"ACH" (space) message & send to 7575

یہ مذاق کب تک چلے گا؟

ڈی آئی جی آپریشنز ڈاکٹر حیدر اشرف خاصے متحرک آفیسر ہیں۔ میرا گزشتہ کالم ایک سرکاری سکول کے بچوں پر پولیس تشدد کے بارے میں تھا۔ اس پر ڈاکٹر حیدر اشرف نے فون کر کے اپنا موقف پیش کیا۔ پیشہ ورانہ صحافت کو دیکھتے ہوئے میں ان کی وضاحت سامنے لانا ضروری سمجھتا ہوں۔ ڈاکٹر حیدر اشرف نے گزشتہ برس جولائی میں یہ عہدہ سنبھالا۔ اس سے قبل وہ ایس پی سول لائنز انویسٹی گیشن،ایس پی سول لائنز آپریشن ،ڈی پی او شیخوپورہ ،ڈی پی او ننکانہ اور سی پی او فیصل آباد رہ چکے ہیں۔ گزشتہ برس ماڈل ٹائون سانحے کے بعد جب پولیس کی بچی کھچی ساکھ مٹی میں مل چکی تھی‘ ڈاکٹر حیدر کے سامنے دو ٹاسک تھے۔ ایک‘ پولیس کی ساکھ بحال کرنا اور دوسرا جرائم کی دنیا کو قابو میں لانا۔ کسی حد تک وہ ان میں کامیاب بھی ہوئے ہیں۔ ان چھ سات ماہ کے دوران لاہور میں اِکا دُکا و واقعات ہوئے جنہوں نے پولیس کلچر پر دوبارہ سوال اٹھا دئیے۔ ایک‘ نابینائوں کا احتجاج اور دوسرا گورنمنٹ سکول کے بچوں پر پولیس کا مبینہ تشدد۔ نابینائوں کے حوالے سے انہوں نے جو کچھ بتایا‘ وہ سن کر حیرانی ہوئی کہ میڈیا نے منفی چیز کو تو ہائی لائٹ کیا لیکن مثبت پہلوکو یکسر نظر انداز کر دیا۔ کم لوگوں کو علم ہے کہ جو ایس ایچ او نابینائوں کو روکنے کی وجہ سے عتاب کا نشانہ بنا‘ وہی ان کو خود ایک مرتبہ وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ لے کر گیا تھا تاکہ ان کی اعلیٰ حکام سے ملاقات کرا سکے۔ اس کے بعد یہ لوگ پریس کلب جانا چاہتے تھے تو وہاں تک لے جانے میں بھی اسی ایس ایچ او نے ان کی رہنمائی کی۔ اس دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہ ہوا۔ جس روز نابینائوں کو دھکے پڑے‘ اس وقت وہاں رُوٹ لگا ہوا تھا۔ یہاں
ایس ایچ او کے پاس دو آپشن تھے۔ ایک‘ وہ انہیں یہاں بھی احتجاج کی کھلی اجازت دے دیتا اور یہ لوگ مال روڈ بلاک کر کے وی آئی پی موومنٹ روک دیتے۔ اس کے دو نتائج نکلتے۔ پہلا‘ پولیس کی اپنے فرائض کی ادائیگی میں غفلت اور دوسرا دہشت گردی کا خطرہ۔ جو قافلہ وہاں سے گزر رہا تھا اس میں صدر ممنون حسین کے علاوہ کئی غیر ملکی ہائی پروفائل شخصیات تھیں۔ اگر دہشت گردی کا کوئی واقعہ ہو جاتا تو سارا ملبہ ایک مرتبہ پھر پولیس پر آنا تھا۔ لہٰذا چاروناچار انہیں دوسرا آپشن استعمال کرنا پڑا ۔ یہاں البتہ پولیس کو چاہیے تھا کہ وہ ان کے ساتھ احتیاط سے نمٹتی۔ ایک نابینا کتنی دیر گر کر موٹرسائیکل میں پھنسا رہا۔ میڈیا کا کوئی بندہ بھی اسے اٹھانے کی بجائے اس کی مووی بناتا رہا اور پولیس بھی پاس نہ پھٹکی۔ بالآخر کسی نابینا نے ہی اسے سہارا دیا۔ پولیس احتجاج چاہے روک دیتی لیکن ایسے مناظر کم از کم تخلیق نہ ہوتے جوپوری قوم کو دُکھی کر گئے۔ بھاٹی گیٹ سکول کے بچوں کے حوالے سے بھی ڈاکٹر حیدر اشرف کاکہنا تھا کہ اس روز صرف یہی احتجاج نہیں تھا بلکہ لاہور میں سترہ سے زائد مقامات پر جلوس وغیرہ نکل رہے تھے اور ان سب کو پولیس نے سکیورٹی بھی دینی تھی ‘ دہشت گردی کے خطرے سے بھی نمٹنا تھا اور ٹریفک کی روانی بھی جاری رکھنا تھی۔ سکول کے بچوں کو نہیں بلکہ جو معطل اساتذہ سڑک بلاک کرنا چاہ رہے تھے اور بچوں کو اس میں استعمال کر رہے تھے‘ پولیس انہیں روکنے کی کوشش میں تھی کہ اسی دھکم پیل میں ایک بچے کو چوٹ آ گئی۔ ان دو واقعات میں ڈاکٹر 
حیدر کا موقف درست مان بھی لیا جائے تب بھی سوال وہی ہے کہ پولیس کا امیج مجموعی طور پر ابھی تک پاسنگ مارکس بھی کیوں حاصل نہیں کر سکا‘ کیوں؟ یہ ہر کوئی جاننا چاہتا ہے۔ اس کی وجہ جو بھی ہو‘ پولیس کو فنڈز نہیں ملتے ‘ حکومت پولیس کو سیاسی معاملات اور پروٹوکول میں مصروف رکھتی ہے‘ عوام کو اس سے کوئی سروکار نہیں‘ عوام ٹیکس دیتے ہیں اورسہولیات اور تحفظ چاہتے ہیں البتہ جو پولیس افسر اور اہلکار اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے ڈیوٹی دیتے ہیں اور دہشت گردوں کے سامنے سینہ سپر ہو کر کھڑے ہیں‘ انہیں عوام سلام پیش کرتے ہیں۔ 
دوسری بڑی خبر ہفتے کی شب بجلی کا بریک ڈائون تھا جس سے پورا ملک ایک ماہ میں چوتھی مرتبہ تاریکی کا شکار ہو گیا۔ اصل خبر بریک ڈائون نہیں بلکہ اس واقعے کی وجہ تھی۔ واقعے کے فوراً بعد ترجمان وزارت بجلی و پانی نے وجہ فنی خرابی بیان کی۔ جبکہ سہ پہر کو سیکرٹری بجلی وپانی نے اسے دہشت گردوں کی کارروائی قرار دے
دیا۔ پہلے بیان میں کہا گیا کہ سسٹم پر لوڈ بڑھ گیا تھا۔ دوسرے بیان میں چودہ فٹ پائپ دھماکے سے اڑانے کی درفنطنی چھوڑی گئی۔ ان بیانات پر کوئی دیواروں سے سر نہ پھوڑے تو کیا کرے۔ موسم سرما اس وقت عروج پرہے۔ نہ اے سی کولر چل رہے ہیں نہ فیکٹریاں۔ حکومت کا نقطہ نظر دیکھیں تو لگتا ہے کہ ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب اچانک عوام کو گرمی محسوس ہوئی اور انہوں نے سارے اے سی ‘ پنکھے‘ کولر‘ سب کچھ آن کر دیا یا پھر آدھی رات کو سارے بینک‘ساری فیکٹریاں اور ساری مارکیٹیں خودبخود جگمگا اٹھیں جس سے سسٹم پر لوڈ بڑھ گیا۔ سمجھ نہیں آتی یہ کس کو اُلو بنارہے ہیں۔ اوپر سے وہی باسی قسم کے بیانات جنہیں سن کر ہی ابکائی آتی ہے کہ ''تین سال میں لوڈشیڈنگ ختم ہو جائے گی‘‘۔ یہ چاہتے ہیں کہ عوام ان کو معذوری سے بھرا یہ دور ِحکومت گزارنے دیں تاکہ اگلے الیکشن میں یہ پرانا ڈرامہ نئے سکرپٹ کے ساتھ پیش کر سکیں۔ سچ کوئی بولتا نہیں کہ یہ سسٹم اضافی بجلی کا بوجھ اٹھا ہی نہیں سکتا کیونکہ ڈیموں سے لے کر گرڈ سٹیشنز تک تیسرے درجے کی مشینری اور آلات لگ رہے ہیں۔ این ٹی ڈی سی‘ واپڈا اور ضلعی ڈسٹری بیوشن کمپنیاں آپس میں ملی ہوئی ہیں۔ اعلیٰ افسران دودھاری بنے ہوئے ہیں۔ یہ ایک طرف سرکاری نوکریاں اور مراعات لوٹنے میں مصروف ہیں‘ دوسری جانب نجی کمپنیاں بنا کر خود ہی اپنے اداروں کے لئے ٹینڈر منظور کرا رہے ہیں۔ کاغذوں میں مال ایک نمبر ظاہر کیا جاتا ہے اور موقع پر جو انجینئر آلات ٹیسٹ کرتا ہے اسے خرید لیا جاتا ہے تاکہ وہ میٹریل کی اوکے رپورٹ دے۔ کوئی انکار کرے تو اسے دبائو اور دھمکیوں کا نشانہ بنا کر ادارہ حتیٰ کہ ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔ اس طرح گھٹیا آلات سسٹم میں لگ رہے ہیں جو معمولی وجوہ سے سسٹم بریک ڈائون کا باعث بن رہے ہیں۔ بجلی چوری یہ پکڑنا نہیں چاہتے‘ ایکسیئنز‘ ایس ڈی اوز حتیٰ کہ میٹر ریڈرز کا قبلہ ان سے سیدھا ہونا نہیں اور اضافہ بجلی سسٹم میں لانے کا یہ رسک لے نہیں سکتے کیونکہ یہ جانتے ہیں کہ کرپشن کی بنیادوں اور دیواروں پر کھڑا یہ سسٹم اضافی بجلی کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتا تو پھر یہ کس کو پاگل بنا رہے ہیں؟عوام کو اس وقت لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے دعووں کی نہیں‘ سچ بتانے کی ضرورت ہے ۔ یہ اتنا ہی کر دیں کہ واپڈا افسران کو ایک آپشن دیں کہ وہ نوکری کریں یا کاروبار کر لیں‘ دہری شہریت رکھیں یا نوکری کر لیں تاکہ ان کا فوکس کسی ایک چیز پر ہو اور یہ دونمبریاں کرنے سے باز رہ سکیں۔ یہاں میں انجینئرمیاں سلطان محمود کی مثال دینا چاہوں گا جنہوں نے واپڈا میں ہوتے ہوئے اپنی ایک نجی کمپنی بنائی اور میٹر وغیرہ بنا کر واپڈا کو دینا شروع کیے۔ لیکن کچھ ہی برسوں بعد ان کے ضمیر نے ملامت کی اور انہوں نے ایکسین کے عہدے کو لات ماری اور نوکری چھوڑ کر کاروبار کرنے لگے۔ اس وقت یہ پاکستان انجینئرنگ کونسل کے سیکرٹری جنرل ہیں اور درجنوں ممالک کو بجلی کے آلات برآمد کر رہے ہیں۔ان کے مقابل وہ افسران ہیں جو برسوں قبل اپنا بوریا بستر سمیٹ کر دوبئی‘ برطانیہ اور کینیڈا منتقل کر چکے کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ جو بیج وہ بو رہے ہیں‘ اس کی فصل کاٹنے کی ہمت ان کے بچوں میں نہیں ہے۔ ایسے کرپٹ افسران وزارت بجلی و پانی کی آشیر باد میں دن رات لوٹ مار میں لگے ہیں‘ خودحکومتی ادارے98ارب کے نادہندہ ہیں اور خواجہ آصف اور عابد شیر علی فرماتے ہیں کہ تین برس میں اندھیرے ختم کر دیں گے۔ قوم کے ساتھ یہ مذاق کب تک چلے گا؟

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں