آج پتہ چلا ملتان کا منصور کریم سیال بھی اگلے سفر پر روانہ ہوگیا۔دل ایک شدید اداسی سے بھر گیا۔ 1980ء اور 1990ء کی دہائی کے گزرے برسوں کی یادوں نے گھیرا ڈال لیا۔نعیم بھائی سے جڑی جو یادیں تھیں وہ اُن کے پیارے دوست ایک ایک کر کے ساتھ لے گئے ہیں۔ منصور کریم سیال بھی نعیم بھائی کے بڑے قریبی دوست تھے۔ منصور کریم سے ملاقات نعیم بھائی کے عباس منزل کے کمرے میں ہوئی تھی جب میں ملتان یونیورسٹی کا طالب علم تھا۔ میں ملتان یونیورسٹی ہوسٹل سے ویک اینڈ پر بہاولپور چلا جاتا تھا۔ اکثر شام یا رات کو وہاں پہنچتا اور سیدھا ان کے وارڈ چلا جاتا یا پھر ان کے ہوسٹل کے کمرے میں ۔ پھر نعیم بھائی ہوتے اور ہماری راتیں اور گپیں۔ گائوں کے کرداروں سے لے کر ادب، بہاولپور، ان کے دوست، ہسپتال کی کینٹین، چائے کے دور اور ان کی چین سموکنگ اور کہانیاں۔
ایک رات میں جب میں ملتان سے بہاولپور اُن کے کمرے میں پہنچا تو وہاں ایک عجیب منظر دیکھا۔ ایک ذہانت بھری آنکھوں والا بارعب شخص نعیم بھائی کے بیڈ پر لیٹا تھا جبکہ نعیم بھائی نیچے فرش پر بستر پر بیٹھے سگریٹ پی رہے اور گپیں مار رہے ہیں۔نعیم بھائی کے ہوسٹل کے کمرے میں ایک ہی بستر تھا اور اس کمرے کو کوئی تالا نہیں تھا۔ کوئی بھی بھولا بھٹکا بندہ وہاں جائے، میس سے کھانا‘ چائے نعیم بھائی کے کھاتے سے کھائے، وہاں جتنے دن چاہے رہے، علاج کرائے اور واپسی پر نعیم بھائی سے واپسی کا کرایہ بھی وصول کرے۔ ایک درویش ٹائپ انسان کا لنگر خانہ ہر وقت چلتا تھا۔ اکثر نعیم بھائی رات کو کمرے میں لوٹتے تو کوئی نہ کوئی مہمان ان کے بستر پر سو رہا ہوتا۔ دو تین نیچے فرش پر سو رہے ہوتے۔وہ وہیں فرش پر کچھ کتابیں سر کے نیچے رکھ کر سو جاتے۔ ایک دن میں ناراض ہوا کہ یہ کیا تماشا ہے‘ آپ کا کمرہ ہے‘ آپ کا بیڈ ہے۔ چلیں باقی جو کچھ آپ سب کے لیے کرتے ہیں لیکن آپ کا بیڈ آپ کے لیے ہے۔ آپ کی نیند پوری ہونی ضروری ہے۔ آپ نے صبح وارڈ جانا ہوتا ہے۔ آپ نیچے سو رہے ہوتے ہیں اور اجنبی مہمان یا یار دوست اوپر سو رہے ہوتے ہیں۔ہنس کر بولے: یار اب کتنا برا لگے گا کہ وہ سو رہے ہیں اور میں رات کو آکر بستر سے اٹھائوں کہ تم نیچے سو میں نے اوپر سونا ہے۔ اکثر ہوا کہ میں رات کو پہنچا تو کوئی مہمان اوپر بیڈ پر سو رہا ہے اور نعیم بھائی نیچے سو رہے ہیں۔ مجھے کچی نیند سے دیکھ کر اشارہ کرتے کہ ادھر میرے ساتھ آکر سو جائو۔ میں بھی ان کے ساتھ لپٹ کر سو جاتا جیسے بچپن میں ہم بھائی بہن ان سے لپٹ کر سوتے تھے ‘جب وہ میڈیکل کالج سے چھٹیوں پر گائوں آتے تھے۔
منصور کریم سے میرا تعارف اس عباس منزل کے کمرے میں ہوا تھا۔ وہ جب بھی بہاولپور آتے وہ نعیم بھائی کے پاس ٹھہرتے۔ ان کے کمرے میں رہنا پسند کرتے۔ اس چھوٹے سے کمرے کا الگ سحر تھا جس میں ہم سب سما جاتے تھے اور محفلیں جم جاتی تھیں۔ دو لوگ ایسے تھے جن کیلئے نعیم بھائی خود بستر چھوڑ دیتے تھے کہ وہ اوپر سوئیں گے ۔ ایک منصور کریم اور دوسرے محمود نظامی۔منصور کریم میں ایک نوابی ٹچ تھا۔ مجھے نعیم بھائی ان کے بارے اکثر بتاتے تھے کہ ان کا مزاج کیسا ہے۔ کبھی کبھار ناراض ہو جاتے تو کبھی خوبصورت قہقہے لگاتے۔ ملتان میں ان کا ہر وقت ڈیرہ چلتا تھا جہاں یار دوست اکٹھے ہوتے۔ منصور کریم کے بارے کچھ ان سے ملاقاتوں میں جانا تو کچھ میرے ملتان کے محسن نذر بلوچ سے جانا جو ڈیرہ اڈا پر واقع ان کے ڈیرے پر روزحاضری دیتے اور ان سب کی محفلیں جمتی تھیں۔
منصور کریم کی شخصیت میں ایک وقار‘ ایک رعب تھا لیکن مٹھاس بھی تھی۔ مجھے ان کے سگریٹ پینے کا انداز اچھا لگتا تھا اگرچہ میں خود سگریٹ سے چڑتا ہوں لیکن بعض لوگوں کا انداز اچھا لگتا ہے۔ نعیم بھائی کی وجہ سے میرا بہت سے بڑے لوگوں سے تعارف ہوا۔ تعارف کیا ہوا ان سے بہت کچھ سیکھا۔ عبداللہ عرفان ، استاد فدا حسین گاڈی، احسن واگھا، ارشاد تونسوی، اشو لال، رفعت عباس، عاشق بزدار، جہانگیر مخلص، اکرم ناصر، شہزاد عرفان‘ مظہر عارف، ڈاکٹر انوار احمد‘ ایک طویل فہرست ہے۔ احسن واگھا سے نعیم بھائی کی بڑی نشستیں رہتیں، استاد فدا حسین گاڈی کا بہت احترام تھا۔یہ سب وہ لوگ تھے جنہوں نے 1980ء کے ابتدائی سالوں میں سرائیکی ادب، کلچر اور قومیت کیلئے بے پناہ کام کیا اور مشکلیں بھی دیکھیں۔ منصور کریم بھی ان میں سے ایک تھے جنہوں نے سرائیکی کاز کیلئے کام کیا۔ مصیبتیں‘ مشکلیں بھگتیں‘ جیب سے پیسہ خرچ کیا اور یہ سب لوگ اس وقت سرائیکی ادب‘ کلچر اور قومیت پر لکھتے بولتے تھے جب سرائیکی کا نام لینا جرم سمجھا جاتا تھا۔ اس دور میں اپنی قومیت یا خود پر فخر کرنا ایک گالی تھا۔ اپنی دھرتی اور بولی سے پیار ایک طعنہ تھا۔ لیکن ان لوگوں نے سرائیکی میں لکھا، بولا اور اپنی قومیت کے سوال پر سمجھوتہ نہیں کیا۔
نعیم بھائی کے کمرے میں قوم پرست دوست بھی آتے اور پنجابی دانشور بھی۔ نعیم بھائی میں یہ خوبی تھی کہ ان میںکسی کی زبان، نسل یا رنگ کیلئے کوئی تعصب نہ تھا۔وہ ایک انسان دوست شخصیت تھے۔میں نے ان محفلوں سے بہت کچھ سیکھا۔ ادب سیکھا‘ سیاسی بحثیں سنیں‘ مباحثے سنے‘ خاموش تماشائی بن کر وہ شاندار گفتگوئیں سنیں۔جب کبھی منصور کریم اور محمود نظامی اس کمرے میں اکٹھے ہوتے ہوں گے تو پھر کیا گفتگو ہوتی ہوگی یہ ہمارے وہ سرائیکی دوست سمجھ سکتے ہیں جو منصور کریم کا نوابی اور محمود نظامی کا عوامی مزاج جانتے اور سمجھتے ہیں۔اگر محمود نظامی گفتگو میں کسی کا کچھ احترام کرتے تھے تو وہ منصور کریم تھا۔ نعیم بھائی انہیں اکثر طنزیہ کہتے تھے: نظامی تم اس لیے منصور سے دب جاتے ہو کہ تمہارا تونسہ سے بہاولپور آتے وقت ٹھکانہ منصور کریم کا ملتان میں گھر ہوتا ہے اور واپس جاتے وقت بھی تم وہیں رک کر جاتے ہو۔ تمہارا حقہ پانی بند ہو جائے گا۔نظامی یہ سن کر پھر اپنا مشہورِ زمانہ قہقہہ مارتا جو پورا ہوسٹل سنتا اور کہتا: ڈاکٹر بندے کو اب اتنا سمجھدار تو ہونا چاہیے۔ جب منصور کریم سے تعارف ہوا تو انہوں نے مجھے گہری نظروں سے دیکھا اور پوچھا: نعیم یہ تمہارا بھائی تمہاری طرح ہے یا مختلف ہے؟ نعیم بھائی نے جواب دیا: اسے آپ کی شاگردی میں دینے کا سوچ رہا ہوں۔ نظامی کو بھی کہا ہے اس کی نوک پلک درست کردو۔ منصور کریم نے قہقہہ مار کر کہا: اگر نظامی کے درس میں داخل کرادیا ہے تو پھریہ ہمارے کس کام کا ہے۔نظامی صاحب بھی وہاں موجود تھے اور پھر نظامی صاحب اور منصور کریم کی وہ لڑائی ہوئی کہ توبہ۔ آخر منصور کریم کو یاد دلانا پڑا‘ نظامی حد ادب‘ تم نے واپسی پر ملتان میں میرے گھر سے ہو کر جانا ہے۔ نظامی فورا ًرک جاتا اور کہتا :نواب صاحب ہن بندہ گل وی نہ کرے۔
منصور کریم کی موت کا سن کر افسوس سے زیادہ دکھ ہوا۔ان کا ڈیرہ چلتا تھا‘ سخی‘ فیاض اور ہمدرد انسان تھے۔ نعیم بھائی کے سارے دوست ایک ایک کر کے رخصت ہوئے۔عبداللہ عرفان رخصت ہوئے، استاد فدا حسین گاڈی، نعیم بھائی کا ان سے بڑا تعلق تھا۔ باپ بیٹے جیسا تعلق، پھر ارشاد تونسوی چل دیے، پھر اچانک محمود نظامی بھی گزر گئے اور اب منصور کریم جیسا خوبصورت انسان بھی رخصت ہوا۔ سب محفلیں اجڑ گئیں۔جہاں منصور کریم کی موت سے میرا دل دکھی ہوا وہاں اس خیال نے کچھ تسلی دی کہ نعیم بھائی کے دوستوں کی محفل منصور کریم کے جانے سے پوری ہوئی۔یہ سب پرانے دوست جہاں بھی ہوں گے اپنی محفل سجا کر بیٹھے ہوں گے۔ ایسی محفلیں جس کی یادیں میرے دل کو اداس کر دیتی ہیں۔ یقین نہیں آتا کہ میں کبھی ان خوبصورت لوگوں کی محفلوں میں شریک تھا بلکہ ان سب کا چھوٹا تھاجس کا کام نعیم بھائی کے ان دوستوں کے سگریٹ‘ چائے پانی اور کھانے پینے کا خیال رکھنا تھا۔ نہ نعیم بھائی رہے نہ ان کے شاندار دوست۔