کسی معاملے میں حالات کس طرح پلٹا کھاتے ہیں اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ امریکہ میں انتظامیہ یا حکومت کی تبدیلی کے بعد یوکرین روس جنگ کا پورا منظر نامہ تبدیل ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ کہاں اس بات پر مذاکرات ہو رہے تھے کہ روس اور یوکرین‘ دونوں جنگ بندی پر رضامند ہو جائیں اور کہاں اب جنگ شروع کرنے اور حالات کو موجودہ نہج تک پہنچانے کا سارا ملبہ یوکرین پر ڈالا جا رہا ہے‘ حالانکہ یوکرین کو روس کے خلاف کھڑا کرنے اور اسے ہلا شیری دینے کے ذمہ دار نیٹو‘ یورپ اور امریکہ تینوں ہیں۔ ان تینوں نے ہی یوکرین کے صدر کو کہا تھا کہ وہ روس کے خلاف ڈٹ جائیں تو ان کی ہر طرح سے مدد کی جائے گی۔ بلا شبہ مدد ہوتی بھی رہی لیکن اب حالات اور معاملات یُوٹرن لیتے نظر آتے ہیں اور اس کا سبب ہیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیاں۔
اب آگے ممکنہ طور پر کیا ہو سکتا ہے‘ اس پر بات کرنے سے پہلے آئیے تھوڑا سا ماضی میں جھانکیں۔ سب سے پہلے یہ جان لیں کہ90 ء کی دہائی میں جب سوویت یونین کا شیرازہ بکھرا تو اس کے نتیجے میں مشرقی یورپی اور وسطی ایشیا کی 15 ریاستیں آزاد ہوئیں‘ جن میں قازقستان‘ ازبکستان‘ ترکمانستان‘ کرغزستان اور تاجکستان بھی شامل تھے۔ یوکرین ان سب سے پہلے آزاد ہو چکا تھا لیکن سوویت یونین کا بچ جانے والا حصہ یعنی روس یوکرین کو اب بھی اپنا ماتحت رکھنا چاہتا ہے۔ دوسری وجہ یوکرین کی نیٹو اتحاد میں شامل ہونے کی خواہش ہے جس نے حالات اس نہج تک پہنچائے۔ 2022ء تک یعنی جنگ سے پہلے تک کی صورتحال یہ تھی کہ یو کرین کے صدر (ولادیمیرزیلنسکی) اپنے ملک کو نیٹو کا رکن بنانا چاہتے تھے جبکہ روس ان کے اس فیصلے یا خواہش کے خلاف تھا۔ روس کا موقف تھا کہ یوکرین نیٹو کا رکن بنتا ہے تو اس کا مطلب ہو گا کہ امریکہ اور نیٹو روس کی سرحدوں تک پہنچ گئے ہیں۔ اس تنازع میں امریکہ‘ برطانیہ اور یورپی یونین یو کرین کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ یوں روس اور یو کرین کے مابین تناؤ اور کشیدگی میں اضافہ ہونے لگا۔ اس سے مشرقی یورپ کے کئی ممالک پہلے ہی یورپی یونین میں شامل ہو کر ایک طرح سے نیٹو اتحاد کا حصہ بن چکے تھے۔ رومانیہ‘ ہنگری اور پولینڈ جیسے ممالک کا جھکاؤ بھی نیٹو اور امریکہ کی طرف تھا۔ روس یوکرین کو روس اور یورپ کے نیٹو ممالک کے مابین ایک بفر ریاست سمجھتا ہے۔ ان حالات میں زیلنسکی کے یوکرین کو نیٹو اتحاد میں شامل کرنے کے اصرار پر روس کے کان کھڑے ہونا قدرتی امر تھا۔روس نے ان خدشات کے پیشِ نظر ہی آج سے کم و بیش تین سال پہلے یوکرین پر حملہ کر دیا۔ روسی قیادت کو یقین تھا کہ چند روز میں یوکرینی حکومت کا خاتمہ کر کے وہاں اپنی حمایت یافتہ حکومت قائم کر لیں گے‘ لیکن یورپ اور امریکہ کی جانب سے یوکرین کی ہر طرح سے مدد روسی قیادت کی اس خواہش کی راہ میں رکاوٹ بن گئی۔ امریکہ کی جانب سے یوں تو یوکرین کی مدد کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں پھر بھی ثبوت کے طور پر امریکہ کے سابق ترجمان برائے قومی سلامتی جان کِربی کا ایک بیان پیش کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اپنے دور میں کہا تھا کہ امریکہ رواں سال یوکرین کو فنڈنگ ختم ہونے سے پہلے ایک اور امدادی پیکیج فراہم کرے گا۔ نیدرلینڈز نے بھی یوکرین کو 18 ایف 16 جنگی طیارے دینے کا اعلان کیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ یوکرین کو امریکہ‘ برطانیہ اور یورپی یونین مسلسل امداد فراہم کر رہے تھے اور یہی وجہ تھی کہ یوکرین اب تک روس کے سامنے ڈٹا ہوا تھا‘ لیکن اب ساری صورتحال تبدیل ہوتی ہوئی محسوس ہوتی ہے کیونکہ امریکہ میں حکومت تبدیل ہو چکی ہے اور نئے صدر ٹرمپ کی اپنی پالیسیاں اور اپنے منفرد منصوبے ہیں جن میں یوکرین روس جنگ فٹ نہیں بیٹھتی؛ چنانچہ وہ یوکرین کے درپے ہیں۔ گزشتہ روز بھی ٹرمپ اور یوکرین کے صدر زیلنسکی میں ہونے والی ملاقات ناگوار رہی اور ایک ہنگامے پر ختم ہوئی۔
میڈیا رپورٹوں کے مطابق بات چیت کے دوران ماحول اس وقت سخت کشیدہ ہو گیا جب امریکی صدر نے یوکرینی صدر سے کہا کہ روس کے ساتھ معاہدہ کریں ورنہ ہم پیچھے ہٹ جائیں گے۔ جواب میں زیلنسکی نے کہا کہ روس کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ اس پر ٹرمپ نے کہا کہ آپ کا ملک جنگ نہیں جیت رہا‘ آپ ہماری وجہ سے اس جنگ سے نکل سکتے ہیں۔ اگر آپ کی فوج کے پاس ہمارا دیا ہوا اسلحہ اور عسکری سازوسامان نہ ہوتا تو یہ جنگ دو ہفتوں میں ہی ختم ہو جاتی۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ آپ نے ایک بار بھی امریکہ کا شکریہ ادا کیا؟ آپ کو امریکہ کا شکر گزار ہونا چاہیے‘ آپ کے پاس آپشز نہیں ہیں‘ آپ کے لوگ مر رہے ہیں‘ آپ کو فوجیوں کی کمی کا سامنا ہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ آپ تیسری عالمی جنگ کا خطرہ مول لے رہے ہیں‘ آپ امریکہ کی توہین کر رہے ہیں۔ اس پر زیلنسکی نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ نے ایک بار بھی یوکرین کا دورہ کیا؟ اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ ہمیں کن مشکلات کا سامنا ہے؟ ٹرمپ نے جواب دیا کہ یوکرین کی سکیورٹی کی ذمہ داری یورپ کی ہے‘ امریکہ کی نہیں۔ اس گرما گرم بحث کے بعد نہ صرف دونوں ممالک (امریکہ اور یوکرین) کے مابین معدنیات سے متعلق متوقع معاہدے پر دستخط نہیں ہوئے بلکہ زیلنسکی کے وائٹ ہاؤس سے اچانک چلے جانے پر دونوں صدور کی مشترکہ پریس کانفرنس بھی منسوخ کر دی گئی۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس عجیب و غریب ملاقات کے بعد کہا کہ زیلنسکی نے امریکہ کی توہین کی ہے‘ جب امن کے لیے تیار ہوں واپس آ سکتے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ صدر ٹرمپ ایک ڈیل میکر ہیں‘ یوکرینی صدر نے جو کچھ کہا اس پر انہیں معافی مانگنی چاہیے۔ صدر زیلنسکی کا کہنا تھا کہ ملاقات کے نتیجے پر افسوس ہے تاہم تعلقات بہتر بنائے جا سکتے ہیں۔ زیلنسکی نے ٹرمپ سے معافی مانگنے سے بھی انکار کر دیا ہے۔ اس پر امریکی انتظامیہ کے ٹمپریچر میں اضافہ ہونا قدرتی امر تھا۔
امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے مابین ہونے والی اس دھواں دھار ملاقات پر کینیڈا‘ آسٹریلیا اور یورپی ممالک صدر زیلنسکی کی حمایت میں بول پڑے ہیں اور کہا ہے کہ یوکرین کو اکیلا نہ سمجھا جائے۔ کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے کہا ہے کہ روس نے بلا جواز یوکرین پر حملہ کیا‘ ہم منصفانہ اور دیرپا امن کے حصول کے لیے یوکرین کے ساتھ کھڑے ہیں۔ آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البابیز نے کہا ہے کہ پوتن کے آمرانہ اقدامات کے خلاف ہم آزادی‘ خود مختاری اور جمہوریت کے لیے جدوجہد کرنے والی قوم کے ساتھ ہیں۔ فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون نے کہا ہے کہ روس نے جارحیت کی‘ یوکرینی عوام اپنا دفاع کر رہے ہیں۔ جرمنی کا کہنا ہے کہ یوکرین تنہا نہیں‘ ہم یورپی اتحاد کے ساتھ کھڑے ہیں۔ سپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے اپنے پیغام میں کہا کہ سپین یوکرین کے ساتھ ہے۔ پولینڈ کے وزیر اعظم پولینڈ ڈونلڈ ٹسک نے بھی کہا ہے کہ زیلنسکی اور یوکرینی عوام تنہا نہیں ہیں۔
یہ ساری باتیں ظاہر ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے قابلِ قبول نہیں ہو سکتیں اور اس معاملے میں اگر اختلافات بڑھ گئے تو تیسری عالمی جنگ کے برپا ہونے کو کوئی نہیں روک سکے گا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی نے کینیڈا‘ میکسیکو‘ چین اور یورپی یونین کو پہلے ہی بہت بے چین کر رکھا ہے۔ یوکرین کے معاملے میں امریکی انتظامیہ کی یک رخی پالیسیاں مذکورہ بالا تمام ممالک کے صبر کے اونٹ پر آخری تنکا ثابت ہو سکتی ہیں۔