مکتوبِ نبویؐ بنام قیصرِ روم!

نبیٔ اکرمؐ حجاز میں مبعوث ہوئے ‘مگر آپؐ کسی ایک قوم یا علاقے کے لیے نہیں بھیجے گئے تھے۔آپؐ پوری انسانیت کے لیے ہادی بنا کر بھیجے گئے اور قیامت تک جن و انس کے لیے آپؐ ہی کی اتباع نجات کا ذریعہ قرار دی گئی۔ قرآن مجید میں اللہ رب العالمین نے آپؐ کا منصب عالی یوں بیان فرمایا ہے: اور (اے نبیؐ) ہم نے تم کو تمام ہی انسانوں کے لیے بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے‘ مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔ (سباء ۳۴:۲۸)
اللہ رب العالمین نے آپؐ سے فرمایا کہ جو کچھ آپؐ کی طرف نازل کیا جائے اسے بلا کم و کاست پہنچا دیں: اے پیغمبرؐ! جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے‘ وہ لوگوں تک پہنچا دو؛ اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اُس کی پیغمبری کا حق ادا نہ کیا۔ اللہ تم کو لوگوں کے شر سے بچانے والا ہے۔ یقین رکھو کہ وہ کافروں کو (تمہارے مقابلے میں) کامیابی کی راہ ہر گز نہ دکھائے گا۔ (المائدہ۵: ۶۷)
عرب کے اندر جہاں تک آپؐ خود پہنچ سکتے تھے‘ وہاں تک پہنچنے کا آپؐ نے بنفسِ نفیس اہتمام کیا‘جن جن قبائل تک مختلف وفود اور نمائندگان کو بھیجا جاسکتا تھا ‘ان تک آپؐ نے اپنے صحابہ کے ذریعے دعوت پہنچائی۔ دعوت کے اس طویل سفر میں خود آپؐ کو طائف کی وادیوں سے گزرنا پڑا‘ جس کی تفصیلات سیرت کی کتابوں میں موجود ہیں۔ آپؐ کے صحابہ کرامؓ کو رجیع اور بئرمعونہ کے مقتل میں شہادتِ حق کا فریضہ ادا کرتے ہوئے خلعتِ شہادت زیبِ تن کرنا پڑی۔ 
عالمی دعوت کے ابلاغ کیلئے آپ کو صلح حدیبیہ کے بعد فرصت نصیب ہوئی؛ چنانچہ آپؐ نے اس فرصت سے فی الفور فائدہ اٹھایا۔ آپؐ حدیبیہ کے سفر سے واپس پہنچے‘ تو ماہ محرم ہی میں تمام ملوک و امرا کے نام بہت جامع خطوط کے ذریعے اپنا پیغام پہنچا دیا۔ اس وقت کے حکمرانوں میں سب سے زیادہ طاقت ور ہرقل قیصر روم تھا۔ اسے آپؐ کا خط ملا تو اس نے اسے پڑھا اور اس پر تبصرہ بھی کیا۔ اس نے رومی فوجوں کی پے درپے شکستوں کے بعد ایرانیوں کے مقابلے پر خود رومی لشکروں کی کمان سنبھال کر بہت شاندار تاریخی فتوحات حاصل کیں‘ اسے بازنطینی ریاست کے بادشاہوں میں بہت عزت و احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ اُس کی تخت نشینی۶۱۰ء میں ہوئی اور ۶۴۱ء میں اپنی وفات تک یہ برسر اقتدار رہا۔ آنحضورؐ کے جامع و مانع خط کامتن جو تاریخی کتابوں میں نقل کیا گیا ہے‘ یوں ہے: 
''محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول کی طرف سے‘ ہر قل حاکم روم کے نام‘ سلام اس شخص پر جو ہدایت کی پیروی کرے ‘ میں تجھے اسلام کی دعوت دیتا ہوں‘ اسلام لے آ‘ سلامت رہے گا‘ تجھے اللہ تعالیٰ دُہرا اجر دے گا اور اگر تو روگردانی کرے گا تو تیری تمام رعیت کے اسلام نہ لانے کا گناہ تجھ پر ہوگا۔ اے اہلِ کتاب جو بات ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں(تسلیم کی گئی) ہے اس کی طرف آئو۔ وہ یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کریں اور اس کے ساتھ کسی بھی شے کو شریک نہ بنائیں اور ہم میں [سے] کوئی کسی کو اللہ کے سوا کار ساز نہ بنائے؛ اگر یہ بات نہ مانیں تو آپ کہہ دیجیے کہ تم گواہ رہو ہم [اللہ کے] فرماں بردار ہیں۔‘‘(آلِ عمران : ۶۴‘سیرۃ خیرالانام:ص۳۰۲)
قیصر کے پاس آپؐ کا خط لے کر جانے والے صحابی حضرت دِحْیَہ بن خلیفہ کلبیؓ تھے۔ آپؓ خط لے کر چلے تو آپؓ نے آنحضورؐ سے عرض کیا کہ قیصر روم کے بارے میں معروف ہے کہ وہ براہ راست خط وصول کرنے کی بجائے اپنے گورنروں کے ذریعے وصول کرتا ہے۔ دوسرے یہ کہ بغیر مہر ‘وہ کسی خط کو درخورِ اعتنا نہیں سمجھتا۔ نبی اکرمؐ نے تمام حکمرانوں کے نام اپنے خطوط پر مہر ثبت کرنے کے لیے اپنی انگوٹھی کی پشت پر الفاظ کندہ کروائے۔ ''محمد رسول اللہ ‘‘۔ ہر خط پر آنحضورؐ کی یہ مہر لگائی گئی۔ یہ خط بیت المقدس میں قیصر روم کے دربار میں پیش کیا گیا‘ کیونکہ اس وقت قیصر روم یروشلم میں آیا ہوا تھا۔ بصریٰ کے حاکم اور قیصر روم کے گورنر کو مطلع کرکے خط پیش کیا گیا ‘مگر حضرت دحیہ کلبیؓ نے خود بنفس نفیس پہنچ کر یہ خط ہرقل کے حوالے کیا تھا۔ 
ملوک کے نام یہ خطوط محرم ۷ھ میں لکھے گئے تھے۔ قیصر نے خط تمام سفارتی آداب کو ملحوظ رکھتے ہوئے نہایت عزت و احترام کے ساتھ وصول کیا اور اس کا مضمون پڑھوایا‘ پھر اپنے درباریوں سے پوچھا کہ کیا ان دنوں جزیرہ نمائے عرب سے کوئی تاجر یروشلم آیا ہوا ہے تو اسے بتایا گیا کہ سردارِ مکہ ابو سفیان مع دیگر تاجرانِ مکہ شام آیا ہوا ہے۔ چنانچہ ابوسفیان کو دربار میں پیش کیا گیا۔ قیصر نے اس کے ہمراہی تاجروں سے کہا کہ میں ابو سفیان سے سوال کروںگا‘ اگر یہ کوئی جواب غلط دے تو مجھے بتا دینا۔ ابو سفیان ان دنوں حضورؐ کا جانی دشمن تھا۔ اس کا بیان ہے کہ اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ میرے ساتھی میرا جھوٹ ظاہر کردیں گے تو میں بہت سی باتیں غلط بتاتامگر اس وقت قیصر کے سامنے مجھے سچ سچ ہی کہنا پڑا۔ 
قیصر: ''محمدؐ کا خاندان اور نسب کیسا ہے؟ ‘‘ابو سفیان: ''شریف و عظیم‘‘۔ 
یہ جواب سن کر ہرقل نے کہا ''سچ ہے۔ نبی شریف گھرانے کے ہوتے ہیں‘ تاکہ اُن کی اطاعت میں کسی کو عار نہ ہو۔‘‘ 
قیصر: ''محمدؐ سے پہلے بھی کسی نے عرب میں یا قریش میں نبی ہونے کا دعویٰ کیا ہے؟‘‘
ابو سفیان : ''نہیں‘‘۔ 
یہ جواب سُن کر ہر قل نے کہا ''اگر ایسا ہوتا تو میں سمجھ لیتا کہ اپنے سے پہلے کی نقالی کرتا ہے۔‘‘
قیصر: ''نبی ہونے کے دعویٰ سے پہلے کیا یہ شخص جھوٹ بولا کرتا تھا یا اس پر جھوٹ بولنے کی کبھی تہمت لگی‘‘۔ 
ابو سفیان: ''نہیں ‘‘
ہر قل نے کہا: ''یہ نہیں ہوسکتا کہ جس شخص نے لوگوں پر جھوٹ نہ بولا‘ وہ خدا پر جھوٹ باندھے‘‘۔ 
قیصر: ''اس کے باپ دادا میں سے کوئی شخص بادشاہ بھی ہوا ہے‘‘؟ ابوسفیان: ''نہیں‘‘۔ 
ہر قل نے اس جواب پر کہا: ''اگر ایسا ہوتا تو میں سمجھ لیتا کہ نبوت کے بہانے سے باپ دادا کی گم گشتہ سلطنت حاصل کرنا چاہتا ہے‘‘۔ 
قیصر: ''محمدؐ کے ماننے والوں میں مسکین و مفلس لوگ زیادہ ہیں یا سردار اور قوی لوگ؟‘‘
ابو سفیان: ''مسکین حقیر لوگ‘‘۔ 
ہر قل نے اس جواب پر کہا ''ہر ایک نبی کے پہلے ماننے والے مساکین و غربا لوگ ہی ہوتے رہے ہیں‘‘۔ 
قیصر: ''ان لوگوں کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے یا کم ہو رہی ہے‘‘۔ 
ابو سفیان: ''بڑھ رہی ہے‘‘۔ 
ہر قل نے کہا: ''ایمان کا یہی خاصہ ہے کہ آہستہ آہستہ بڑھتا ہے اور حد کمال تک پہنچ جاتا ہے‘‘۔ 
قیصر: ''کوئی شخص اس کے دین سے بیزار ہو کر اس سے پھر بھی جاتا ہے‘‘۔ 
ابو سفیان: ''نہیں ‘‘۔
ہر قل نے کہا ''لذتِ ایمان کی یہی تاثیر ہے کہ جب دل میں بیٹھ جاتی اور روح پر اپنا اثر قائم کر لیتی ہے‘ تب جدا نہیں ہوتی‘‘۔ 
قیصر: ''یہ شخص کبھی عہد و پیمان کو توڑ بھی دیتا ہے؟‘‘
ابو سفیان: ''نہیں‘ لیکن اس سال ہمارا معاہدہ اس سے ہوا ہے۔ دیکھیے کیا انجام ہو؟‘‘۔ 
ابو سفیان کہتا ہے کہ میں صرف اس جواب میں اتنا فقرہ زیادہ کر سکا تھا‘ مگر قیصر نے اس پر کچھ توجہ نہ دی اور بولا: ''بیشک نبی عہد شکن نہیں ہوتے۔ عہد شکنی دنیا دار کیا کرتا ہے۔ نبی دنیا کے طالب نہیں ہوتے‘‘۔ 
قیصر: ''کبھی اس شخص کے ساتھ تمھاری لڑائی بھی ہوئی‘‘؟ 
ابو سفیان: ''ہاں‘‘ 
قیصر:''جنگ کا نتیجہ کیا رہا؟‘‘
ابو سفیان: ''کبھی وہ غالب رہا (بدر میں) اور کبھی ہم (اُحد میں)‘‘۔ 
ہر قل نے کہا: ''خدا کے نبیوں کا یہی حال ہوتا ہے‘ لیکن آخر کار خدا کی مدد اور فتح اُن ہی کو حاصل ہوتی ہے‘‘۔ 
قیصر: ''اس کی تعلیم کیا ہے؟‘‘۔ 
ابو سفیان: ایک خدا کی عبادت کرو۔ باپ دادا کے طریق (بُت پرستی) کو چھوڑ دو۔ نماز‘ روزہ‘ سچائی‘ پاکدامنی‘ صلہ رحمی کی پابندی اختیار کرو‘‘۔ 
ہر قل نے کہا: ''نبی موعودکی یہی علامتیں ہم کو بتائی گئی ہیں۔ میں یہ تو ضرور سمجھتا تھا کہ نبی کا ظہور ہونے والا ہے‘ لیکن یہ نہ سمجھتا تھا کہ وہ عرب میں سے ہوگا۔ ابو سفیان! اگر تم نے سچ سچ جواب دیے ہیں تو وہ ایک روز اس جگہ جہاں میں بیٹھا ہوا ہوں (شام و بیت المقدس) کا ضرور مالک ہوجائے گا۔ 
ابو سفیان کے بقول اس کے بعد آنحضوؐرکا نامہ مبارک [پھر سے] پڑھا گیا۔ اراکینِ دربار بہت چیخے چلائے اور ہم کو دربار سے باہر نکال دیا گیا۔ میرے دل میں اسی روز سے اپنی ذلت کا اور آنحضورﷺ کی آئندہ عظمت کا یقین نقش ہوگیا۔ 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں