مائیں سب کی سانجھی ہوتی ہیں

انا للہ وانا الیہ راجعون! سپہ سالار جنرل عاصم منیر کی والدہ محترمہ کا انتقال ان کیلئے ناقابلِ تلافی نقصان ہے اور دکھ کی اس گھڑی میں پوری قوم انہیں پُرسہ پیش کرتی ہے کہ آرمی چیف کی والدہ محترمہ کا ان کی دینی و دنیاوی تربیت میں ناقابلِ فراموش کردار رہا ہے۔ آرمی چیف نے ایک فرمانبردار بیٹے کا ثبوت پیش کرتے ہوئے اپنی والدہ کی نمازِ جنازہ خود پڑھائی اور اپنے ہاتھوں سے انہیں لحد میں اُتارا۔ ایک اعلیٰ منصب پر ہونے کے باوجود انہوں نے عمدہ مثال قائم کی کہ ایک تابع فرمان بیٹے کو کیسا ہونا چاہیے۔ راقم الحروف کو بھی آرمی چیف کی والدہ محترمہ کے جنازے میں شرکت کا موقع ملا۔ میں رنج و الم کی اس کیفیت کو الفاظ میں بیان کرنے سے قاصر ہوں۔ میں نے دیکھا کہ آرمی چیف نے لرزتے و کپکپاتے ہونٹوں سے دعا پڑھی‘ ان کی آنکھیں غم سے نم تھیں بلکہ جنازے میں شریک ہر شخص کی آنکھیں اشکبار تھیں۔ جب لوگوں تک آرمی چیف کی والدہ محترمہ کی رحلت کی اطلاع پہنچی تو میرے پاس فون کالز کا تانتا بندھ گیا تھا کیونکہ سبھی جنازے میں شرکت کرنا چاہتے تھے۔ وہ اپنے اُس سپہ سالار کو کرب کے ان لمحات میں تنہا کیسے چھوڑ سکتے تھے جو اُن کی سلامتی کیلئے دہشت گردوں کے خلاف بر سر پیکار ہیں۔ ہم پاک دھرتی کے دلیر و نڈر سپوت سے تعزیت کرتے ہیں جنہوں نے اپنی متاع حیات‘ اپنے سائبان کو کھودیا ہے۔ اللہ مرحومہ کے درجات بلند فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازے۔ آمین!
ماں کی تربیت بلاشبہ انسان کی زندگی پر سب سے دیرپا نقوش چھوڑتی ہے اور آرمی چیف کی والدہ محترمہ کا ان کی دینی و دنیاوی شخصیت کو نکھارنے میں ناقابلِ فراموش کردار رہا ہے۔ میں ان کی والدہ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے آرمی چیف کو حب الوطنی اور اسلام کا سبق پڑھایا۔ سپہ سالار کے عزت و وقار کے پیچھے ماں جیسی عظیم ہستی کی دعائیں پوشیدہ ہیں۔ بے شک انہیں آدابِ فرزندی کے سلیقے اسی عظیم درسگاہ نے ہی ازبر کروائے۔
یہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسمٰعیل کو آدابِ فرزندی
آرمی چیف کی والدہ کے جنازے میں صدرِ مملکت آصف علی زرداری‘ وزیراعظم شہباز شریف‘ سابق وزیراعظم نواز شریف سمیت اعلیٰ سیاسی رہنما شریک ہوئے۔ علاوہ ازیں ڈی جی آئی ایس آئی‘ ڈی جی آئی ایس پی آر‘ ائیر چیف و سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی‘ جنرل قمر جاوید باجوہ اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی ندیم انجم سمیت اعلیٰ عسکری قیادت کے ساتھ ساتھ سعودی عرب‘ عراق‘ ایران‘ انڈونیشیا‘ ملائیشیا اور دیگر اسلامی ممالک کے سفرا نے بھی شرکت کی۔ جنازے میں لوگوں کے جم غفیر سے اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ پاکستانی عوام کے دلوں میں آرمی چیف کیلئے کس قدر عزت و احترام ہے۔ بالخصوص ماڈرن نوجوان‘ جن کے بارے میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ ان کا ایک خاص سیاسی گروپ سے گہرا تعلق ہے‘ ان کی موجودگی حیران کن تھی کہ وہ آرمی چیف اور عساکر پاکستان سے والہانہ عقیدت رکھتے ہیں۔
میں یہ خاص طور پر بتانا چاہوں گا کہ آرمی چیف اس اندوہناک گھڑی میں بھی تمام شرکا سے خندہ پیشانی و حلیمی سے پیش آئے۔ انہوں نے اپنی والدہ کا جنازہ خود پڑھا کر نوجوانوں کیلئے ایک مثال قائم کی ہے۔ جب وہ اپنی والدہ محترمہ کو لحد میں اتا رہے تھے تو دل میں ایک ٹھیس سی اُٹھ رہی تھی کیونکہ ہر کسی کا اس تکلیف سے واسطہ پڑتا ہے‘ کوئی یہ غم پہلے سے جھیل رہا ہے اور کسی نے ابھی جھیلنا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے سورہ قدرکی تلاوت کی۔ ان کی آواز لرز رہی تھی۔ سپہ سالار کی والدہ محترمہ ایک حافظ قرآن کی ماں تھیں اور رمضان المبارک میں رب کی طرف سے ان کا بلاوا آیا اور وہ جنت نشین ہو گئیں۔ ہمارے سپہ سالار نے اپنی جنت کو سپردِ خاک کیا اور ان کے جنارے کا بوجھ خود اٹھایا۔ میں نے بھی اپنی والدہ کے جنازے کا بوجھ خود اٹھایا تھا۔ مشیتِ ایزدی کے سامنے سب کو سر تسلیم خم کرنا پڑتا ہے‘ یہی قدرت کا قانون ہے۔
میری والدہ میری آنکھوں کی ٹھنڈک‘ میرے دل کا سرور‘ میری متاع حیات تھیں۔ 2019ء میں مَیں ان کی محبت کی گھنی چھاؤں سے محروم ہو گیا۔ آج بھی وہ دن یاد آتا ہے تو دل کی دھڑکن رک جاتی ہے‘ غم کی شدت سے پاؤں کے نیچے سے زمین سرکنے لگتی ہے۔ میرا چین اور سکون ان کے ساتھ ہی رخصت ہو گیا تھا۔ ان کی وفات سے لے کر کوئی ایسا دن نہیں گزرا جب میں نے ان کی قبر پر حاضری نہ دی ہو۔ کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ میری اپنی امی جان سے ایسے بھی ملاقات ہو گی کہ وہ منوں مٹی تلے محو استراحت ہوں گی۔ یقینا ان کی لحد ان کیلئے جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ثابت ہو گی۔ میں جب بھی اپنے مرحوم والدین کیلئے دعا مانگنے قبرستان جاتا ہوں تو ہمیشہ اپنی والدہ محترمہ کے قدموں کی طرف بیٹھتا ہوں‘ جو راحت مجھے یہاں ملتی ہے وہ دنیا میں کہیں نہیں ہے۔ والدین کے بغیر میری 2025ء کی عیدالفطر بھی گزشتہ برسوں کی عیدوں کی طرح ادھوری ہی گزرے گی۔ انسان زندگی میں جتنے مرضی بڑے عہدے پر چلا جائے لیکن اسے سکون ہمیشہ اپنی ماں کے قدموں میں ہی ملتا ہے ۔سچ تو یہ ہے کہ ان کے بعدکوئی دعائیں دینے والا نہیں‘ نہ ڈھال بن کر حفاظت کرنے والا ہے۔
بے شک ماں بے لاگ محبت والفت کی عمدہ مثال اور اولاد کیلئے بے غرض ہمدردی وشفقت کا روشن مینار ہے جس میں ممتا کی بے پناہ مٹھاس‘ایثار وقربانی کا انمول احساس اور دلچسپی ودل بستگی کا ہرسامان اس طرح جلوہ گر ہے کہ دنیا کی ہرطاقت وقوت‘ہر چاہت والفت اس کے آگے ہیچ ہے۔ماں کی محبت کا اندازہ اس طرح بھی لگا یا جاسکتا ہے کہ رب نے اپنی محبت کو ماں کی محبت سے مشابہت دی ہے ۔ فرانِ الٰہی ہے کہ میرے بندے میں تجھ سے ستر ماؤں سے بھی زیادہ پیار کرتا ہوں ۔ہمارے آقا سرورکائنات محمد کریمﷺ کا فرمان ہے کہ اگر میری والدہ حیات ہوتیں اور میں عشا کی نماز پڑھ رہا ہوتا ایسے میں میری والدہ مجھے آواز دیتیں کہ محمد(ﷺ)...تو میں نماز چھوڑ کر اپنی والدہ کی خدمت میں حاضر ہوتا اور کہتا: محمد حاضر ہے ماں۔یہ رتبہ‘ یہ مقام ہے میرے سرکار حضرت محمدکریمﷺ کی نظر میں اپنی والدہ ماجدہ کا۔ یہ حضرت محمدکریمﷺ کا ہی فرمان ہے کہ جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے۔ماں محبت احساس‘درد‘خلوص‘اپنائیت‘قربانی اورایثار کا مجسم پیکر ہے۔ ماں کے جذبۂ محبت کی بدولت ہی ہماری شخصی تعمیر وترقی روشن اور اس کی پیشانی کی سلوٹوں میں ہماری تقدیر پنہاں ہوتی ہے۔ رب ذو الجلال نے اس کے دل کے نہاں خانے محبت و پیار کا پورا سمندر پیوست کردیاہے۔اسی وجہ سے کبھی اس کی پیشانی پر اولاد کی دل آزاری کے باوجود کوئی شکن نہیں پڑتی۔ اس کا سایہ ہمارے لیے ٹھنڈی چھاؤں کی مانند ہے۔ قرآن پاک نے بار بار ماں کی شان بیان کی ہے ۔ کتبِ احادیث بھی اس کی رفعت و بالائی سے بھری ہوئی ہیں۔ الحمدللہ ثم الحمدللہ !آج مجھے جو عزت و مقام ملا ہے وہ سب میری ماں کی دعاؤں کا صدقہ وخیرات ہے۔ آفرین ہے کہ جنازے میں شرکت پر محترم آرمی چیف نے میرا شکریہ ادا کیا جبکہ میں نے انہیں پُرسہ دیا اور گلے سے لگایا اورکہا سر! مائیں تو سب کی سانجھی ہوتی ہیں!

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں