"RS" (space) message & send to 7575

بلوچستان میں بدامنی کے محرکات

بلوچستان میں جاری کشیدگی کی جڑیں بہت گہری ہیں۔ جو بظاہر دکھائی دیتا ہے وہ حقیقت سے بہت مختلف ہے۔ بلوچستان کے معدنی ذخائر‘ جن کی مالیت اربوں ڈالر ہے‘ اس کشیدگی کا اصل محرک ہیں۔ پاکستان کے دشمن نہیں چاہتے کہ یہ قیمتی وسائل ملک کی خود کفالت کا ذریعہ بنیں‘ اسی لیے وہ مختلف طریقوں سے حالات کو خراب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مطالبات بظاہر مقامی حقوق کی ترجمانی کرتے ہیں لیکن ان کے پیچھے ایک ایسا پوشیدہ منصوبہ ہے جس کی کوئی بھی ریاست اجازت نہیں دے سکتی۔ ماہ رنگ بلوچ‘ جو کافی عرصے سے احتجاج کر رہی ہیں‘ انہیں ریاست کی طرف سے احتجاج کا حق دیا گیا حتیٰ کہ انہوں نے سینکڑوں شرکا کے ہمراہ کئی روز تک اسلام آباد میں دھرنا دیے رکھا۔ جب معاملہ حد سے بڑھ گیا اور بلوچ یکجہتی کمیٹی نے جعفر ایکسپریس حملے میں ملوث ہلاک دہشت گردوں کے حق میں احتجاج کا اعلان کیا تو صورتحال نے ایک خطرناک موڑ لیا۔ یکایک پُرامن مظاہرے تشدد میں بدل گئے‘ پولیس پر پتھراؤ اور فائرنگ کی گئی‘ مسلح افراد نے ہسپتال پر دھاوا بول کر دہشت گردوں کی لاشیں چھین لیں۔ یہ قانون کی حکمرانی کیلئے ایک سنگین چیلنج تھا۔ اس واقعے کے بعد ماہ رنگ بلوچ کو تھری ایم پی او کے تحت گرفتار کر کے ایک ماہ کیلئے جیل بھیج دیا گیا اس لیے کہ وہ ان مظاہروں کی قیادت کر رہی تھیں۔ تھری ایم پی او کے تحت گرفتاری کا بنیادی اندیشہ نقص امن کا ازالہ کرنا تھا۔ اس اقدام کو حفاظتی تحویل کے معنوں میں بھی لیا جاتا ہے‘ یعنی جب امن و امان بحال ہو جائے گا تو رہا کر دیا جائے گا ‘تاہم ماہ رنگ بلوچ کی گرفتاری پر شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کی گرفتاری کے خلاف لانگ مارچ کا اعلان کر دیا۔ اس اعلان نے بلوچستان کے سیاسی منظر نامے میں نئی ہلچل پیدا کر دی۔ بی این پی اور بی وائی سی نے مشترکہ طور پر بلوچستان کے کئی شہروں میں احتجاج کیا جس میں عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔ اختر مینگل جیسے سیاستدانوں کا ماہ رنگ کی حمایت میں اٹھ کھڑا ہونا حکومت کیلئے تشویش کا باعث ہونا چاہیے۔ حکومت کو اختر مینگل جیسے تجربہ کار سیاستدان کی موجودگی کا فائدہ اٹھانا چاہیے تھا‘ اس لیے کہ ماہ رنگ بلوچ کو مقامی حلقوں کی حمایت حاصل ہے ‘اگر بلوچستان کی سیاسی جماعتیں بھی ان کی ہم آواز بن گئیں تو ایک احتجاجی تحریک سیاسی صورت اختیار کرجائے گی۔ یہ صورتحال حکومت کی مشکلات میں اضافے کا باعث بنے گی۔ادھر اسلام آباد میں ہونے والے سیاسی و عسکری قیادت کے اجلاس میں جو فیصلے ہوئے ہیں ان سے نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ ہارڈ سٹیٹ کی پالیسی کے تحت معاملات کو آگے بڑھایا جا رہا ہے اور حکومت کی توجہ صرف ظاہری اسباب پر ہے۔
بی ایل اے بلوچستان میں چینی مفادات کو نقصان پہنچانے کا واضح مؤقف رکھتی ہے حتیٰ کہ چینی صدر کو دی جانے والی دھمکیاں بھی ریکارڈ کا حصہ ہیں‘ اس حوالے سے دیکھا جائے تو بلوچستان کا معاملہ عالمی مسئلہ بھی بنتا نظر آتا ہے۔ یوں شدت پسند عناصر سے نمٹنے کیلئے یہ درست اقدام معلوم ہوتا ہے مگر ہماری دانست میں یہ دیرپا حل نہیں۔ حملے کے چند روز بعد جعفر ایکسپریس ٹرین کی بحالی یہ ظاہر کرتی ہے کہ ریاست شدت پسند عناصر کے سامنے کمزور نہیں ہے۔ وفاقی اور صوبائی قیادت کے اہم اجلاس کا لب لباب یہ ہے کہ ریاست مخالف عناصر کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں کی جائے گی‘ ہونی بھی نہیں چاہیے لیکن اصل مسائل کا ادراک کیے بغیر آگے بڑھنا اور اہداف کے حصول میں کامیابی آسان نہیں ہو گا۔ بلوچستان میں کشیدگی کے اصل حقائق وہاں کے معدنی ذخائر ہیں۔ بلوچستان قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے‘ جہاں سونا‘ تانبا‘ کوئلہ‘ سنگ مرمر اور قدرتی گیس سمیت مختلف قسم کے معدنی ذخائر پائے جاتے ہیں۔ ریکوڈک میں سونے اور تانبے کے اربوں ڈالر مالیت کے ذخائر موجود ہیں جبکہ کوئلے کے وسیع ذخائر پاکستان کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ بلوچستان کا اعلیٰ معیار کا سنگ مرمر دنیا بھر میں مشہور ہے اور سوئی کے علاقے میں قدرتی گیس کے ذخائر ہیں۔ بلوچستان میں کرومائٹ‘ لوہا‘ لیڈ‘ زنک اور جپسم سمیت کئی دیگر قیمتی معدنیات بھی پائی جاتی ہیں تاہم ان قدرتی وسائل کی موجودگی کے باوجود بلوچستان عدم استحکام اور پسماندگی کا شکار ہے۔ مقامی آبادی کے تحفظات‘ سیاسی عدم استحکام‘ قانونی اور انتظامی مسائل اور بیرونی مداخلت نے چیلنجز کو بڑھا دیا ہے۔ مقامی لوگ اپنے وسائل پر اپنا حق سمجھتے ہیں اور ان وسائل سے حاصل ہونے والے فوائد میں اپنا حصہ چاہتے ہیں۔ بدامنی اور سیاسی عدم استحکام سرمایہ کاروں کو یہاں سرمایہ کاری کرنے سے روکتا ہے جبکہ پیچیدہ قانونی اور انتظامی عمل تاخیر کا سبب بنتا ہے۔
بلوچستان میں کشیدگی برسوں سے جاری ہے مگر حالیہ کشیدگی کے پیچھے خاص مقاصد ہیں۔ اس وقت حکومت بلوچستان کے معدنی ذخائر خاص طور پر سونے کے ذخائر نکالنے کیلئے عالمی سرمایہ کاروں کو متوجہ کر رہی ہے کیونکہ پاکستان کے معدنی شعبہ میں آٹھ ٹریلین ڈالر مالیت کے وسائل موجود ہیں اس طرح یہ شعبہ ملکی معیشت کے استحکام اور ترقی کیلئے اہم ستون ثابت ہو سکتا ہے۔ 8 اور 9 اپریل کو اسلام آباد میں پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم منعقد ہو رہا ہے جس میں عالمی سطح پر کام کرنے والی مشہور کمپنیاں شرکت کریں گی۔ ریکوڈک کے پہلے مرحلے میں 2028ء تک 45ملین ٹن سالانہ پیداوار کا ہدف مقرر کیا گیا ہے اور 2034ء تک سالانہ 90ملین ٹن پیداواری صلاحیت متوقع ہے۔ ریکوڈک منصوبے سے 13.1ملین ٹن تانبہ اور 17.9ملین اونس سونے کے ذخائر حاصل ہوں گے۔ ریکوڈک کی ترقی سے بلوچستان میں معاشی سرگرمیاں تیز ہوں گی جس کا سب سے پہلے فائدہ لازمی طور پر مقامی لوگوں کو ہی ہو گا مگر مقامی لوگوں کے ذہنوں میں ریاست کے خلاف نفرت انڈیل دی گئی ہے۔ پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم کے انعقاد سے چند روز قبل بلوچستان کے حالات کو کشیدہ کرنے کا مقصد ڈھکا چھپا نہیں۔ اس کا ایک حل تو وہ ہے جس کا حکومت فیصلہ کر چکی ہے دوسرا طریقہ اس نفرت کو اعتماد میں بدلنا ہے۔ بلوچستان کے معدنی ذخائر سے فائدہ اٹھانے کیلئے مقامی لوگوں کا اعتماد حاصل کرنا ضروری ہے۔اگر مقامی لوگ محسوس کریں کہ ان کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے تو وہ ان منصوبوں کی مخالفت کرتے ہیں جس سے معاشی نقصان بھی ہوتا ہے اور امن و امان کی صورتحال بھی خراب ہو تی ہے۔ بلوچستان کے مقامی لوگوں کے ساتھ بات چیت اور ان کے تحفظات کو دور کرنے کی کوشش کبھی ختم نہیں ہونی چاہیے۔ وزیراعظم کے مشیر خاص رانا ثنا اللہ نے اختر مینگل سے بات چیت کا اشارہ دیا ہے مگر اس ضمن میں کوئی سنجیدہ کوشش سامنے نہیں آ ئی۔ یہ بات ملحوظ خاطر رکھنے کی ضرورت ہے کہ طاقت کا استعمال وقتی طور پر مسائل کو دبا سکتا ہے لیکن یہ دیرپا حل نہیں ہے۔ بلوچستان کے مسائل کا حل صرف طاقت کے استعمال سے ممکن نہیں۔ مقامی لوگوں کا اعتماد حاصل کرنا اور ان کے ساتھ مل کر کام کرنا ضروری ہے۔ صرف اس طرح سے ہم بلوچستان کے معدنی ذخائر سے ملک کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور علاقے میں امن اور خوشحالی قائم کر سکتے ہیں۔

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں