(زیر تحریر خود نوشت کا ابتدائیہ)
تین جون 1947ء کو وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے ہندوستان کی آزادی اور تقسیم دونوں کے بارے میں اپنے منصوبے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کانگرس اور مسلم لیگ کے رہنماؤں سے دو ملاقاتیں کیں۔ ماؤنٹ بیٹن نے جس منصوبے کا اعلان کیا تھا‘ اس میں کسی بحث و تمحیص کی اجازت نہیں تھی‘ ہاں اور ناں میں اس کا جواب دیا جانا تھا۔ کانگرسی رہنماؤں نے منصوبے کی تائید کر دی لیکن قائداعظمؒ مخمصے میں تھے۔ پنجاب اور بنگال کی تقسیم کی کڑوی گولی نگلنا پڑتی تھی۔ ماؤنٹ بیٹن ''اب یا کبھی نہیں‘‘ کے موڈ میں تھے‘ قائداعظمؒ مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی سے اجازت لینا چاہتے تھے‘ لیکن ماؤنٹ بیٹن نے گول مول طریقے سے ان کی تائید حاصل کر لی‘ اس نے اعلان کر دیا کہ مسٹر جناح ذاتی طور پر اس سے متفق ہیں۔ جناح صاحب نے ہلکا سا سر ہلایا اور خاموش رہے۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے آزادی کی تاریخ کا اعلان بھی کر دیا۔ 15اگست کو برطانوی راج ختم ہو جائے گا‘ اور دو نئی مملکتیں وجود میں آ جائیں گی۔
تین جون کے منصوبے کا اعلان ہونے کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پورے ہندوستان میں جشن کا سماں ہوتا۔ مسجدوں‘ مندروں‘ گورد واروں اور گرجوں میں شکرانے کی تقریبات منعقد ہونا شروع ہو جاتیں۔ گلی کوچے جوش و خروش سے بھر جاتے‘ کانگرس اور مسلم لیگ کے رہنما ایک دوسرے کو مبارکبادیں پیش کرتے‘ مٹھائیاں تقسیم ہوتیں کہ ہندوستان آزاد ہو رہا تھا‘ اور پاکستان کے نام سے ایک نیا ملک بھی وجود میں آ رہا تھا۔ دونوں بڑی جماعتوں اور تاجِ برطانیہ کے نمائندوں نے اتفاقِ رائے سے منصوبہ تیار کیا تھا۔ حالات جو بھی تھے‘ وجوہات جو بھی تھیں‘ دلوں پر بوجھ جو بھی تھا‘ کانگرس اور مسلم لیگ کے مطالبات جو بھی تھے‘ خواہشات اور توقعات جو بھی تھیں‘ دونوں کو آزادی مل رہی تھی‘ وہ آزادی جس کا خواب برسوں سے دیکھا جا رہا تھا‘جس کے لیے طویل جدوجہد کی گئی تھی‘ سینکڑوں کیا ہزاروں جس کے لیے قید و بند کی صعوبتوں سے گزرے تھے لیکن جوں جوں اگست کا مہینہ قریب آ رہا تھا‘ تناؤ میں اضافہ ہو رہا تھا‘ برسوں ساتھ رہنے والوں کو ایک دوسرے سے خوف محسوس ہونے لگا تھا۔ ہوشیارپور کے باسیوں کے درمیان بھی اجنبیت کی دیواریں کھڑی ہونے لگیں‘ یہ مسلمان اکثریت کا علاقہ نہیں تھا‘ کہا جانے لگا مسلمانوں تمہارا ملک تو بن گیا‘ تم نے تو اپنی زمین الگ کر لی‘ سانجھ توڑ دی‘ اب وہاں جانے کی تیاری کرو۔ یہ سب ناقابلِ یقین تھا۔
مسلم لیگ کے لاہور اجلاس میں مارچ1940ء کے دوران جب مسلمانوں کے اکثریتی علاقوں کو الگ وطن کی صورت علیحدہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا تو اس میں صوبوں کا نام نہیں لیا گیا تھا‘ اس کے بجائے ''مسلم اکثریت کے متصل علاقوں‘‘ کی اصطلاح استعمال کی گئی تھی‘ لیکن سمجھا یہ جا رہا تھا کہ مسلمان اکثریت کے صوبے نئی مملکت کا حصہ تو ہوں گے ہی‘ ان کے ساتھ ملنے والے بعض دوسرے علاقے بھی حاصل کر لیے جائیں گے۔ لیاقت علی خان جب قراردادِ لاہور کی منظوری کے بعد نئی دہلی پہنچے تو ان سے پوچھا گیا کہ ''صوبوں‘‘ کے الفاظ کیوں استعمال نہیں کیے گئے تو انہوں نے ترت جواب دیا تھا کہ اگر صوبوں کا لفظ استعمال کرتے تو دہلی پر دعویٰ کیسے کر سکتے تھے۔ گویا ان کی استعمال کردہ اصطلاح نئی دہلی کو لپیٹ میں لے سکتی تھی۔ یہ ابہام اُس قت تک برقرار رہا جب تک کہ بنگال اور پنجاب کی تقسیم پر مسلم لیگ نے اتفاق نہیں کر لیا۔
ہوشیارپوریوں اور جالندھریوں کا یہ راسخ خیال تھا کہ پاکستان بننے کے بعد‘ اگر وہ اس کا حصہ نہ بنے تو بھی‘ آرام اور سکون سے اپنے گھروں میں رہیں گے۔ ان کی ہمسایہ مسلمان ریاست انہیں توانائی فراہم کرتی رہے گی‘ اور وہ بھارت کے اندر رہتے ہوئے اپنی سج دھج کو برقرار رکھ سکیں گے‘ جوں جوں آزادی کے دن قریب آتے گئے‘ فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ ہوتا گیا‘ برسوں سے ساتھ رہنے والے ایک دوسرے کو اجنبی نگاہوں سے دیکھنے بلکہ گھورنے لگے‘ ملک کے مختلف حصوں سے آنے والی فسادات کی خبریں ماحول کو متاثرکرنے لگیں‘ کشیدگی بڑھتی گئی‘ جھگڑے بلکہ حملے ہونے لگے‘ شدید مخمصوں کے دوران آزادی کا اعلان ہو گیا‘ پاکستان کے نام سے نئی ریاست قائم ہو گئی‘ لیکن اس کی جغرافیائی حدود واضح نہیں تھیں۔ پنجاب اور بنگال کو تقسیم کرنے والے باؤنڈری کمیشن نے اپنی رپورٹ پیش نہیں کی تھی۔ فسادات پورے ہندوستان کو لپیٹ میں لے چکے تھے‘ لیکن بنگال اور پنجاب میں ان کی شدت بڑھتی جا رہی تھی۔ یہ سلسلہ کیسے شروع ہوا‘ پہل کس نے کی‘ آغاز کہاں سے ہوا‘ یہ سب سوالات مختلف محققین اور مصنفین کے سامنے کھڑے رہے ہیں‘ اور انہوں نے اپنے اپنے طور پر کھوج لگانے کی کوشش بھی کی ہے‘ اس تفصیل میں جائے بغیر سامنے کی حقیقت یہ ہے کہ مسلمان اور ہندو اکثریت کے علاقوں میں سے کوئی بھی یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ اس کے ہاں امن و امان رہا۔ تحریک آزادی کے دوران کسی بھی سطح پر انتقالِ آبادی کا سوال کبھی زیر بحث نہیں آیا تھا۔ مسلم اکثریتی علاقوں کے ہندوؤں اور سکھوں اور ہندو اکثریت کے علاقوں کے مسلمانوں کو وہیں رہنا تھا‘ جہاں وہ برسوں سے رہتے چلے آئے تھے‘ کسی نے سوچا بھی نہ تھا کہ دونوں نئے ملکوں کی زمین ان کے اپنے ہی لاکھوں فرزندوں کیلئے اجنبی بن جائے گی اور انہیں اپنی جانیں بچانے کے لیے وہاں سے بھاگنا پڑے گا۔ خون کی ہولی کھیلی گئی‘ املاک اور جانوں پر حملے کیے گئے‘ عزتیں لوٹی گئیں اور پورا پنجاب لہولہان ہو گیا۔ ہوشیارپور کے مسلمانوں کی دنیا بھی اندھیر ہو گئی اور کٹتے مرتے‘ لٹتے پٹتے قافلے پاکستان کی طرف روانہ ہو گئے۔ ایک ٹرک میں اپنے والدین اور دو بڑے بھائیوں اور دو بہنوں کے ساتھ ایک دو سال کا بچہ بھی سہما ہوا بیٹھا تھا‘ اُس کے ماموں اور اُن کے اہل و عیال بھی ہم سفر تھے‘ ان سب کو چھپانے کے لیے ان کے اوپر ترپالیں ڈال دی گئی تھیں کہ دور سے کوئی دیکھے تو ٹرک سامان سے بھرا نظر آئے‘ کسی انسانی وجود کی بھنک دیکھنے والوں کو نہ پڑ سکے‘ دو سال کا بچہ اچھی طرح بول تو نہیں سکتا تھا‘ لیکن چند ٹوٹے پھوٹے الفاظ اسے ضرور ازبر تھے‘ وہ ان کو دہرانے‘ اور زور زور سے اپنی امی اور ابا جان کو آوازیں دینے یا چیخنے چِلانے میں مصروف تھا‘ اور ٹرک میں سوار اس کے ماموں کی جان نکلی جا رہی تھی کہ اس کی زبان کیسے بند کی جائے‘ یا یہ کہیے کہ گلا کیسے گھونٹا جائے؟ ان کا دل دھک دھک کر رہا تھا کہ اس بچے کا ادا کردہ کوئی لفظ اگر اردگرد پھیلے ہوئے خونخواروں میں سے کسی کو سنائی دے گیا تو قیامت آ جائے گی۔ پاکستان تک پہنچنے اور اس کی سرزمین کو چومنے کا خواب ادھورا رہ جائے گا۔ میری والدہ بتاتی تھیں کہ اللہ توبہ کرتے‘ منتیں مانتے‘ کلمے کا ورد کرتے ہم کسی نہ کسی طور واہگہ کی سرحد پر پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ قائداعظم محمد علی جناح ؒ ہمیں ہندوستانی بنا کر چھوڑ آئے تھے‘ انہوں نے تلقین کی تھی کہ اب آپ کو اپنے ''نئے وطن‘‘ کا وفادار بن کر رہنا اور ایک ہندوستانی کے طور پر اپنا کردار ادا کرنا ہے‘ لیکن ماسٹر تارا سنگھ اور اُس کے سنگھیوں نے ہمیں پاکستانی بنا دیا۔ وہ پاکستان جس کا خواب دیکھتے دیکھتے‘ اور جس کی آرزو کرتے کرتے کئی سال گزر چکے تھے‘ اور جس کے نعرے لگاتے لگاتے ٹرک سوار بزرگوں کے گلے بیٹھ بیٹھ جاتے تھے‘ اس تک پہنچنا ان ہم وطنوں کی بدولت ممکن ہوا‘ جو اس کا نام تک سننا گوارا نہیں کرتے تھے۔ (جاری)
(یہ کالم روزنامہ ''پاکستان‘‘ اور روزنامہ ''دنیا‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)