نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- اسلام آباد:وفاقی کابینہ 15 نکاتی ایجنڈےپرغورکرےگی
  • بریکنگ :- وزیراعظم ہاؤس کوکمرشل استعمال کیلئےکھولنےکامعاملہ ایجنڈامیں شامل
  • بریکنگ :- کوروناسےبچاؤاورعلاج کیلئےدرکار 61آئٹمزکی ڈیوٹی چھوٹ میں توسیع کی منظوری دےگی
  • بریکنگ :- اسلام آبادمارگلہ روڈپرتجاوزات ہٹانےکی رپورٹ کابینہ کوپیش کی جائےگی
  • بریکنگ :- اسلحہ لائسنس جاری کرنےکااختیاروزارت داخلہ کودینےکی منظوری دی جائےگی
  • بریکنگ :- کابینہ ملزم مجاہدپرویزکوامریکاکےحوالےکرنےکےمعاملےپرغور کرےگی
  • بریکنگ :- آرٹیکل 51کےتحت صوبوں کیلئےمختص نشستوں کامعاملہ ایجنڈامیں شامل
  • بریکنگ :- اسلام آباد:کابینہ چیف ایگزیکٹو پیسکوکی تعیناتی کافیصلہ کرےگی
  • بریکنگ :- وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کااجلاس آج ہوگا
  • بریکنگ :- اسلام آباد:وفاقی کابینہ کومعاشی اشاریوں پربریفنگ دی جائےگی
  • بریکنگ :- کابینہ چیف ایگزیکٹوپاکستان سنگل ونڈوکمپنی کی تعیناتی کی منظوری دےگی
Coronavirus Updates
"IYC" (space) message & send to 7575

مالی شعبدہ بازی اور معیشت کا ٹیک آف

وفاقی حکومت نے 8487 ارب روپے کا بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کر دیا۔ یہ 3420ارب روپے خسارے کا بجٹ ہے لیکن اسے معاشی ترقی میں اضافے کا بجٹ قرار دیا گیا ہے۔ خسارے کے بجٹ کے ساتھ معاشی ترقی کا تصور دینے والے وزیر خزانہ نے بجٹ تقریر سے ایک دن پہلے مالی سال 2020-21 کا اقتصادی سروے پیش کرتے ہوئے حکومت کی معاشی کامیابیوں کے دعوے کئے اور کہا کہ معیشت میں بہتری کے آثار پیدا ہو چکے ہیں اور یہ ''ٹیک آف‘‘ کی پوزیشن پہ پہنچ چکی ہے۔ بات یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے چند روز قبل دعویٰ کیا تھا کہ ملک میں مہنگائی بڑھنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کی قوتِ خرید بھی بڑھی ہے۔
''معیشت 'ٹیک آف‘ کی پوزیشن میں ہے‘‘ یہ جملہ سنا تو وزیر خزانہ کے ہم نام شوکت عزیز یاد آ گئے۔ وہ بھی معیشت کو ٹیک آف کراتے رہے اور پھر خود ٹیک آف کر گئے۔ معیشت کے ''ٹیک آف‘‘اور قوتِ خرید بڑھنے کی حقیقت یہ ہے کہ جب وزیرخزانہ قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کر رہے تھے تو باہر تپتی دھوپ میں ہر سرکاری محکمے کی نمائندہ یونین اور ملازمین احتجاج کر رہے تھے۔ ملک کی نصف سے بھی زیادہ آبادی کا انحصار زراعت پر ہے اور اس حکومت نے اکنامک سروے میں اعتراف کیا کہ ملک میں زرعی ترقی کا ہدف حاصل نہیں کیا جا سکا۔ جاری مالی سال میں پیداوار کم ہوئی‘ چنانچہ غذائی اجناس درآمد کرنا پڑیں جس سے مہنگائی بے قابو ہو گئی۔ ملک کی اہم فصل‘ کپاس کی پیداوار میں ریکارڈ کمی ہوئی، جو جاری مالی سال میں 22 فیصد کم ہو کر 70 لاکھ گانٹھوں تک محدود ہو گئی۔ گزشتہ مالی سال میں اس کی پیداوار 90 لاکھ گانٹھوں سے زائد تھی۔ اگر کپاس کی پیداوار کم ہوئی ہے تو ٹیکسٹائل میں ترقی کا دعویٰ کیسے ممکن ہے جو اس حکومت کے ترجمان دن رات دہراتے ہیں؟ اگر زرعی اہداف حاصل نہیں ہوئے اور فصلوں کی پیداوار کم ہے تو ملک کا غالب طبقہ آمدن میں کمی کا شکار ہوا ہے‘ لیکن حکمران کہتے ہیں قوتِ خرید بڑھی ہے۔
اکنامک سروے میں اعتراف کیا گیا کہ تجارتی خسارہ بڑھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ برآمدات کم اور درآمدات زیادہ ہوئیں، ملکی صنعتی پیداوار نہیں بڑھ سکی بلکہ جمود کا شکار ہے۔ مطلب واضح ہے کہ صنعتوں میں کام کم ہے تو بیروزگاری بھی بڑھی ہے لیکن قوتِ خرید بھی بڑھی ہے، یہ کیسے مان لیں؟ غیرملکی سرمایہ کاری میں کمی کا اعتراف بھی کیا گیا۔ اس کا مطلب ہے کہ ملکی معیشت کا حجم نہیں بڑھ پایا لیکن بتایا جا رہا ہے معیشت 'ٹیک آف‘ کرنے کو ہے، ایسا ٹیک آف رن وے پر ہی حادثے کا سبب بنتا ہے۔
اگلے مالی سال میں موجودہ سال کے مقابلے میں 23 فیصد زیادہ ٹیکس حاصل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے‘ 5829 ارب روپے۔ اہم بات یہ ہے کہ اس بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہ لگانے کا اعلان کیا گیا۔ اس کا صاف مطلب ہے کہ بڑے ٹیکس ہدف کے حصول کیلئے حکومت سیلز ٹیکس، کسٹم ڈیوٹی جیسے ٹیکسوں میں اضافہ کرے گی، جس کی قیمت ایک عام صارف کو چیزیں مہنگے داموں خریدنے کی صورت میں چکانا پڑے گی۔ ٹیکس کی شرح بڑھائی جاتی ہے اور زیادہ ٹیکس وصول کیا جاتا ہے تو سرمایہ دار یا صنعت کار قیمتیں بڑھا کر صارف سے یہ ٹیکس وصول کر لیتا ہے؛ چنانچہ میرے خیال میں اگر اسے عوام دوست کے بجائے سرمایہ دار دوست بجٹ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔
عام شہری کی زندگی میں اصل مسئلہ اس کی حقیقی آمدن میں کمی یا اضافہ ہے۔ حکومت نے سرکاری ملازمین کو پچھلے سال کورونا کا بہانہ بنا کر کچھ بھی نہیں دیا تھا‘ چنانچہ مہنگائی ڈبل ڈیجٹ میں جانے اور روپے کی قدر میں 40 فیصد کمی سے عام آدمی کی حقیقی آمدن میں نصف سے بھی زیادہ کمی ہو چکی ہے۔ اس بجٹ میں حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں 10 فیصد عبوری ریلیف اور پنشنز میں 10 فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے۔ اب خود ہی اندازہ کر لیں کہ افراطِ زر کی شرح کے اعتبار سے عام آدمی کی حقیقی آمدن میں 50 فیصد سے بھی زیادہ کمی ہو چکی ہے‘ لیکن اسے 10 فیصد کا ریلیف دیا گیا ہے۔ حکومت کے معاشی شعبدہ بازوں نے ایک اور کاریگری یہ دکھائی کہ بجٹ تقریر میں افراطِ زر کے ہدف کا تعین ہی نہیں کیا تاکہ اس عبوری ریلیف اور افراطِ زر کے ہدف کا تقابل نہ کیا جائے۔
اس بجٹ میں ایک اور اہم بات یہ ہے کہ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی ڈیوٹی کی مد میں 610 ارب روپے وصول کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ رواں مالی سال اس مد میں 450 ارب روپے اکٹھے کیے گئے، یوں اگلے سال عوام کی جیبوں سے مزید 160 ارب روپے نکالے جائیں گے اور اس کیلئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑے گا۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں جب کبھی اضافہ ہوتا ہے تو اس کا اثر دوسری چیزوں پر بھی پڑتا ہے۔ یوں اب عوام کو مہنگائی کے ایک نئے طوفان کا سامنا کرنے کیلئے تیار رہنا پڑے گا۔ بجٹ کا ایک اور تحفہ یہ ہے کہ اب عوام کو چینی مہنگی ہی خریدنا ہو گی کیونکہ حکومت نے شکر کو سیلز ٹیکس کے تھرڈ شیڈول میں ڈال دیا ہے۔ چینی پر پہلے 60 روپے فی کلو کے حساب سے ٹیکس کٹتا تھا‘ اب چینی کی اصل قیمت پر ٹیکس کٹے گا۔
ایک حالیہ سروے (جون 2021) میں عوام سے پوچھا گیا کہ حکومت اور میڈیا کی جانب سے استعمال کی جانے والی 6 بنیادی معاشی اصطلاحات جی ڈی پی، کرنٹ اکاؤنٹ، فسکل ڈیفیسٹ، فی کس آمدن، سٹاک ایکسچینج اور فارن ایکسچینج ریزروز کا مطلب جانتے ہیں؟ تو 91 سے 98 فیصد افراد نے نفی میں جواب دیا‘ یعنی ہر 10 میں سے 9 آدمیوں کا ملکی معیشت اور حکومتی بلند بانگ دعووں سے بس اتنا ہی تعلق ہوتا ہے‘ جبکہ حکومت نے معاشی شرح نمو کا جو تخمینہ 3.94 فیصد لگا رکھا ہے‘ اس کے مطلب سے بھی 94 فیصد افراد واقف نہیں تھے جبکہ ان افراد میں سے زیادہ تر بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بیروزگاری سے پریشان تھے۔ عام عوام تو سستی بجلی، روٹی، چینی‘ دال وغیرہ کی طلبگار ہیں‘ انہیں تو روزگار کے مواقع چاہئیں۔ اسی سروے کے مطابق ہر 10 میں سے 9 پاکستانی کوئی بڑی چیز نہیں خریدنا چاہتے یا یوں کہہ لیجئے کہ وہ ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔ اسی بنا پر کنزیومر کانفیڈنس انڈیکس‘ جو صارفین کے معیشت پر اعتماد، معاشی بہبود اور ان کی مالی صورتحال کو ظاہر کرتا ہے‘ 2.7 پوائنٹس گر کر 34.2 رہ گیا ہے۔ اس بجٹ‘ جسے کافی لوگ متوازن کہہ رہے ہیں‘ پر نظر ڈالیں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ حکومت اس کے ذریعے ملک میں معاشی سرگرمیوں میں تیزی چاہتی ہے لیکن کیا اس کیلئے مہنگائی میں کمی یا عوام کو براہ راست ریلیف دینے کے لئے کوئی اقدامات نظر آئے؟
بجٹ 2022-2021ء پر اپوزیشن کے رد عمل کو دیکھیں تو قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میاں محمد شہباز شریف نے بجٹ کو کھلا دھوکا قرار دے دیا۔ کہتے ہیں کہ حکومت نے غلط اعدادوشمار دئیے۔ غریب مررہا ہے اور حکومت کہہ رہی ہے کہ معیشت ترقی کررہی ہے۔ بجلی سمیت ہر چیز مہنگی کرنے کے بعد بھی حکومت کشکول اٹھائے پھررہی ہے۔ دوا، علاج، روزگار سب چھین لیا گیا پھر بھی حکومت کا رونا جاری ہے۔ شہباز شریف کہتے ہیں کہ جھوٹے دعوے کیے گئے۔ ملک میں غریب آدمی کو دو وقت کی روٹی نہیں مل رہی اور یہ لوگ جھوٹے اعدادوشمار سنا کر بے وقوف بنا گئے۔ اس حکومت نے ملک کو تباہی کے دہانے پر کھڑا کر دیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ مہنگائی، بیروزگاری، غربت تاریخی ہے تو بجٹ کیسے عوامی ہوسکتا ہے؟ بجٹ آگیا مگر غریب کے گھر کا چولہا آج تک بجھا ہوا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ سال بدل گیا مگر عوام کے حالات نہیں بدلے، وزیراعظم عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنے میں ناکام ہوچکے، انہوں نے غریب اور عوام دشمن ایجنڈا واضح کر دیا، پیپلزپارٹی عوام کے معاشی قتل عام کی اجازت نہیں دے گی۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں