سرائیکی ایشو کو سمجھ تو لیا جائے

نئے صوبوں یا سرائیکی صوبے کے حوالے سے جب بات کی جائے تو ہمیشہ الجھی ہوئی ، متضاد دلائل والی بحث کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔کئی لوگ یہ کہتے ہیں کہ نئے صوبے کی بات جاگیردار ، نواب اور سردار اس لئے کر رہے ہیں تاکہ ان کا مکمل طور پر تسلط قائم ہوجائے ۔ بعض لوگ اس کے برعکس یہ دلیل دیتے ہیں کہ نئے صوبہ نہ بننے کے اصل ذمے دار وہاں کے جاگیردار، سردار اور نواب ہیں، جو اسمبلیوں میں اس حوالے سے کوئی بات ہی نہیں کرتے۔ اب ان دونوں باتوں میں سے ایک ہی درست ہوسکتی ہے۔پچھلے کئی برسوں میں اس ایشو پر میں نے کئی بار لکھا، ہمیشہ اسی طرح کے دلچسپ ردعمل سے واسطہ پڑا۔ سرائیکی یا جنوبی پنجاب صوبے میں جاگیرداروں کے ممکنہ تسلط کے حوالے سے بات جب بار بار ہوئی تو میں نے تنگ آ کر کہا،'' بھائی لوگو،پہلی بات تو یہ ہے کہ اردو کا محاورہ ہے ''ماں سے زیادہ چاہے، پھاپھا کٹنی کہلائے‘‘، سرائیکیوں کے مفادات خود ان سے زیادہ کسی اور کو عزیز نہیں ہوسکتے، کسی اور کو اس حوالے سے زیادہ ٹینشن لینے کی ضرورت نہیں۔ ویسے بھی زندگیوں میں اتنی الجھنیں اور پریشانیاں ہیں، آپ لوگ خواہ مخواہ سرائیکی عوام کا دکھ اپنے کندھوں پر کیوں اٹھاتے ہیں؟یہ تو وہی دلیل ہے جو انگریز دیتے تھے کہ ہم نے ہندوستان پر حکومت کر کے انہیں کرپٹ اور نااہل حکمرانوں سے نجات دلائی ہے ۔ رڈ یارڈ کپلنگ نے نظم سفید آدمی کا بوجھ (The White Man's Burden) اسی لئے لکھی تھی کہ انگریز تسلط کا جواز پیدا کیا جاسکے ۔ پھر اگر آپ لوگ اتنے ہی جاگیردار دشمن ہیں تو ایک روڈ میپ کا اعلان کر دیں کہ ہم اگلے پانچ برسوں میںزرعی اصلاحات کے ذریعے سرائیکی علاقوں سے جاگیرداری کا خاتمہ کر دیں گے،پانچ برسوں تک کوئی نئے صوبے کی بات نہ کرے۔ ہم سب خاموش ہوجائیں گے کہ چلو پہلے جاگیرداری ختم ہوجائے، پھر اپنے صوبے کی تحریک چلائیں گے۔ اگر پچھلے ساٹھ برسوں میں کچھ نہیں ہوا اور انہی جاگیرداروں ہی کو مضبوط بنایا جاتا رہا ہے ، تب سرائیکی کو خود ہی اپنے جاگیرداروں سے نمٹنے دیں۔ ابھی تو وہ اپنی نااہلی کا الزام تخت لاہور پر ڈال کر بری ہوجاتے ہیں، پھرا ن کے پاس کوئی عذر تو نہیں ہوگا۔ ‘‘
مصیبت یہ ہے کہ لاہور یا سنٹرل پنجاب کے بیشتر لوگ جو سرائیکی صوبے کی مخالفت کر تے ہیں، ان میں سے بیشتر نے سرائیکی علاقے دیکھے ہی نہیں ہوئے، انہیں اندازہ بھی نہیں کہ وہاں کے مسائل کس نوعیت کے ہیں، ان کی سطحیں کیا ہیں؟ یہ نہیں معلوم کہ سرائیکی شہروں کے مسائل اور ہیں، دیہات کی پسماندگی اور ان کی شکایات اور طرح کی ہیں؟اگلے روز ایک دوست نے نئی دلیل نکالی۔ کہنے لگے کہ سندھ والے یہ کہتے ہیں کہ سندھ کی تقسیم ماں دھرتی کی تقسیم ہے، اس لئے اس کی ہر قیمت پر مخالفت کی جائے گی، تو پنجاب والوں کی بھی دھرتی ماں ہے، اسے تقسیم کیوں کیا جائے؟ میں نے مودبانہ عرض کیا، سندھ اور سرائیکی وسیب کا معاملہ یکسر مختلف ہے۔ سندھی کہتے ہیں کہ سندھ ان کاعلاقہ تھا، تقسیم کے بعد مہاجر بھائی یہاں آئے اور مقیم ہو گئے، 
اب مہاجر اکثریتی علاقوں کے لئے سندھ کو تقسیم کرنا سندھیوں کے نزدیک ظلم کے برابر ہے۔ سرائیکی صوبے کا مطالبہ مختلف ہے۔ سرائیکی علاقے صدیوں سے لاہور اور سنٹرل پنجاب سے الگ رہے ، ریاست بہاولپور تو پاکستان بننے کے کئی برسوں بعد تک الگ تھی، ون یونٹ بنتے وقت اسے اکٹھا کیا گیا۔ سرائیکی یہ مطالبہ نہیں کرتے کہ لاہور کو ان کے صوبے میں شامل کیا جائے یا سنٹرل پنجاب کے دوسرے علاقے جیسے شیخوپورہ، گوجرانوالہ، گجرات، فیصل آبادوغیرہ کو سرائیکی یا جنوبی پنجاب صوبے میں شامل کیا جائے۔ ایسا کوئی مطالبہ کسی نے نہیں کیا۔ سرائیکی اپنے علاقوں پر مشتمل الگ صوبہ بنانے کی بات کرتے ہیں، جس کی ٹھوس منطقی وجوہ ہیں۔ پنجاب کے پسماندہ ترین اضلاع کی فہرست بنائی جائے، سب جنوبی پنجاب ہی میں پائے جاتے ہیں۔ اس کا سادہ مطلب یہی ہوا کہ پنجاب کی سیاسی اور حکمران اشرافیہ جنوبی پنجاب یا سرائیکی وسیب کے ساتھ انصاف کرنے میں ناکام رہی،ساٹھ پینسٹھ برسوں میں وہاں کے مسائل حل نہیں کئے جا سکے۔ حد تو یہ ہے کہ سنٹرل پنجاب میں ہر پندرہ بیس منٹ کے بعد نیا ضلع شروع ہوجاتا ہے، ننکانہ صاحب، منڈی بہائوالدین، حافظ آباد وغیرہ۔ ساہیوال ملتان ڈویژن کا حصہ تھا۔ آج ساہیوال الگ سے ڈویژن بن چکا ہے۔ اس طرح کی بہت سی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں۔ جب کہ بہاولپور ڈویژن کے پچاس ساٹھ سال پہلے بھی تین اضلاع تھے، آج بھی تین ہی ہیں۔ بہاولپور، ملتان اور ڈی جی خان ڈویژن کئی عشروں کے باوجود ویسے ہی ہیں، نئے اضلاع بنتے ہیں نہ نئے ڈویژن ... یوں انتظامی تقسیم سے جو تھوڑا بہت مقامی سطح پر فائدہ ہوجاتا ہے، وہ تک نہیں ہوا۔ انفراسٹرکچر کے حوالے سے تو محرومیوں کی طویل فہرست ہے۔ چودھری پرویز الٰہی کے دور میں ملتان میں دل کا ہسپتال بنا، اس سے پہلے جتنا بھی شور مچا، کچھ نہیں ہوا تھا۔ شہباز شریف صاحب نے اس ہسپتال کی توسیع بھی نہیں ہونے دی۔ پورے صوبے میں زرعی اعتبار سے سب سے اچھا علاقہ جنوبی پنجاب میں ہے، بہترین کاٹن، گندم، آم ، کھجور وغیرہ پیدا ہوتی ہے۔ زرعی یونیورسٹی بنی تو فیصل آباد میں، دوسری یونیورسٹی بنانے کی زحمت ہی نہیں فرمائی گئی، جنوبی پنجاب میں ایک انجینئرنگ یونیورسٹی تک نہیں بنائی گئی۔ وہاں کے فنڈز اٹھا کر سنٹرل پنجاب میں استعمال ہو جاتے ہیں۔ لیہ جیسے اضلاع کے فنڈز لاہور کی میٹرو بس کے لئے استعمال ہوئے۔ ان سب باتوں سے شکایات اور محرومیاں پیدا ہوتی ہیں۔
ایک اور اہم نکتہ سمجھنا بڑا ضروری ہے۔ مسائل کی ایک سطح ہے سرائیکی علاقوں کی، وہاں کا انفراسٹرکچر، سڑکیں، پل، تعلیمی ادارے، ہسپتالوں وغیرہ کے مسائل۔ ان کی شدت بھی بہت زیادہ ہے،مگر محرومی کی ایک بڑی سطح سرائیکی بولنے والوں کے لئے ہے۔ سرائیکی زبان، ادب، سرائیکی اثارقدیمہ ، سرائیکی شناخت، ثقافت کے مسائل۔ محرومی کی یہ سطح زیادہ تکلیف دہ ہے۔ سرائیکی یہ محسوس کرتے ہیں کہ پنجاب کا حصہ ہوتے ہوئے ان کی اپنی شناخت، زبان ، ادب، صحافتی جرائد سب ختم ہورہے ہیں۔ پنجاب کی اشرافیہ سرائیکیوں کے مفادات کا خیال رکھنے ، ان ایشوز کی نزاکت کو سمجھنے میں ناکام رہی۔ ایک چھوٹی سی مثال دے دوں۔ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور اور زکریا یونیورسٹی ملتان سرائیکی زبان میں ایم اے کراتی ہے ، مگر وہاں کے بورڈ ایف اے اور بی اے میں سرائیکی کو آپشنل زبان رکھنے کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ وہاں کے لڑکے پنجابی آپشنل رکھ سکتے تھے، مگر سرائیکی نہیں ۔ میرے جیسے لوگوں نے کئی بار لکھا کہ جس زبان میں ایم اے ہوسکتا ہے، اس میں ایف اے اور بی اے کا نصاب کیوں نہیں بن سکتا؟ طویل عرصے کے بعد اب جا کر دو چار کالجوں میں اس کی اجازت ملی ہے۔ یہ وہ نکتہ ہے جو سرائیکی علاقوں میں رہنے والے سیٹلرز لکھاری بھی مس کرجاتے ہیں۔ وہ سرائیکی علاقوں کے مسائل پر تو لکھتے ہیں، مگر
سرائیکی عوام کے ایشوز کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔ حالانکہ جب تک سرائیکیوں کے دکھ ،درد وہ اپنے دل سے محسوس نہیں کریں گے ، اس وقت سرائیکی دھرتی کی نمائندگی کا حق ادا نہیں ہوگا۔ سرائیکی صوبے کے ایشو پر بولنے والوں کو پہلے یہ ایشو سمجھنا تو چاہیے۔ 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں