نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- نیویارک:شاہ محمودقریشی کی پاکستان ہاؤس آمد،نادراڈیسک کاافتتاح کردیا
  • بریکنگ :- تقریب میں شہریارآفریدی،مستقل مندوب منیراکرم،سفیراسدمجیدبھی موجود
  • بریکنگ :- وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی کا نیویارک میں پاکستانی کمیونٹی سے خطاب
  • بریکنگ :- نادراڈیسک کےقیام پر چیئرمین نادرا کےشکرگزارہیں،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- نادراڈیسک کےقیام سے اوورسیز پاکستانیوں کوفائدہ ہوگا،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- وزیراعظم بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کےمسائل سے آگاہ ہیں،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- وزیراعظم چاہتےہیں کہ اوورسیز پاکستانیوں کوتمام سہولتیں فراہم کی جائیں،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- اوورسیز پاکستانیوں نے تاریخی ترسیلات زرملک میں بھیجیں،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- اوورسیز نے29.4بلین ڈالرکی ترسیلات وطن بھیجیں،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- ملک کوجب بھی ضرورت پڑی اووسیز نےبھرپورساتھ دیا،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- اوورسیز پاکستانیوں کی سہولت کےلیےایک پورٹل بھی لانچ کردیاگیاہے،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- ہمیشہ سفارتکاروں کواوورسیز پاکستانیوں سےاخلاق سےپیش آنےکی ہدایت کی ہے،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- ہم چاہتے ہیں جب بھی پاکستانی یہاں آئیں انہیں کوئی مشکل نہ پیش آئے،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- اوورسیز پاکستانی ہمارے ملک کاسرمایہ ہیں،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کوہرممکن سہولتوں کی فراہمی جاری رہےگی،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- اوورسیز پاکستانیوں کوجب بھی یاد کیاگیاانہوں نےبھرپورساتھ دیا،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- اوورسیز پاکستانی ہرشعبےمیں تعاون کرتےہیں،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- بیرون ملک مقیم پاکستانی ہمارافخر ہیں،وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- اوورسیز کوووٹ کاحق دینےکےلیےقانون سازی کررہےہیں،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- ملکی ترقی میں حصہ ڈالنےوالوں کوخوش آمدید کہیں گے،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- مشکلات کےباوجوداوورسیزکوووٹ کاحق دلانےکی کوشش جاری رہےگی،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کی سہولت شروع کردی گئی ہے،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- اوورسیز کےلیےای کچہری کاسسٹم بھی لایاجارہا ہے،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- گزشتہ حکومت کی وجہ سے پی آئی اے دیوالیہ ہونےکےقریب تھا،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- مالی مشکلات وجہ سے پی آئی اے کو نئے طیارےنہیں دےپارہے،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- پی آئی اے میں بھی کئی مسائل ہیں جن کوحل کرنےکی کوشش کررہےہیں،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- اصلاحات کےذریعے پی آئی اے کوبہتر بناناچاہتےہیں،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- طیاروں کی کمی کی وجہ سے براہ راست پروازوں میں مشکلات ہیں،شاہ محمود
  • بریکنگ :- نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کوتمام سہولتیں دینےکی پیشکش کی،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کوہیلی کاپٹر بھی فراہم کرنےکی پیشکش کی،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ نےہربات ماننے سے انکارکردیا،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- سیکیورٹی ایجنسیز نےآگاہ کیاکہ کوئی سیکیورٹی تھرٹ نہیں ہے،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- 12ستمبرکےڈوزیئرمیں بھارت کوانسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کےثبوت پیش کیے،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- مسئلہ کشمیرکوعالمی سطح پراجاگرکرکےاس میں نئی روح پھونک دی،وزیرخارجہ
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

نتائج صفر کیسے نکلتے ہیں ؟

نرگس سیٹھی وفاقی سیکرٹری پانی و بجلی اپنے عہدے سے رخصت ہوئیں۔ ایک بے مقصد‘ بے فائدہ اور فضول دور اختتام کو پہنچا۔ پاور سیکٹر کے نالائق افسران کی بلاوجہ اور بے نتیجہ ذلت اور بے عزتی اپنے انجام کو پہنچی۔ صبح سے لے کر سورج کے نصف النہار تک پہنچنے کے دوران جاری رہنے والی وڈیو کانفرنسیں ختم ہوئیں۔ تمام چیزیں بے مقصد اور بیکار تھیں کیونکہ پاور سیکٹر میں ایک رتی کی بہتری رونما ہونا تو ایک طرف مزید خرابی اور بربادی ہوئی۔ پچھلے چند ماہ کے دوران نرگس سیٹھی کی پھرتیاں خاصی مسحور کن تھیں۔ وہ اپنے اقدامات کی بدولت بظاہر متحرک ، فعال اور بڑی دبنگ بیوروکریٹ نظر آتی تھیں۔ سپریم کورٹ انہیں سید یوسف رضا گیلانی کی نااہلی والے کیس میں بہادر خاتون قرار دے چکا تھا لہٰذا میڈیا کے بعض حضرات سمیت بے شمار لوگ انہیں پاور سیکٹر کا نجات دہندہ بناکر پیش کررہے تھے۔ بے سمت سفر کا انجام منزل نہیں، گمراہی ہوتا ہے۔ اس دور کی کارکردگی ایک جملے میں یوں ہوگی کہ نرگس سیٹھی پہلے سے برباد پاور سیکٹر کا بیڑہ مزید غرق کر گئیں۔ پاور سیکٹر کو کسی ایسے بے لوث، انتھک اور محنتی قائد کی ضرورت ہے جس کی اوّل سے آخر تک ترجیح پاور سیکٹر کی بحالی ہو اور وہ اپنی ترجیحات پر عملدرآمد کروانے کے لیے تکنیکی مہارت بھی رکھتا ہو۔ بجلی کے بارے میں محض سوئچ آن آف کرنے کی تکنیکی مہارت سے آگاہ نرگس سیٹھی نے گرگ باراں دیدہ قسم کے چیف ایگزیکٹو ز کی دل بھر کے بے عزتی کی جواباً انہوں نے موصوفہ کو ٹیکنیکل ناک آئوٹ کردیا۔ شعبے میں بہتری کے بجائے مزید بگاڑ پیدا ہوا۔ بجلی کی طلب و رسدکا معاملہ گرمیوں کے آغاز سے قبل ہی ناقابل اصلاح قسم کی خرابی کی طرف گامزن ہوگیا۔ سرکلر ڈیٹ میں مزید اضافہ ہوگیا۔ کمپنیوں کے انتظامی اور مالی معاملات مزید دگرگوں ہوگئے۔ اگر محض بے عزتی کرنے اور افسروں کو ٹائی پہننے سے منع کردینے والے احکامات سے مسائل حل ہوتے تو پاور سیکٹر خرابی کے دور سے نکل چکا ہوتا۔ اس شعبے کی خرابیوں کا حل بے مقصد، فضول اور بے فائدہ احکامات میں نہیں بلکہ مرحلہ وار عملی اقدامات میں ہے اور یہ کام کوئی ایسا شخص ہی کرسکتا ہے جس کے پاس ویژن، جذبہ اور اختیارات ہوں گے۔ اختیارات سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنا کام کسی سیاسی دبائو اور سیاستدانوں کی مداخلت کے بغیر کرسکتاہو۔ حکومت کو مسئلہ کے حل سے کبھی دلچسپی نہیں رہی اب تو خیر سے ڈیڑھ ماہ سے بھی کم عرصہ باقی ہے اس کے بعد نگران حکومت جانے اور ان کا کام جانے۔ لوڈشیڈنگ کا بدترین وقت ابھی ایک دوماہ بعد شروع ہوگا۔ قوم اس لوڈشیڈنگ کو دیکھ کر پیپلزپارٹی کی حکومت کو یاد کرے گی۔ جیالے اپنی حکومت کی شان میں قصیدے پڑھیں گے۔ راجہ پرویز اشرف ساری خرابی کا ملبہ رینٹل پاور یعنی کرائے کے بجلی گھروں کے منصوبے کی منسوخی پر ڈالیں گے۔ اس سارے زبانی کلامی جمع خرچ کے دوران عوام مزید ذلیل و خوار ہو جائیں گے۔ اصل یہ ہے کہ حکومت کو بجلی کا مسئلہ حل کرنے میں ذرا بھی دلچسپی نہیں۔ بھاشا ڈیم کا افتتاح دوسری مرتبہ ہوچکا ہے مگر ابھی وہاں پر ایک اینٹ بھی نہیں لگی۔ پچھلے وزیر پانی و بجلی سید نوید قمر کو بھی سفارشوں پر ٹرانسفر پوسٹنگ کرنے سے فرصت نہیں تھی۔ اب موجودہ وزیر پانی وبجلی جناب احمد مختار کو بھی یہی کام مرغوب ہے۔ تاہم احمد مختار کو یہ داد ضرور دینی چاہیے کہ انہوں نے ٹرانسفر وغیرہ جیسے غیردستاویزی اور غیرتحریری کام کو بھی باقاعدہ سرکاری دستاویزات کا حصّہ بنادیا ہے اور اس سلسلے میں 7 جون کو باقاعدہ آفس آرڈر جاری کیا ہے کہ کسی ایس ڈی او، ایکسین اور ایس ای (سپرنٹنڈنگ انجینئر) کا تبادلہ یا تعیناتی وزیر موصوف کی پیشگی منظوری کے بغیر نہیں ہوسکتی۔ یاد رہے کہ پاور سیکٹر میں ایس ڈی او اور گریڈ سترہ اور اس سے اوپر کے افسران کی تعداد پانچ ہزار دوسو کے لگ بھگ بنتی ہے۔ اب جس وزیر کے کندھوںپر باون سو افسران کی ٹرانسفر پوسٹنگ کا بوجھ ہو بھلا وہ پاور سیکٹر کی بہتری کے لیے وقت کہاں سے نکال سکتا ہے ؟۔ پچھلے تین دن سے ملک میں بجلی کی جو صورت حال ہے وہ ہماری آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہے۔ ہائیڈل بجلی کی پیداوار آج کل پانی کی صورت حال کی وجہ سے چھ ہزار سات سو میگاواٹ سے کم ہوکر دوہزار سات سو میگاواٹ کی کم ترین سطح پر ہے۔ اس وقت بجلی کی طلب بارہ ہزار میگاواٹ ہے جبکہ پیداوار سات ہزار پانچ سو میگاواٹ ہے۔ یعنی اس وقت ساڑھے چار ہزار میگاواٹ کا شارٹ فال ہے اور ساڑھے چار ہزار میگاواٹ بجلی کی استعداد کے پیداواری یونٹ فرنس آئل نہ ہونے کے باعث بند پڑے ہیں۔ یعنی طلب اور رسد برابر ہیں مگر مالی بدانتظامی کے باعث لوڈشیڈنگ ہورہی ہے۔ چوبیس فروری کو گیارہ بجے رات پورے ملک کے اکثر علاقوں میں بجلی چلی گئی ۔ حبکو میں بریک ڈائون ہوا۔ نااہل اور نالائق افراد نے گھبرا کر باقی سسٹم بھی بند کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ باقی سسٹم کو بچانے کے لیے یہ قدم اٹھانا ضروری تھا۔ یہ احمقانہ دلیل ہے۔ یہ اسی نالائقی اور نااہلی کا تسلسل ہے جو پچھلے کئی سال سے جاری ہے۔ نرگس سیٹھی رخصت ہوئیں اور اُن کی جگہ گریڈ اکیس کے رائے سکندر آگئے ۔ ان کے پاس بھی نرگس سیٹھی کی طرح پانی و بجلی کے سیکرٹری کا اضافی چارج ہے۔ ملک اندھیرے میں ڈوبتا جارہا ہے اور اتنی اہم پوسٹ پر اضافی چارج والے لوگ کام کررہے ہیں۔ نئے سیکرٹری صاحب کے بارے میں شنید ہے کہ افسر کم اور جیالے زیادہ ہیں۔ زرداری صاحب کے پرسنل سیکرٹری رہ چکے ہیں۔ محکمے میں اس وقت ان سے سینئر گریڈ بائیس کے سپیشل سیکرٹری موجود ہیں مگر ان پر ایک جونیئر افسر بٹھا دیا گیا ہے وہ بھی جُزوقتی۔ پورے محکمے میں کوئی ٹیکنیکل شخص موجود نہیں ہے ۔ ایک انجینئر کے نام پر ایسا افسر تعینات ہے جس کے پاس ڈگری تو ہے مگر عملی تجربہ صفر ہے۔ ایسی صورت میں نتیجہ بھی صفر ہی نکلنا چاہیے اور ایسا ہی ہو رہا ہے۔ ظاہر ہے ایسی صورت حال میں اس سے بہتر نتیجہ نکل بھی کیسے سکتا ہے ؟

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں