نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- گورنرہاؤس پشاورمیں جشن عیدمیلادالنبیؐ منانےکی تیاریاں
  • بریکنگ :- پشاور:گورنرہاؤس کو 3 روزکیلئےفیملیزکیلئےکھول دیاگیا
  • بریکنگ :- گورنرہاؤس اتوارسےمنگل تک صبح 10 سے 4 بجےتک کھلارہےگا
Coronavirus Updates
"IYC" (space) message & send to 7575

امریکہ، افغانستان اور طالبان!

افغان طالبان نے نواں صوبائی دارالحکومت بھی قبضے میں لے لیا ہے۔ دیہی علاقوں کے کنٹرول کے بعد شہروں پر کنٹرول کی اس کشمکش میں افغان طالبان نے حیران کن پیش قدمی کی ہے۔ پچھلے جمعہ سے منگل تک طالبان نے چھ بڑے شہر یا صوبائی دارالحکومت قبضے میں لیے تھے اور بدھ کے روز مزید تین پر قبضہ کر لیا‘جس نے دنیا کو حیرانی اور کسی حد تک پریشانی میں بھی مبتلا کردیا ہے۔ افغان طالبان کے ساتھ معاہدے کے بعد واشنگٹن نے خطے سے نکلنے کا فیصلہ کیا تو افغان عوام کے مستقبل کے تعین میں کسی بھی مدد یا حل میں دلچسپی دکھانے کی کوشش نہ کی۔ زبانی جمع خرچ کے ساتھ جب امریکی کابل چھوڑ گئے تو طالبان نے طے شدہ حکمت عملی کے ساتھ پیش قدمی کی۔ جب افغان طالبان دیہی علاقوں میں پیش قدمی کر رہے تھے تو کابل انتظامیہ نے بھی مزاحمت کی ضرورت نہ سمجھی اور افغان وزارت دفاع نے باضابطہ بیان میں کہاکہ وہ ناقابل دفاع اضلاع پر طاقت اور توجہ ضائع کرنے کے بجائے پسپائی کی حکمت عملی اختیار کر رہے ہیں، دیہی افغانستان پر قبضے کے بعد جب بڑے شہروں پر یلغار ہوئی تو کابل انتظامیہ بڑ ہانکتی رہی کہ ہر حملہ پسپا کر دیا گیا ہے لیکن زمینی حقائق مختلف تھے۔
اب جبکہ افغان طالبان شمالی افغانستان پر کنٹرول مکمل کر چکے ہیں، مزاحمت کے سب سے بڑے گڑھ اور شمالی اتحاد کے گھر، مزار شریف پر چاروں طرف سے حملہ آور ہیں تو کابل انتظامیہ اپنی نالائقی اور نااہلی چھپانے کیلئے سارا ملبہ پاکستان پر ڈال رہی ہے۔ افغان طالبان نے بڑے شہروں پر قبضہ کیا تو مزاحمت ہی نہ ہوئی اور ان کی مقامی انتظامیہ یہ کہتے ہوئے بری الذمہ ہوتی گئی کہ علاقے کے معززین نے خون ریزی سے بچنے کیلئے فوج ہٹانے کی درخواست کی تھی جو قبول کر لی گئی۔ دراصل افغانستان پر امریکی مدد سے حکومت کرنیوالے صرف کابل کو بچانے پر توجہ دے رہے ہیں اور اپنی ناکامی کا ملبہ پاکستان پر ڈال رہے ہیں۔ افغان فوج جو امریکیوں کے بل بوتے پر طالبان کو مزاحمت دکھا رہی تھی، امریکیوں کا سہارا ہٹتے ہی تاش کے پتوں کی طرح ڈھیر ہوگئی۔
ان حالات میں امریکی وزیر دفاع جنرل لائیڈ آسٹن نے پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے رابطہ کیا ہے۔ دوسری طرف دوحہ میں بھی مذاکرات کا نیا دور شروع کیا گیا۔ ان رابطوں اور مذاکراتی کوششوں کی ضرورت امریکی انخلا سے پہلے تھی لیکن اس وقت امریکا بہادر کو جنگ سے جان چھڑانے کی جلدی تھی۔ دوحہ میں امریکا طالبان مذاکرات کے وقت کابل کی انتظامیہ کو مذاکرات سے باہر رکھا گیا اور کہا گیا کہ بین الافغان مذاکرات دوسرے مرحلے میں ہوں گے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ امریکا افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ بھی پہلے مرحلے کے مذاکرات میں کرتا یا پھر دونوں طرح کے مذاکرات ساتھ ساتھ چلتے۔
امریکی محکمۂ دفاع پنٹاگون کے پریس سیکرٹری جان کربی نے بتایا کہ وزیرِ دفاع لائیڈ آسٹن نے امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں فروغ اور خطے میں مشترکہ مقاصد کے حصول کیلئے شراکت داری استوار کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ جان کربی کے مطابق وزیرِ دفاع لائیڈ آسٹن اور جنرل قمر جاوید باجوہ نے افغانستان کی موجودہ صورتحال، علاقائی امن و استحکام اور دوطرفہ دفاعی تعلقات پر تبادلۂ خیال کیا۔
قطر کے دارالحکومت دوحہ میں موجود زلمے خلیل زاد نے طالبان کو خبردار کیا کہ کوئی بھی حکومت جو افغانستان میں طاقت کے ذریعے اقتدار میں آتی ہے اسے بین الاقوامی سطح پر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ میدان جنگ میں فتح حاصل کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ زلمے خلیل زاد نے امید ظاہر کی کہ طالبان رہنماؤں کو افغان حکومت کے ساتھ امن مذاکرات پر واپس آنے پر آمادہ کرلیا جائے گا۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق قطر میں زلمے خلیل زاد کے مشن کا مقصد افغانستان میں تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال پر مشترکہ بین الاقوامی ردعمل وضع کرنے میں مدد کرنا ہے۔ امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ وہ طالبان پر دباؤ ڈالنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ وہ اپنی فوجی کارروائی بند کریں اور ایک سیاسی تصفیے کیلئے مذاکرات کریں جو افغانستان میں استحکام اور ترقی کا واحد راستہ ہے۔
جب یہ سطور لکھی جا رہی ہیں تو دوحہ میں امریکا، چین، روس اور پاکستان کا اجلاس شروع ہوچکا ہے۔ اس اجلاس کا مقصد طالبان کو بین الاقوامی برادری کی طرف سے ایک متفقہ پیغام دینا ہے کہ وہ تشدد کی کارروائیاں روک کر افغان امن مذکرات میں شامل ہوں۔ یہ اجلاس ایسے وقت پر ہورہا ہے جب طالبان اپنی عسکری کارروائیاں روکنے پرآمادہ نہیں اور اقوام متحدہ کے امدادی ادارے افغانستان میں امن و امان کی صورتحال پر زبردست تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس اجلاس میں شریک چاروں ممالک کے افغانستان کے امن سے کئی مفادات وابستہ ہیں اور ایسے کوئی آثار نہیں کہ طالبان مذاکرات کی میز پر آئیں گے۔ روس، چین اور پاکستان کے افغانستان کے ساتھ تعلقات اور رابطے ہیں، اس لیے ان ملکوں کی جانب سے طالبان پر دباؤ افغانستان میں تشدد کم کرنے کیلئے اہم ہو سکتا ہے۔ انکے بقول تمام علاقائی ممالک کی خواہش ہے کہ افغانستان میں تشدد کم ہو اورطالبان کو وہاں کا کنٹرول طاقت کے زور پر حاصل کرنے سے روکا جائے۔
حالات ایسے بنا دیئے گئے ہیں کہ پاکستان کو افغانستان میں خانہ جنگی کا نہ صرف ذمہ دار قرار دیا جائے بلکہ پاکستان اس جھگڑے سے متاثرہ افغان مہاجروں کو بھی پناہ دے۔ پاکستان کے معاشی اور سکیورٹی حالات متحمل نہیں کہ وہ مہاجروں کا معاشی بوجھ اٹھائے اور ان کی آڑ میں درآنے والے دہشتگردوں کی کارروائیوں کا بھگتان کرسکے۔ دوسری طرف افغان طالبان‘ جنہیں پاکستان کے زیر اثر سمجھا جاتا ہے‘ اپنے ملک پر مکمل کنٹرول سے پہلے ہی پاکستان کے ساتھ معاملات میں خود کو افغانستان کا جائز حکمران منوانے کی کوشش کررہے ہیں‘ جس کی مثال چمن بارڈر کی بندش اور پھر اس پر مذاکرات ہیں۔ امریکی وزیر دفاع نے پاک فوج کے سربراہ سے کیا بات کی‘ اس پر کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا لیکن اس سے پہلے پنٹاگون ترجمان نے جو کہا وہ اہم اور حالیہ فون رابطے کی وجہ بیان کرتا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ پاک افغان سرحد پر مبینہ طور پر 'دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں‘ کی موجودگی افغانستان میں عدم استحکام کا باعث بن رہی ہے اور امریکہ ایسے ٹھکانوں کی 'بندش‘ کیلئے پاکستانی قیادت سے بات چیت کررہا ہے۔ ہم سب کو ان محفوظ ٹھکانوں کو بند کرنے کی اہمیت کا مشترکہ احساس ہے اور انہیں طالبان یا دیگر دہشتگرد نیٹ ورکس کی جانب سے استعمال نہیں ہونے دینا چاہیے۔ یہ بات ہمارے ذہن میں ہے کہ پاکستان اور پاکستانی عوام بھی اسی خطے سے شروع ہونیوالی دہشتگردانہ سرگرمیوں کا شکار ہوتے ہیں۔
پنٹاگون کے ترجمان کا بیان واضح کرتا ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے ذمہ دار اور وزارت کے کرتا دھرتا پاکستان کی پوزیشن دنیا کے سامنے اجاگر کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ کابل انتظامیہ کی پسپائی کی حکمت عملی اور ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی کوششوں کو دنیا کے سامنے بے نقاب نہیں کیا جا سکا۔ حکمران جماعت بھی اس مسئلے پر کوئی پالیسی ترتیب دینے میں ناکام رہی ہے اور بحیثیت جماعت وہ حکومت کی رہنمائی کا کام نہیں کرسکی۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ تمام سیاسی جماعتیں مل بیٹھ کر ایک بیانیہ تشکیل دیتیں اور نئی حکمت عملی کیلئے ریاست کو لائحہ عمل بنانے میں مدد دیتیں لیکن ایسا ہوتا نظر نہیں آتا، اس کی وجہ سیاسی عدم برداشت ہے۔ حکومتی زعما حزب اختلاف کوساتھ بٹھانا پسند نہیں کرتے بلکہ طعن و تشنیع ہمارا سیاسی کلچر بن چکا ہے۔ دوحہ اجلاس کی کامیابی کے لیے دعا ہی کی جا سکتی ہے‘ ورنہ تاریخ کا دھارا ایک بار پھر الٹا چلتا نظر آتا ہے اور خطہ ایک بار پھر عدم استحکام اور دہشتگردی کا شکار بنتا نظر آتا ہے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں