"ACH" (space) message & send to 7575

او آئی سی اجلاس اور پاکستان

او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس کی میزبانی پاکستان کے لیے اعزازکی بات ہے۔ اسلام آباد میں وزرائے خارجہ کی یہ کانفرنس ایسے وقت میں ہوئی ہے جب دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر ہے۔ یوکرین اور روس کے باہمی ٹکرائو کا شعلہ کسی بھی وقت عالمی ممالک کو ایک دوسرے کے خلاف صف آراء کر سکتا ہے۔ پاکستان کی کوششوں کی وجہ سے ہی اقوام متحدہ نے پندرہ مارچ کو اسلامو فوبیا کے خلاف عالمی دن قرار دیا۔ ایسے میںمسلم ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ۔ وزرائے خارجہ کونسل کے دو روزہ اجلاس میں46 رکن ممالک کے وزرا شریک ہوئے اور اجلاس میں 150سے زائد قراردادیں منظور کی گئیں۔ کشمیر‘فلسطین‘اسلامو فوبیا‘اُمہ کے اتحاد سمیت مختلف مسائل و معاملات زیربحث رہے۔پاکستان عالمی ایشوز پر مسلم ممالک اور ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی آواز کو دنیا کے سامنے بلند کرتا آیا ہے۔ بہت سے محاذ پر ہمیں کامیابی بھی ہوئی ہے۔ سفارتی سطح پر گزشتہ تین برسوں میں بہت زیادہ کام ہوا۔ پاکستان سمیت تمام مسلم ممالک کو نائن الیون کے بعد دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی اور یورپ اور امریکہ میں نائن الیون کے بعد اسلامو فوبیا کا رجحان شدت اختیار کر گیا۔ دنیا بھر میں مسلمانوں کے لیے زندگی اجیرن کر دی گئی۔ آج بھی اِکا دُکا واقعات مغرب میں موجود انتہا پسندوں کی تنگ نظری کو آشکار کر رہے ہیں لیکن ان کو اقوام متحدہ اور مغرب نظر انداز کر دیتے ہیں اور اس طرح اسے ہدف تنقید نہیں بناتے جیسے مسلمانوں سے جڑے واقعات کو بنایا جاتا ہے۔ دو روز قبل کینیڈا میں فجر کے وقت کلہاڑی سے مسلح افراد نے مسجد پر حملہ کر کے نمازیوں کو شدید زخمی کر دیا۔ ایسے کئی واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے یا پھر انہیں دبا دیا جاتا ہے۔ پاکستانی اور دیگر ممالک کے مسلمان دنیا بھر میں عالمی اداروں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔ امریکہ میں پاکستانی ڈاکٹرز کی مہارت کو دنیا تسلیم کرتی ہے۔ پاکستان سائنسدان اور انجینئرز عالمی سطح پر اپنا لوہا منوا چکے ہیں لیکن یہ ساری کامیابیاں اس وقت خطرے کا شکار ہو جاتی ہیں جب مسلمانوں کو ٹارگٹ کر کے دیوار سے لگانے کی کوشش کی جاتی ہے اور ان پر آواز بلند نہیں کی جاتی۔ او آئی سی کا پلیٹ فارم انہی مسائل سے نمٹنے کے لیے بنایا گیا اور گزشتہ روز مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسلمانوں کو درپیش معاشی‘سیاسی اور دیگر مسائل پر روشنی ڈالی اور ان کے حل کے لیے اپنی اپنی تجاویز پیش کیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام امن پسند مذہب ہے اور اس کا دہشت گردی اور انتہاپسندی سے کوئی تعلق نہیں لیکن دنیا کے ہر کونے میں مسلمانوں کو اسلاموفوبیا کے واقعات کا سامنا ہے۔او آئی سی کانفرنس سے وزیراعظم عمران خان نے اپنے خطاب میں مسلم اُمہ کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا اور دنیا کے سامنے اسلام کا اصل چہرہ پیش کرنے کی کوشش کی۔ وزیراعظم نے یہ بات بڑے دبنگ انداز میںکی کہ انتہا پسند سوچ کسی کی بھی ہوسکتی ہے مگر اس کو اسلام سے جوڑا جاتا ہے جیسا کہ نیوزی لینڈ میں مسجد میں بے گناہ لوگوں کو مارا گیا مگر دنیا اسلاموفوبیا کے ایسے واقعات پر خاموش رہی۔ آج اسلامو فوبیا کے ساتھ ساتھ دنیا کو بہت سے دیگر چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔ اس پر بھی وزیراعظم نے بات کی جیسا کہ چائلڈ پورنو گرافی اور ٹیکنالوجی کا غلط استعمال۔ یہ مسئلہ دنیا کے ہر مذہب اور ہر ملک کو درپیش ہے۔ بڑوں کی دیکھا دیکھی بچے بھی اپنے اپنے موبائل فون سے چپکے نظر آتے ہیں۔ وہ اس پر کیا دیکھتے ہیں‘ کس سے بات کرتے ہیں والدین لا علم ہیں۔ انہیں تب پتہ چلتا ہے جب پانی سر سے سے گزر چکا ہوتا ہے۔ جنسی بھیڑیے اب ٹیکنالوجی کے پلیٹ فارم پر بھی آ چکے ہیں اور وہاں بھی اپنی بد اعمالیوں کا جال پھیلا چکے ہیں۔اس حوالے سے وزیراعظم کی یہ تجویز اچھی ہے کہ مسلم ممالک کو سوشل میڈیا پراپنا بیانیہ پھیلانے پر زور دینا چاہیے بلکہ اس کے متبادل کی تیاری پر بھی غور کرنا چاہیے کیونکہ اگر ہم اپنی نئی نسل کو اس اخلاق باختہ اور ذہنی تباہی کے گڑھے میں گرنے سے نہ بچا سکے تو آئندہ مسلم ممالک کی باگ ڈور کون سنبھالے گا اور کیسے نئی نسل دنیا کے ان اوچھے ہتھکنڈوں کا مقابلہ کرے گی۔ موبائل فون پر موجود جنسی مواد نہ صرف نسلیں تباہ کر رہا ہے بلکہ ان سے جنسی جرائم میں اضافہ بھی ہورہا ہے۔ حتیٰ کہ طلاق کی شرح بڑھ رہی ہے اور بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات میں بھی تیزی آ چکی ہے۔ سوشل میڈیا انقلاب اپنی جگہ لیکن اس کے نقصانات تیزی سے معاشرے کو تباہ کر رہے ہیں۔ مسئلہ کشمیر اور فلسطین کے بارے میں وزیراعظم کا سچ کڑوا ضرور تھا لیکن بہر حال یہ سچ ہے کہ ہم یعنی مسلم ممالک اس حوالے سے خاطر خواہ کامیابی حاصل کرنا تو دُور کی بات کوئی اثر ڈالنے میں بھی ناکام ہو چکے ہیں۔ اس کی وجہ یقینا وہ اختلافات ہیں جن کامسلم ممالک بری طرح شکار ہیں اور اسی وجہ سے ہماری آواز سنی نہیں جاتی۔ یہودی دنیا میں چند کروڑ ہیں لیکن وہ تمام شعبوں میں عالمی مقام رکھتے ہیں۔ طب‘ سائنس‘ادب‘ ٹیکنالوجی سبھی میں وہ آگے ہیں جبکہ مسلمان ‘جو ڈیڑھ ارب سے بھی زیادہ ہیں لیکن ان کی آواز کوئی نہیں سنتا۔آج تک فلسطینیوں اور کشمیریوں کو حقِ خودارادیت نہیں دیا گیا۔کشمیریوں سے بنیادی حقوق چھین لیے گئے ہیں۔مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ پوری دنیا کو معلوم ہے۔ تمام ترقی یافتہ ممالک بھی اچھی طرح آگاہ ہیں لیکن وہ خاموش اس لئے ہیں کیونکہ ان پر اس طرح سے دبائو نہیں آتا جیسا کہ آنا چاہیے۔کشمیر پر غاصبانہ قبضے پر مسلم دنیا بھی خاموش نظر آئی۔ فلسطینیوں کے ساتھ کئی عشروں سے مسلسل زیادتی ہو رہی ہے لیکن ان کی بھی شنوائی نہیں ہوتی۔اب نائن الیون کے بعد امریکہ افغانستان کی صورت میں ایک اور تباہ حال ملک چھوڑ گیا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف اس کے ہمسایہ ممالک بلکہ پورا خطہ بے چینی کا شکار ہے۔امریکہ افغانستان کی مدد کرنے کے بجائے ان کی امداد سے بھی ہاتھ کھینچ رہا ہے۔ نائن الیون کی مد میں جو رقم افغانستان کو ملنا تھی وہ امریکہ اپنے ہی ملک میں تقسیم کرنے کے درپے ہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دنیا میں پرانے مسائل پیچیدہ تر اور نئے مسائل جنم لیتے رہیں گے۔دیکھا جائے تو او آئی سی ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمانوں کی مشترکہ آواز ہے اور مسلم امہ کے درمیان اتحاد اور یکجہتی کیلئے کام کر رہی ہے۔پاکستان او آئی سی کے کردار کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔یہ ایٹمی طاقت ہے اور دنیا بھر میں اپنی پہچان رکھتا ہے۔ اچھی بات ہے کہ اجلاس میں افغانستان میں انسانی بحران سے بچنے کے لیے ٹرسٹ فنڈ قائم کیا گیا اور افغانستان کے لیے نمائندہ خصوصی بھی مقررکیا گیا ۔اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ افغانستان کو اب ہر ممکن انداز میں مستحکم بنانا ہو گا اور افغان عوام کی مدد کرنا ہوگی۔ افغان سرزمین سے دیگر ممالک میں جو دہشت گردی کی جاتی ہے اسے بھی ختم کرنا ہوگا۔وزیراعظم عمران خان کا یہ مشورہ بالکل درست ہے کہ اسلامی ملکوں کو غیر جانبدار رہنا چاہیے اور کسی بلاک میں جانے کے بجائے متحد رہ کر امن میں شراکت دار بننے پر فوکس کرنا چاہیے۔دنیا پہلے ہی بہت زیادہ تنازعات میں تقسیم اور الجھی ہوئی ہے۔ کسی نئے مسئلے میں الجھنے کی کسی میں استطاعت ہے نہ خواہش۔دنیا اگر کچھ کر سکتی ہے تو اسے امن اور آشتی ‘بھول‘افلاس‘بیروزگاری او رمہنگائی کے خاتمے کے لیے کچھ کرنا ہو گا۔سب کو مل کر امن اور خوش حال معاشروں کے قیام کے لیے اپنی طاقت کا بھرپور مظاہرہ کرنا ہوگا ورنہ عالمی ترقی کا یہ بلبلہ کسی بھی وقت پھٹ کر دنیا کے امن اور کامیابیوں کو تہس نہس دے گا۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں