں گے تو اللہ انہیں اپنے فضل سے غنی بنا دے گا‘ اللہ کشادگی والا اور علم والا ہے‘‘۔
معاشی استحکام کی طلب میں نکاح مؤخر کرنے والوں کے لیے پاک دامنی کا حکم: جو لوگ معاشی استحکام کے حصول کیلئے اپنے نکاح کو مؤخر کرتے ہیں‘ قرآن مجید میں انہیں اپنے کردار کا تحفظ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ النور کی آیت: 33 میں ارشاد فرماتے ہیں ''اور ان لوگوں کو پاک دامن رہنا چاہیے جو اپنا نکاح کرنے کا مقدور نہیں رکھتے یہاں تک کہ اللہ انہیں اپنے فضل سے مالدار بنا دے‘ تمہارے غلاموں میں جو کوئی کچھ تمہیں دے کر آزادی کی تحریر کرانی چاہے تو تم ایسی تحریر انہیں کر دیا کرو اگر تم کو ان میں کوئی بھلائی نظر آتی ہو‘ اور اللہ نے جو مال تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے انہیں بھی دو‘‘۔
اپنے گھر کے علاوہ کسی بھی گھر میں داخل ہونے سے پہلے اجازت لینے کا حکم: جب انسان اپنے گھر کے علاوہ کسی اور گھر میں داخل ہو تو اس کو اجازت کے بغیر داخل نہیں ہونا چاہیے۔ اس لیے کہ ایسی صورت میں انسان بدنظری یا کسی فتنے کا شکار ہو سکتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ النور کی آیات: 27 تا 29 میں ارشاد فرماتے ہیں ''اے ایمان والو! اپنے گھروں کے سوا اور گھروں میں نہ جائو جب تک کہ اجازت نہ لے لو اور وہاں کے رہنے والوں کو سلام نہ کرلو‘ یہی تمہارے لیے سراسر بہتر ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔ اگر وہاں تمہیں کوئی بھی نہ مل سکے تو پھر اجازت ملے بغیر اندر نہ جائو۔ اگر تم سے لوٹ جانے کو کہا جائے تو تم لوٹ ہی جائو‘ یہی بات تمہارے لیے پاکیزہ ہے‘ جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ خوب جانتا ہے۔ ہاں! غیر آباد گھروں میں جہاں تمہارا کوئی فائدہ یا اسباب ہو‘ جانے میں تم پر کوئی گناہ نہیں۔ تم جو کچھ بھی ظاہر کرتے ہو اور جو چھپاتے ہو اللہ سب کچھ جانتا ہے‘‘۔
آرام کے اوقات میں کم عمر بچوں اور ملازموں کو رہائشی کمروں میں داخل ہونے سے پہلے اجازت لینے کا حکم: گھر میں عشا کے بعد‘ فجر سے پہلے اور ظہر کے بعد کئی مرتبہ انسان آرام کر رہا ہوتا ہے۔ ان اوقات کے دوران ماتحتوں اور کم عمر بچوں کو اجازت کے بغیر رہائشی کمروں میں داخل نہیں ہونا چاہیے۔ اس لیے کہ بغیر اجازت کمرے میں داخل ہونے کی صورت میں ان کے ذہن پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ النور کی آیت: 58 میں ارشاد فرماتے ہیں ''ایمان والو! تم سے تمہاری ملکیت کے غلاموں کو اور انہیں بھی جو تم میں سے بلوغت کو نہ پہنچے ہوں (اپنے آنے کی) تین وقتوں میں اجازت حاصل کرنا ضروری ہے۔ نمازِ فجر سے پہلے اور ظہر کے وقت جب کہ تم اپنے کپڑے اتار رکھتے ہو اور عشا کی نماز کے بعد‘ یہ تینوں وقت تمہاری (خلوت) اور پردہ کے ہیں۔ ان وقتوں کے ماسوا نہ تو تم پر کوئی گناہ ہے نہ ان پر۔ تم سب آپس میں ایک دوسرے کے پاس بکثرت آنے جانے والے ہو (ہی)‘ اللہ اسی طرح کھول کھول کر اپنے احکام تم سے بیان فرما رہا ہے۔ اللہ پورے علم اور کامل حکمت والا ہے‘‘۔
جھوٹی تہمت لگانے والوں کے لیے سخت سزا :جب انسان معاشرے میں کسی پر جھوٹی تہمت لگاتا ہے اور اپنے دعوے کے ثبوت کیلئے چار گواہ پیش نہیں کرتا تو ایسے شخص کو حدِّ قذف یعنی 80 کوڑوں کی سزا ملنی چاہیے تاکہ معاشرے میں افواہ سازی کی وجہ سے برائی کی نشر واشاعت نہ ہو۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ النور کی آیات: 4 تا 5 میں ارشاد فرماتے ہیں ''جو لوگ پاک دامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگائیں پھر چار گواہ نہ پیش کر سکیں تو انہیں اسّی کوڑے لگائو اور کبھی بھی ان کی گواہی قبول نہ کرو۔ یہ فاسق لوگ ہیں۔ ہاں! جو لوگ اس کے بعد توبہ اور اصلاح کر لیں تو اللہ بخشنے والا اور مہربانی کرنے والا ہے‘‘۔
جرم ثابت ہونے پر غیر شادی شدہ کے لیے کوڑوں اور شادی شدہ کے لیے سنگسار کا حکم: اسلام میں اگر بدکاری کے حوالے سے چار آئینی شہادتیں حاصل ہو جائیں تو مجرم کڑی سزا کا حقدار ہوتا ہے۔ غیر شادی شدہ شخص کو قرآن کے حکم کے مطابق سو کوڑوں اور شادی شدہ افراد کو احادیث کے مطابق حدِ رجم کی سزا ملنی چاہیے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ النور کی آیات: 2 تا 3 میں ارشاد فرماتے ہیں ''زناکار عورت و مرد میں سے ہر ایک کو سو کوڑے لگائو۔ ان پر اللہ کی شریعت کی حد جاری کرتے ہوئے تمہیں ہرگز ترس نہ کھانا چاہیے‘ اگر تمہیں اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہو۔ ان کی سزا کے وقت مسلمانوں کی ایک جماعت موجود ہونی چاہیے‘‘۔
اگر مذکورہ بالا تدابیر پر عمل کر لیا جائے تو معاشرے سے فحاشی‘ عریانی اور بے راہ روی کا خاتمہ ہو سکتا ہے اور معاشرہ طاہر اور مطہر ہو سکتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مسلم معاشروں کو فحاشی اورعریانی سے پاک کر کے عفت وعصمت کا فروغ فرمائے‘ آمین!

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں