"ACH" (space) message & send to 7575

تالیاں

کم لوگوں کو یہ معلوم ہو گا کہ وزیراعلیٰ شہباز شریف جس فرانزک لیبارٹری کی بنیاد پر مجرم کو پکڑنے کے دعوے کر رہے تھے‘ نہ صرف وہ آئیڈیا سابق وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی کا تھا بلکہ پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کا یہ ایکٹ اکتوبر 2007ء میں پرویز الٰہی کی سربراہی میں ہی پنجاب حکومت نے منظور کیا تھا۔ اس سلسلے میں چار جنوری 2007ء کو صوبائی کابینہ کی پہلی میٹنگ ہوئی جس کی صدارت کرتے ہوئے پرویز الٰہی نے بتایا کہ ایکٹ کے قیام کی ضرورت اس لئے محسوس کی گئی کیونکہ شخصی شہادت مختلف قسم کے دبائو، ترغیبات اور مسائل کا شکار ہو کر کیس کا رخ تبدیل کر سکتی ہے، لیکن سائنٹفک طبی شہادت کو نہ تبدیل کیا جا سکتاہے اور نہ ہی اس سے مفر ممکن ہے۔ اکتوبر 2007ء میں پنجاب اسمبلی نے پنجاب فرانزک لیب ایکٹ پاس کیا۔ 2008ء میں شہباز شریف وزیراعلیٰ پنجاب بنے تو انہوں نے ان تمام منصوبوں کا جائزہ لیا جو پرویز الٰہی نے شروع کئے تھے۔ ایسے بہت سے منصوبے ختم کر دئیے گئے جن کا سنگِ بنیاد پرویز الٰہی رکھ چکے تھے؛ تاہم چند ایسے منصوبے شہباز شریف ختم نہ کر سکے جو نہ صرف مفاد عامہ کے حق میں ناگزیر تھے بلکہ انہیں ختم کرنے سے وزیراعلیٰ شہباز شریف کو شدید مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا تھا۔ ان میں رنگ روڈ‘ ریسکیو گیارہ بائیس‘ ہسپتالوں میں مفت ادویات اور فرانزک سائنس لیبارٹری جیسے منصوبے شامل ہیں۔ اکتوبر 2009ء میں پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی پراجیکٹ کا باقاعدہ آغاز کیا گیا جو جون 2013ء میں مکمل ہوا۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہاں کرائم لیبارٹری سے متعلق تمام تر تفتیشی سہولتیں میسر ہیں تو پھر ان سے کماحقہٗ فائدہ کیوں نہ اٹھایا گیا۔ آپ قصور میں زیادتی کے واقعات ہی لے لیں۔ قصور میں دو سو چوراسی بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات کا سکینڈل اگست 2015ء میں سامنے آیا۔ ملزمان جہاں بچوں کواپنی ہوس کا نشانہ بناتے رہے، وہیں انہیں اسلحے کے زور پر ایک دوسرے سے بدفعلی کرنے پر بھی مجبور کرتے رہے۔ ملزمان نے بچوں کی چار سو سے زائد ویڈیوز بنائیں اور پچاس پچاس روپے کے عوض گائوں حسین خاں والا میں فروخت کیں۔ ایک خاتون نے اپنے چودہ سالہ بیٹے کی ویڈیو ختم کرنے کے لئے بلیک میلرز کو ساٹھ ہزار روپے ادا کیے۔ ایک اور دیہاتی کا کہنا تھا کہ اس گھنائونے عمل کے ملزم یہ ویڈیوز بنا کر برطانیہ، امریکہ اور یورپ میں فروخت کرتے تھے؛ تاہم مقامی ایم پی اے کے دبائو پر پولیس نے پچاس لاکھ روپے لے کر کیس کے مرکزی ملزم کو رہا کر دیا اور مقامی سیاستدان متاثرہ افراد پر کیس واپس لینے کیلئے دبا ئو ڈالتے رہے۔ اس کیس کا کیا نتیجہ نکلا؟ کیا اس کیس کا انجام زینب کیس جیسا ہوا؟ سوال یہ ہے کہ پنجاب فرانزک لیب‘ جس کے وزیراعلیٰ پنجاب آج بڑے گن گا رہے ہیں، کیا یہ لیب 2015ء میں آپریشنل نہیں تھی؟ اگر آپریشنل تھی تو اس سے کیا مدد لی گئی اور اس کے نتائج کہاں ہیں؟ اگر آپ پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی ویب سائٹ پر جائیں تو آپ کو وہاں اس کے قیام کے مقاصد میں سے ایک مقصد جنسی جرائم کی سائنسی بنیادوں پر تفتیش بھی ملے گا۔ سوال یہ ہے کہ پھر حسین خاں والا کے درجنوں ملزمان کے پکڑے جانے کے بعد کیا ان کا اس طرح ڈی این اے ٹیسٹ کیا گیا جس طرح زینب قتل کیس میں گیارہ سو پچاس لوگوں کے ڈی این اے ٹیسٹ کئے گئے؟ زینب کیس میں تو ملزم مفرور اور نامعلوم تھا لیکن بچوں کے کیس میں تو ملزمان پکڑے گئے تھے، پھر ان کے ڈی این ایز کیوں نہیں کرائے گئے؟ شاید اس لئے کہ اس طرح (ن) لیگ کی مقامی سپورٹ اور ووٹ سے آپ محروم ہو جاتے۔ آپ قدرت کا کرنا دیکھئے کہ پنجاب حکومت کے ترجمان ملک احمد خان سنہ71ء میں قصور میں پیدا ہوئے اور مسلم لیگ (ن) کی سیٹ پر قصور کے حلقہ پی پی 179 سے منتخب ہوئے۔ وہ پنجاب حکومت میں اتنا بڑا عہدہ رکھتے ہیں لیکن اس کے باوجود آج تک قصور میں اڑھائی سو سے زائد بچوں کے ساتھ ہونے والے جنسی جرائم کے حوالے سے کچھ نہیں کر سکے یا کرنا ہی نہیں چاہتے۔ ان پر اور دیگر لیگی ایم پی ایز پر یہ الزام بھی لگایا گیا کہ بااثر ملزمان کو چھڑانے اور اس کیس پر ''مٹی پانے‘‘ میں ان کا کردار کلیدی تھا۔ گزشتہ روز زینب کیس کی پریس کانفرنس میں رانا ثناء اللہ وزیراعلیٰ پنجاب کے بائیں طرف جبکہ ملک احمد خان دائیں طرف بیٹھے تھے۔ یہ سب اس واقعے کا یوں کریڈٹ لے رہے تھے جیسے یہ مقدمہ انتہائی خاموشی سے رات کے اندھیرے میں کسی غریب نے تھانے میں دائر کیا، اور محرر نے انتہائی خاموشی سے وزیراعلیٰ کو خبر پہنچائی، جس کے بعد وزیراعلیٰ اور ان کی ٹیم نے ملزم کی تلاش میں دن رات ایک کر دیا۔ اللہ کے بندو! قوم کو کب تک دھوکہ دو گے؟ قیامت تک زینب قتل کیس کا ملزم نہ پکڑا جاتا اگر میڈیا کے ذریعے بچی کے والد کی آواز چیف جسٹس ثاقب نثار‘ آرمی چیف جنرل قمر باجوہ اور چیف جسٹس منصور علی شاہ کے کانوں سے نہ ٹکراتی۔ اگلے سو سال میں بیس ''جمہوری‘‘ حکومتیں آ کر ختم ہو جاتیں تب بھی اس ملزم کا کھرا نہ ملتا اگر میڈیا بالخصوص سوشل میڈیا پر زینب کی آہ کروڑوں دلوں کو نہ چیرتی اور یہ ساری کی ساری فرانزک لیبز‘ ایجنسیاں اور ڈی پی اوز ہاتھ پہ ہاتھ رکھے بیٹھے رہتے اگر قصور کے عوام مشتعل ہو کر سڑکوں پر نہ نکلتے اور اپنا حق لینے کے لئے پولیس کی سیدھی گولیاں اپنے سینوں پر کھا کھا کر نہ گرتے۔ یوں یہ کیس بھی ایمان‘ کائنات‘ عائشہ اور دیگر بچیوں کی طرح ان کے ساتھ ہی دفن ہو جاتا۔ اس کیس کو حل کرنے کا کریڈٹ لینے والے کیوں نہیں بتاتے کہ اوپر سے جب تک ڈنڈا نہ آئے تب تک کوئی اپنی کرسی سے ہلنے تک کو تیار نہیں ہوتا۔ آپ قوم کو کھل کر کیوں نہیں بتا دیتے کہ یہ فرانزک لیب گزشتہ پانچ برس سے آپریشنل ہے لیکن یہاں پر اسی کیس کی تفتیش کروائی جا سکتی ہے جس کی منظوری بذریعہ ملک احمد خان‘ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف دیں گے۔ بالکل اسی طرح جس طرح زینب کیس پر پریس کانفرنس میں وزیراعلیٰ پنجاب کے ساتھ بیٹھے زینب کے والد کو اتنے سیکنڈ ہی بولنے کی اجازت ملی‘ جتنا وزیراعلیٰ نے چاہا اور اس کے بعد وزیراعلیٰ نے خود ان کے دونوں مائیک بند کر دئیے۔ کیا یہ وہ عزت اور احترام تھا جس کیلئے انہیں ساتھ بٹھایا گیا تھا؟ کانفرنس کے دوران قہقہے لگا کر ایسا ماحول بنایا گیا جیسے یہاں کوئی میلہ سجا ہو اور افسران کی ترقیوں کی کوئی تقریب ہو رہی ہو۔ بعد میں زینب کے والد نے پریس کانفرنس میں تالیاں بجانے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب اپنی بچی کے غم میں تڑپ اور آنسو بہا رہے ہیں اور شاید شرکا نے اسی تڑپ اور آنسوئوں پر تالیاں بجائیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ملزم کے گزشتہ ڈھائی سال سے بچیوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں ملوث ہونے پر تالیاں بجائی گئیں؟ کیا اس بات پر تالیاں بجائی گئیں کہ دیکھو جب تک آرمی چیف اور چیف جسٹس کسی بات کا نوٹس نہ لیں، ہم عوام کو اہمیت دیتے ہیں نہ دیں گے۔ یہ صوبہ ہماری سٹیٹ ہے‘ پولیس ہمارے گھر کی باندی ہے‘ ڈی پی اوز ہمارے اشاروں کے محتاج ہیں‘ یہ فرانزک لیبارٹریاں ہماری مرضی کے بغیر معذور ہیں‘ ہم جب چاہیں جہاں چاہیں اس پولیس کے ذریعے ماڈل ٹائون اور قصور کی طرح‘ لوگوں کو مروا سکتے ہیں‘ ہم قصور میں اڑھائی سو سے زائد بچوں کے ساتھی زیادتی اور ویڈیوز بنانے پر ان کے ڈی این ایز کروائیں یا نہ کروائیں‘ ہم ملزموں کو پکڑیں یا چھوڑیں یا پھر انہیں سینکڑوں ملزمان کی طرح‘ پولیس مقابلے میں مروا دیں‘ اس کا انحصار ہماری منشا اور خواہش پر ہے۔ یہی حکمران زینب کے قتل پر حقیقتاً افسردہ ہوتے تو یہ گیارہ بچیوں کے ساتھ ہوئی درندگی پر پردہ ڈالنے اور تفتیش نہ کرنے والے ان ڈی پی اوز اور پولیس افسران کو اس کانفرنس میں ہتھکڑیاں لگوا کر کھڑا کرتے اور کہتے کہ شرم کرو تمہاری وجہ سے گیارہ مزید بچیاں درندگی کا شکار ہوئیں‘ گیارہ گھرانے اُجڑ گئے‘ گیارہ مائیں زندہ درگور ہوئیں‘ گیارہ باپ زندہ لاش بن گئے‘ تم نے پہلی بچی کے اغوا پر ذمہ داری دکھائی ہوتی تو آج یہ بارہ بچیاں قتل نہ ہوتیں‘ آج یہ سب زندہ ہوتیں‘ قاتل کٹہرے میں ہوتا اور ہم شرمندہ ہو کر قوم کے سامنے نہ بیٹھے ہوتے کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ ہمارا فرض تھا، جس میں ہم ناکام رہے اور وزیراعلیٰ اگر اُن پولیس افسران اور لیگی ایم پی ایز کو وہاں کھڑا کر کے دنیا کو دکھاتے جن کی وجہ سے قصور کے اڑھائی سو سے زائد بچوں کی زیادتی کی ویڈیوز بنانے والے مجرم آج آزاد پھر رہے ہیں اور جس لاپروائی کی وجہ سے درندے عمران کو مزید درندگی کی شہ ملی تو تنقید کی بجائے عوام آج وزیراعلیٰ کے حق میں تالیاں بجا رہے ہوتے مگر افسوس کہ یہ سب کرنے کی ان میں جرأت ہے نہ ہمت اور نہ ہی نیت‘ یہ سب صرف معصوم بچیوں کے وحشت ناک قتل پر دُکھی والدین کی آنکھوں میں اترنے والے خون کے آنسوئوں کو دیکھ کر تالیاں بجا سکتے ہیں‘ جی ہاں صرف تالیاں!

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں