ایک خبر نظر سے گزری کہ 23 مارچ والے دن یومِ پاکستان ہی نہیں تھا بلکہ اس روز عالمی یومِ موسمیات بھی منایا گیا۔ اسی تاریخ کے آس پاس کچھ اور عالمی دن بھی منائے گئے‘ جیسے 21مارچ کو گلیشیرز کا عالمی دن منایا گیا۔ جنگلات کا عالمی دن بھی منایا گیا۔ 22مارچ کو عالمی یومِ آب منایا گیا۔ اسی روز یعنی 22مارچ کو ہی اَرتھ آور (Earth Hour) منایا گیا۔ موسمیات‘ گلیشیرز‘ زمین‘ پانی اور جنگلات چونکہ ایک دوسرے سے منسلک اور منطبق عوامل اور چیزیں ہیں تو سوچا آج انہی پر بات کر لیتے ہیں۔
ہم نے عالمی یومِ موسمیات اس حالت میں منایا کہ پاکستان عالمی سطح پر رونما ہونے والے موسمیاتی تغیرات سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہے۔ بغیر بارشوں والے ادوار‘ وسیع پیمانے پر شدید سیلاب‘ موسموں کے غیر متوقع‘ متغیر تیور اور پانی کی شدید قلت موسمیاتی تبدیلیوں کے ہی شاخسانے ہیں۔ 2022ء میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے 1739افراد جاں بحق ہو گئے تھے اور اس سیلاب سے مجموعی طور پر 14.8 ارب ڈالر کا نقصان ہوا تھا۔ اس سیلاب میں ملک کے کل رقبے کا ایک تہائی حصہ پانی میں ڈوب گیا تھا جبکہ تین کروڑ تیس لاکھ افراد شدید طور پر متاثر ہوئے تھے۔
ہم نے گلیشیرز کا عالمی دن اس حالت میں منایا کہ ہمارے گلیشیرز موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں تیزی سے پگھل رہے ہیں اور ان کو زیادہ سے زیادہ محفوظ رکھنے کے سلسلے میں ہم بہت کچھ نہیں کر پا رہے ہیں۔ پاکستان میں سات ہزار سے زائد گلیشیرز پائے جاتے ہیں جن میں سے چند معروف گلیشیرز کے نام یہ ہیں: بلتورو گلیشیر‘ بتورا گلیشیر‘ بیافو گلیشیر‘ بیار چڑی گلیشیر‘ پانماہ گلیشیر‘ ترشینگ گلیشیر‘ تھالو گلیشیر‘ توشین گلیشیر‘ روپل گلیشیر‘ سچیوکوہ گلیشیر‘ سیاچن گلیشیر‘ سلکیانگ گلیشیر‘ سم گلیشیر‘ شسپر گلیشیر‘ شوئیجراب گلیشیر۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق محققین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی گلگت بلتستان اور اس سے ملحقہ چترال کے منظرنامے کو تبدیل کر رہی ہے۔ گلگت بلتستان ایک ایسے علاقے کا حصہ ہے جسے کچھ لوگ تیسرے قطب کے نام سے پکارتے ہیں۔ ایک ایسی جگہ جس میں قطبی علاقوں سے باہر دنیا کے کسی بھی دوسرے حصے کے مقابلے میں زیادہ گلیشیرز ہیں۔ رپورٹ میں انٹرنیشنل سینٹر فار انٹیگریٹڈ ماؤنٹین ڈویلپمنٹ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اگر کاربن کا اخراج موجودہ رفتار سے جاری رہا تو اس صدی کے آخر تک ہمالیہ کے گلیشیرز اپنے حجم کا دو تہائی تک کھو سکتے ہیں۔ گلیشیرز کھونے کا مطلب آپ سمجھتے ہیں؟ نہیں سمجھتے تو میں آپ کو بتا دیتا ہوں کہ اس کا مطلب پانی کے ایک بڑے ذخیرے سے محروم ہونا ہے۔ سردیوں میں جب بھرپور بارشیں نہیں ہوتیں اور ہمارے ڈیم سوکھنے لگتے ہیں تو موسم گرما آنے پر ان گلیشیرز کا پگھلا ہوا پانی ہی ہوتا ہے جو ہمارے آبی ذخیروں کی رونق کچھ بحال رکھتا ہے اور پاکستان میں خوراک کی اہم لائف لائن یعنی خریف کی فصلوں کی بوائی یا کاشت کو یقینی بناتا ہے۔ اگر گلیشیرز کے پگھلنے کا سلسلہ اسی طرح بلا روک ٹوک جاری رہا تو ایک دن یہ معدوم ہو جائیں گے اور ہمارے لیے خریف کی فصلوں کی بوائی ایک ڈراؤنا خواب بن جائے گی۔
پاکستانیوں نے عالمی یومِ آب اس حالت میں منایا کہ ہمارے دونوں بڑے ڈیم ڈیڈ لیول تک پہنچ چکے ہیں۔ ایک تازہ میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رواں سال معمول سے کم بارشوں کے باعث اس وقت تربیلا اور منگلا ڈیم میں پانی کی شدید کمی ہو چکی ہے۔ مختلف دریاؤں میں پانی کا بہاؤ انتہائی کم سطح پر ہے جس کے باعث محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ اگر متاثرہ علاقوں میں خشک سالی برقرار رہی یعنی اگر مزید بارشیں نہ ہوئیں تو حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔ محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ اپریل میں بھی ملک میں گزشتہ کئی برسوں کی نسبت کم بارش ہونے کا اندیشہ ہے۔ یہ صورتحال سنگین مسائل پیدا کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔
ہم نے عالمی یومِ جنگلات اس عالم میں منایا کہ پاکستان میں ہر سال جنگلات کا رقبہ مسلسل کم ہوتا جا رہا ہے۔ کسی بھی ملک میں 25 فیصد رقبے پر جنگلات کا ہونا ضروری ہے۔ یہی عالمی معیار ہے۔ پاکستان اس عالمی معیار پر کبھی پورا نہیں اترا‘ یعنی یہاں جنگلات کا رقبہ کبھی کل رقبے کا 25 فیصد نہیں رہا۔ اس کے باوجود جو جنگلات موجود ہیں ان کا تیزی سے خاتمہ ہو رہا ہے۔ یہ عمل کس قدر تیز ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہمارے ملک میں جنگلات کا رقبہ اب چار فیصد تک رہ گیا ہے۔ یہ صورتحال ملک کی آب و ہوا اور موسموں پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے۔ پاکستان کا شمار اب دنیا کے ان ممالک میں دوسرے نمبر پر ہے جہاں جنگلات تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔ کیا یہ صورتحال اربابِ بست و کشاد کے لیے لمحہ فکریہ نہیں ہونی چاہیے؟ یہ سب کچھ اس حقیقت کے باوجود ہو رہا ہے کہ ہمارے ملک میں ہر سال دو بار شجر کاری مہم چلائی جاتی ہے اور دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ان مہمات کے دوران لاکھوں بلکہ کروڑوں پودے لگائے گئے ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں پودے لگائے جانے کے بعد جنگلات کی صورتحال یہ نہیں ہونی چاہیے جو اس وقت نظر آ رہی ہے۔ کیا وجہ ہے؟ میرے خیال میں اس کی دو ہی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ پہلی یہ کہ لگائے گئے پودوں کی تعداد نمبر بنانے کے لیے بڑھا چڑھا کر بیان کی جاتی ہے۔ دوسری یہ کہ جو پودے لگائے جاتے ہیں‘ مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے ان میں سے زیادہ تر درخت بننے سے پہلے ہی سوکھ جاتے ہیں یا انہیں جانور وغیرہ اپنی خوراک بنا لیتے ہیں۔ لگائے گئے پودوں کی کچھ عرصہ تک مناسب دیکھ بھال کر کے ملک میں جنگلات کے رقبے کو بڑھایا جا سکتا ہے‘ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ جنگلات کی بے جا کٹائی کے عمل کو روکا جائے۔ یہ کام ٹمبر مافیا پر آہنی ہاتھ ڈال کر ہی کیا جا سکتا ہے۔
ہم نے 22 مارچ کو اَرتھ آور بھی منایا لیکن اس حالت میں کہ پاکستان کا دوسرا بڑا شہر لاہور سال میں زیادہ تر آلودگی کے حوالے سے پوری دنیا میں پہلے یا دوسرے نمبر پر رہتا ہے اور ہر سال پنجاب کے شہری نومبر‘ دسمبر میں سموگ کا عذاب بھگتتے ہیں‘ یہاں آلودگی اس قدر زیادہ ہے کہ لوگ نظامِ تنفس‘ نظامِ اعصاب اور نظامِ انہضام کی مختلف نوعیت کی پیچیدہ بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں اور ان کے علاج پر ان لوگوں کا خاصا پیسہ خرچ ہو رہا ہے۔ اس کے باوجود کچھ لوگ آلودگی کے ہاتھوں جان دے دیتے ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق پاکستان میں ہر سال ڈیڑھ لاکھ کے لگ بھگ افراد آلودگی کی وجہ سے جاں بحق ہو جاتے ہیں۔ ہماری حکومتوں کی جانب سے بار بار یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ آلودگی پر قابو پانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جا رہے ہیں‘ لیکن آلودگی کے حوالے سے صورت حال میں کوئی بہتری نظر نہیں آتی۔ وجہ یہ ہے کہ دعوے بہت کیے جاتے ہیں لیکن اقدامات ان کے نصف بھی نہیں ہو پاتے۔ اب آپ خود ہی سوچ لیں کہ ہم عالمی یوم موسمیات‘ جنگلات کا عالمی دن‘ عالمی یومِ آب‘ گلیشیرز کا عالمی دن اور اَرتھ آور منانے میں کتنے حق بجانب ہیں۔ (جاری)