اس خبر نے چکرا کر رکھ دیا کہ خیبرپختونخوا کی عالمی شہرت یافتہ جامعہ حقانیہ میں خود کش دھماکہ ہوا ہے اور اس کے نائب مہتمم مولانا حامد الحق چند دوسرے نمازیوں سمیت نشانہ بنا ڈالے گئے ہیں۔ 57سالہ حامد مولانا سمیع الحق کے فرزندِ ارجمند اور شیخ الحدیث مولانا عبدالحق کے پوتے تھے اور جمعیت العلمائے اسلام(س) کے سربراہ بھی۔ سات سال پہلے ان کے جلیل القدر والد کو بحریہ ٹاؤن راولپنڈی میں ان کی رہائش گاہ کے اندر چھریوں کے وار کر کے مار ڈالا گیا تھا۔ بتایا گیا تھا کہ قاتل دیوار پھلانگ کر گھر میں داخل ہوا اورحضرت مولانا کی جان لینے میں کامیاب ہو گیا۔ مولانا حامد الحق نے اپنے 81سالہ والد کا پوسٹمارٹم کرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ ہزاروں سوگواروں نے ان کی نمازِ جنازہ ادا کی اور انہیں اکوڑہ خٹک میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔ کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ ایک دن ایسا آئے گا جب کوئی نابکار جامعہ حقانیہ کے احاطے میں خود کش دھماکہ کرنے کی جسارت کرے گا اور مولانا حامد الحق کو تاک کر نشانہ بنائے گا۔
جامعہ حقانیہ‘ جس کی بنیاد حضرت مولانا عبدالحق نے قیام پاکستان کے فوراً بعد رکھی تھی‘ دارالعلوم دیو بند کے بعد اہلِ سنت مسلمانوں کے دیو بندی مکتب فکر کی سب سے بڑی درسگاہ سمجھی جاتی تھی۔ حضرت مولانا مفتی محمد شفیع کا قائم کردہ دارالعلوم کراچی اپنی الگ شان رکھتا ہے‘ کئی دوسرے مدارس بھی اپنی تعلیم و تربیت کی بدولت ممتاز ہیں اور ان کے فارغ التحصیل طلبہ بڑی تعداد میں پاکستان ہی نہیں پورے عالمِ اسلام میں خدمات انجام دے رہے ہیں لیکن دارالعلوم حقانیہ کی ایک بڑی وجۂ شہرت یہ بنی کہ یہاں افغان طلبہ کی بڑی تعداد زیر تعلیم رہی۔ اس کے فارغ التحصیل نوجوانوں میں سے بہت سوں نے سوویت فوجوں کے افغانستان میں داخلے کے بعد شروع ہونے والے جہاد میں فیصلہ کن کردار ادا کیا‘ بعدازاں جس طالبان تحریک نے افغانستان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا‘ اس کے اکابرین کی بڑی تعداد بھی اسی مدرسے کی طالب علم رہی تھی۔ آج افغان طالبان کی کابینہ میں یہیں کے سند یافتہ وزرا بھی موجود ہیں۔ افغانستان سے اس تعلق نے اس مدرسے کو عالمی شہرت دے دی اور اپنے والد شیخ عبدالحق کی وفات کے بعد ان کی مسند پر فائز ہونے والے مولانا سمیع الحق ''بابائے طالبان‘‘ کہلانے لگے۔
افغان رہنماؤں کی کئی نسلوں سے تعلق کی وجہ سے جامعہ حقانیہ نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان (مختلف اوقات میں) اعتماد سازی کے لیے بھی بڑا کردار ادا کیا اور مولانا سمیع الحق کے بعد مولانا حامد الحق اس حوالے سے سرگرم رہے۔ مولانا سمیع الحق کے رفیقِ خاص یوسف شاہ بھی گتھیاں سلجھانے میں لگے رہے۔ مولانا سمیع الحق کے چھوٹے بھائی مولانا انوارالحق اب جامعہ کے مہتمم ہیں اور اپنے علم و حلم کی وجہ سے ممتاز ہیں‘ انہوں نے اپنے آپ کو سیاسی جھمیلوں سے الگ ہی رکھا ہے۔
مولانا عبدالحق مرحوم 1970ء کے انتخابات میں اکوڑہ خٹک ہی سے جمعیت العلمائے اسلام کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ مولانا مفتی محمود سے ان کا تعلق گہرا اور قریبی تھا۔ 1973ء کے دستور کی تدوین و ترتیب میں بھی انہوں نے اپنا حصہ ڈالا اور اسے ایک متفقہ دستاویز بنانے میں کردار ادا کیا۔ سابق گورنر پنجاب اور بھٹو مرحوم کے انتہائی قریبی رفیق ملک غلام مصطفی کھر نے مجھے بتایا تھا کہ وہ جن چند لوگوں کے کردار سے بہت متاثر ہوئے ان میں مولانا عبدالحق بھی شامل تھے۔ کھر صاحب کا کہنا تھا کہ وہ دستور سازی کے دوران بھٹو صاحب کی دعوت پر ان سے ملاقات کے لیے تشریف لائے تو ان سے تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ رخصت ہونے لگے تو ایک بڑا بریف کیس ان کی خدمت میں پیش کر دیا گیا۔ استفسار ہوا اس میں کیا ہے تو بتایا گیا جامعہ کے طلبہ کے لیے تحائف ہیں۔ مولانا عبدالحق نے اسے کھولا تو یہ نوٹوں سے بھرا ہوا تھا‘ روپوں کے ڈھیر دیکھ کر ان کا چہرہ سرخ ہو گیا‘ وہ انہیں واپس بھٹو صاحب کی طرف دھکیلتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئے۔ ملک غلام مصطفی کھر (جو ماشاء اللہ بقید حیات ہیں) کا کہنا تھا کہ اس طرح کا منظر وہ ایک یا دو بار ہی دیکھ سکے۔ عام طور پر بھٹو صاحب جس ملاقاتی کو ''نذرانہ‘‘ پیش کرتے وہ خوشی خوشی اسے وصول کر لیتا۔ شیخ الحدیث عبدالحق کی بے غرضی نے اہلِ غرض کو شرمندہ کر دیا اور غلام مصطفی کھر کے دِل پر ایسا نقش جمایا کہ وہ اسے فراموش نہیں کر پائے۔
مولانا مفتی محمود کی وفات کے بعد جمعیت العلمائے اسلام دو دھڑوں میں تقسیم ہو گئی۔ مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں اس نے حزبِ اختلاف کا کردار ادا کرنے کی ٹھانی اور بحالی جمہوریت کے لیے '' ایم آر ڈی‘‘ کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا تو مولانا سمیع الحق کی قیادت میں اس کے ''س‘‘ گروپ نے جنرل ضیا الحق کے ساتھ مل کر نفاذِ شریعت کو مقدم جانا۔ مولانا سمیع الحق سینیٹر منتخب ہوئے‘ انہوں نے سینیٹ میں شریعت بل پیش کیا لیکن جنرل ضیا سے ان کے تعلقات ہموار نہ رہے۔ جنرل ضیا کے آخری ایام میں دونوں کے درمیان فاصلہ پیدا ہو چکا تھا۔ جنرل مرحوم کے جنازے میں جو لاکھوں افراد شریک ہوئے‘ ان میں ایک مولانا سمیع الحق بھی تھے۔ فیصل مسجد کے احاطے میں ان سے ملاقات ہوئی تو آنکھیں پانی سے لبریز تھیں۔ عام انتخابات کا مرحلہ آیا تو اسلامی جمہوری اتحاد (آئی جے آئی) کی بنیاد ڈالی گئی۔ مسلم لیگ اور جماعت اسلامی کے ساتھ مولانا سمیع الحق کی جمعیت بھی اس کثیر الجماعتی اِکٹھ میں شامل ہو گئی۔ آئی جے آئی میں قیادت کا منصب باری باری ہر شریک جماعت سنبھالتی تھی۔ مولانا سمیع الحق اپنی باری سے وزیراعلیٰ پنجاب نواز شریف کے حق میں دستبردار ہو گئے تو انہوں نے آئی جے آئی کی صدارت سنبھال کر قومی سیاست میں قائدانہ کردار ادا کرنے کا آغاز کر دیا اور وزارتِ عظمیٰ کے منصب تک پہنچے۔ مولانا سمیع الحق نے افغانستان پر نیٹو (بشمول امریکہ) لشکر کشی کے بعد پاکستان میں افغان جہاد کونسل کے نام سے متحدہ محاذ قائم کیا اور طالبان حکومت کی حمایت میں سرگرم رہے۔
مولانا سمیع الحق کی زندگی ہی میں حامد الحق نے قومی اسمبلی کا انتخاب لڑا اور متحدہ مجلس ِعمل کی ٹکٹ پر جنرل پرویز مشرف کے عہد میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ حامد الحق نے جامعہ حقانیہ ہی سے دینی علوم میں سند حاصل کرنے کے بعد بی اے کا امتحان دیا اور یہ ڈگری بھی حاصل کر لی۔ افغان طالبان کے ساتھ رابطوں کے باوجود انہوں نے خواتین کی تعلیم کے حوالے سے طالبان کے موقف سے اختلاف کیا اور تعلیم کو خواتین کا شرعی حق قرار دیا۔ مولانا حامد الحق کی شہادت سے پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان ایک موثر رابطہ ٹوٹ گیا۔ اس المناک حادثے پر افغان حکومت نے بھی شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے‘ پاکستان کے ساتھ ساتھ افغانستان میں بھی ان کا خلا شدت سے محسوس کیا جائے گا۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ داعش کی کارروائی ہے‘ طالبان کے مخالف گروہوں کا نام بھی زبانوں پر آ رہا ہے‘ جس نے بھی یہ گھناؤنی واردات کی ہے‘ اس نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان خلیج کو گہرا کرنے کی سازش کی ہے‘ جسے ناکام بنانا پاکستان اور افغانستان کے مقتدر حلقوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ مولانا حامد الحق کے جانشینوں کو بھی ان کے مشن سے دستبردار نہیں ہونا چاہیے‘ افغانستان اور پاکستان کی سرحدوں کی طرح ان کے دِل بھی جڑے رہنے چاہئیں۔
(یہ کالم روزنامہ ''پاکستان‘‘ اور روزنامہ ''دُنیا‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)