حکومتی اور طالبان کمیٹیوں نے انتہائی مختصر عرصے میں‘ بہت سے معاملات سمیٹ لئے ہیں۔ حکومتی کمیٹی بہت تاخیر سے مکمل ہوئی۔ابتدا میں کمیٹی کے لئے نامزد حکومتی اراکین کی زیادہ توجہ باہمی تبادلہ خیال کی بجائے میڈیا پر مرکوز رہی۔ پہلی سرکاری کمیٹی کے کچھ اراکین کی کوشش تھی کہ یومیہ تین چار ٹیلی ویژن چینلز پر تو ضرور نمودار ہوں۔طرح طرح کے بیانات روزانہ نشر ہونے سے ‘ ان سے مذاکرات آگے بڑھنے کے بجائے تعطل کی راہ پر چل نکلے۔اڑھائی تین ہفتوں کے مسلسل رابطوں کے باوجود‘ ابتدائی امور بھی طے نہ ہو سکے۔حساس معاملات پر اگر خاموشی سے پیش رفت نہ کی جائے تو اندیشہ یہی ہوتا ہے کہ میڈیا پر آئی ہوئی ہر بات‘ نئے مسائل پیدا کرے گی۔پرانی دونوں کمیٹیوں کے بعض ارکان‘ باہمی رابطوں کے بجائے میڈیا کے ساتھ رابطوں پر زیادہ توجہ دیتے رہے۔ جس دن سے حکومت نے اپنی کمیٹی کی تشکیل نو کی ہے‘ دو باتیں نمایاں طور پر سامنے آئیں۔ ایک یہ کہ بیانات کا سلسلہ رک گیا اور خاموشی سے تبادلہ خیال کی رفتار میںتیزی آگئی اور دوسرے یہ کہ وہ ابتدائی مسائل‘ جن پر بات بھی نہیں ہو پائی تھی، بلاتاخیر طے ہو گئے۔یہاں تک کہ اسلام آباد میں وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے دونوں کمیٹیوں کے اراکین سے تبادلہ خیال کر کے رسمی معاملات طے کر لئے۔ میٹنگ کی جگہ کا تعین ہی کئی دن تک مسئلہ بنا رہا۔ سرکاری کمیٹی کی تشکیل نو کے بعد‘ چند ہی روز میںبنوں کا مقام طے کر لیا گیا۔ یہ بات واضح نہیں کہ وزیرداخلہ خود بھی ‘ بنوں کے اجلاس میں شریک ہوں گے یا ابتدائی امور طے کرنے کے لئے دونوں فریقوں کی طرف سے کمیٹیوں کو اختیار دے دیا جائے گا۔ ابھی تک قیدیوں کے دو طرفہ تبادلے کے موضوع پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکا۔
اس طرح کے مذاکرات جب شروع کئے جاتے ہیں تو پہلے بنیادی مسائل پر بات چیت ہوتی ہے۔ابھی تو یہی طے نہیں ہوا کہ مذاکرات کا انجام کیا ہو گا؟طالبان کی قیادت پاکستان کے تمام علاقوں پرریاست کی رٹ غیر مشروط طور پر تسلیم کرتی ہے یا نہیں؟غیر مصدقہ ہوائی خبریں ہی آرہی ہیں۔ طالبان کی طرف سے کسی ذمہ دار شخص نے واضح طور پر یہ نہیں بتایا کہ ریاست کی رٹ کے سوال پر ان کے موقف میں کیا فرق آیا ہے؟کیونکہ ان کی طرف سے یہی کہا جاتا رہا کہ وہ نہ تو پاکستان کے آئین کو اسلامی سمجھتے ہیں‘ نہ سرحدوں کے بارے میں حکومتی موقف کو تسلیم کرتے ہیں۔ خصوصاً افغانستان سے ملنے والی سرحدوں پر ان کی پوزیشن کیا ہے؟ اس وقت عملاً طالبان دونوں ملکوں کی سرحدوں پر یقین نہیں رکھتے‘ وہ دو نوں طرف بغیر سفری دستاویزات کے آمدو رفت کو اپنا حق سمجھتے ہیں۔ اسی طرح دہشت گردی میں عارضی تعطل کا اعلان کیا گیا ہے‘ جس کا مطلب یہ ہے کہ طالبان جب چاہیں تخریب کاری شروع کر سکتے ہیں۔ یوں بھی دہشت گردی کے واقعات ختم ہونے میں نہیںآ رہے۔طالبان کی طرف سے اس اعلان کے بعد بھی کہ انہوں نے ایک ماہ کے لئے جنگ بندی کر دی ہے ‘ دہشت گردی کے واقعات رکنے میں نہیں آئے ۔ جب بھی کوئی واقعہ ہوتا ہے ،ان کی طرف سے بیان آجاتا ہے کہ وہ اس کی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں اور کہا جاتا ہے کہ جو گروپ یہ وارداتیں کر رہے ہیں‘ ان پر طالبان قیادت کا کوئی کنٹرول نہیں۔جس پر وزیرداخلہ کو کہنا پڑا کہ مذاکرات کرنے والے طالبان دوسروں کو فائر بندی پر مجبور کریں۔فائر بندی کے بغیر امن مذاکرات کی کوئی اہمیت نہیں ہو گی۔ پاکستان نے اپنی طرف سے فضائیہ کی کارروائیاں بند کر دی ہیں۔ ایسی ذمہ داری طالبان کو بھی قبول کرنا چاہئے۔
وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے اپنی ساکھ دائو پر لگا کر مذاکرات کا جرأت مندانہ فیصلہ کیا ہے حالانکہ ان کی پارلیمانی پارٹی کی اکثریت نے آپریشن پر زور دیا تھا۔میڈیا کا غالب حصہ بھی اسی خیال کا حامی ہے۔پاکستان کے عوام بلاامتیاز دہشت گردی کا نشانہ بن رہے ہیں۔ اسی طرح پاک فوج کو جو نقصان پہنچائے گئے‘ انہیں برداشت کر لینا آسان نہیں خصوصاً قیدیوں کے ساتھ جو سلوک کیا گیا‘ اس کا صدمہ آسانی سے فراموش نہیں کیاجا سکے گا۔فوجی قیادت نے دہشت گردی کے واقعات کے ذمہ داروں کی طرف سے کسی اظہار ندامت کے بغیر مذاکرات کے فیصلے کو یقیناً بادل نخواستہ قبول کیا ہو گا ۔ یہ سب کچھ وزیراعظم کی خواہش کے احترام میں ہو رہا ہے۔ مذاکرات کی کامیابی یا ناکامی کا ذمہ دار بھی وزیراعظم کو ہی ٹھہرایا جائے گا۔ابھی تک کوئی ایسی ٹھوس خبر نہیں آئی جس کی بنیاد پر توقع کی جائے کہ مذاکرات کامیاب ہو جائیں گے۔ایسی غیر یقینی صورت حال میں قیدیوں کی رہائی جیسا ٹھوس فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ خدانخواستہ اگر مذاکرات میں کسی وجہ سے کوئی پیش رفت نہیں ہوتی تو قیدیوں کو قبل از وقت رہا کرنے سے کسی بھی ایک فریق کو زیادہ فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ جو محاذ آرائی جاری رہنے کی صورت میں نقصان دہ ثابت ہو گا۔ خصوصاً حکومت پاکستان طالبان کے جن ساتھیوں کو رہا کرے گی،ان کی تعداد کافی زیادہ ہے اور وہ سب کے سب تربیت یافتہ جنگجو ہیں۔ وہ رہا ہوتے ہی پھرجنگ میں شریک ہو جائیں گے۔ اس سے طالبان کی طاقت میں اضافہ ہو جائے گا۔کوئی بھی حکومت احتیاطی تدابیر کے بغیر یہ خطرہ مول نہیں لے سکتی اور نہ ہی طالبان کوئی قابل اعتماد ضمانت فراہم کر سکتے ہیں کہ رہا ہونے والے باہر جا کر دہشت گردی میں حصہ نہیں لیں گے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ وہ عملی اقدامات جن کے نتیجے میں کسی ایک فریق کی طاقت میں فوری اضافہ ہوتا ہو‘ اس وقت شروع کئے جائیں جب امن معاہدے پر مکمل بحث و تمحیص کے بعد اتفاق رائے کر لیا جائے۔جب معاہدے پر دونوں فریقوں کے ذمہ دار اراکین کے دستخط ہو جائیں تو قیدیوں کی رہائی جیسے فیصلوں پر عملدرآمد شروع کیا جا سکتا ہے۔اس طرح کے اقدامات ‘ سمجھوتے ہو جانے کے بعد کئے جاتے ہیں‘ پہلے نہیں۔دوسرا نکتہ جس پر حساس نوعیت کا فیصلہ کرنا پڑے گا‘ وہ ہے ریاست کی حاکمیت کا سوال ؛مثلاً طالبان کا یہ مطالبہ کسی بھی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان کے کسی حصے پر ان کی حاکمیت تسلیم کی جائے۔پاکستان بہر حال ایک جمہوری ریاست ہے‘ اس میںمنتخب حکومتوں کے اختیارات محدود ہوتے ہیں۔ وہ صرف آئین کے اندر رہ کر کام کر سکتی ہیں۔ کوئی بھی آئینی حکومت ‘ریاست کی دو انچ زمین سے بھی دستبردار ہونے کا اختیار نہیں رکھتی۔حکومت کا بنیادی فرض ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ ریاست کے چپے چپے کی حفاظت کرے۔اس مسئلے پر تفصیل سے بحث کرنا پڑے گی۔
طالبان کی اکثریت بے لچک مسلک پر یقین رکھتی ہے۔وہ اپنے مسلک پر قائم رہنے تک بھی محدود نہیں رہتی۔ کئی مسالک سے تعلق رکھنے والوں کو زندہ رہنے کا حق بھی نہیں دیتی۔ وہ ان کے قتل کو جائز سمجھتی ہے۔ فرقہ واریت یقینی طو ر پر اسلام کی روح کے منافی ہے لیکن اس کی بھی اجازت نہیں کہ دوسرے فرقوں کو زبردستی اپنا مسلک چھوڑنے پر مجبور کیا جائے ؛مثلاً ہمارے ہاں دیو بندیوں‘ سنیوں‘ شیعوں اور اہلحدیث کی علیحدہ علیحدہ مساجد ہیں۔ ایسا یقیناً نہیں ہونا چاہئے۔ اس کے لئے باہمی افہام و تفہیم اور علمی بحث کے لئے طویل عرصہ درکار ہو گا۔ طالبان ہر معاملے میں ہتھیلی پر سرسوں جمانا چاہتے ہیں لیکن صدیوں سے موجود فقہی موقف اور تصورات کو بیک جنبش قلم مسترد نہیں کیا جا سکتا۔اس طرح کی یک جہتی انتہائی صبر و تحمل اور تدریجی عمل کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہے۔ا یسے مسائل کو یا تو پس پشت رکھنے پر اتفاق کرناپڑے گا اور اگر حل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تو اس کے لئے عالمان دین کی ایک با اختیار اتھارٹی قائم کرنا پڑے گی اور سارے فریق اس کے فیصلوں پر عملدرآمد کے پابند ہوں گے۔ تاوان اور بھتہ خوری کے معاملات بھی ‘پر امن شہریوں کے لئے عذاب جان بنے ہوئے ہیں۔ اس سلسلے میں بھی طالبان کو ذمہ داری اٹھانا پڑے گی کہ وہ ایسے مجرمانہ واقعات کو روکنے کی ذمہ داری ادا کریں۔ دونوں طرف کے قیدیوں کا سوال بھی غور طلب ہے۔ حکومت کی تحویل میں جتنے بھی لوگ ہیں وہ یا دہشت گردی کرتے ہوئے گرفتار کئے گئے یا حملے کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے۔ وہ'' حقیقی جنگ‘‘ میں ملوث ہیں۔ انہوں نے بے گناہوں کو قتل بھی کیا اور تباہی بھی پھیلائی ۔ یہ لوگ اسلامی قوانین کے تحت بھی سزائوں کے مستحق ہیں لیکن طالبان کے پاس جو قیدی ہیں‘ ان کی اکثریت پُر امن شہریوں پر مشتمل ہے جنہیں تاوان کے لئے اٹھایا گیا یا مطالبات منوانے کے لئے۔ ایسے قیدی اغوا شدہ افراد ہیں‘ بے گناہوں کو زبردستی قید میں رکھنے کی نہ شریعت اجازت دیتی ہے‘ نہ دنیاوی قانون۔ دونوں طرف کے قیدیوں کو ایک ہی درجے میں نہیں رکھا جا سکتا۔ لہٰذا اس پر بھی پہلے سے فیصلہ کر لینا چاہئے کہ معاہدے کے نتیجے میں کون سے قیدیوں کی رہائی لازمی ہو گی اور کون سے قیدیوں کو قوانین کے تحت سزا کے بغیر نہیں چھوڑا جائے گا۔مذاکرات دو حصوں میں مکمل کرناپڑیں گے۔ پہلے مرحلے میں فوری نوعیت کے مسائل تھوڑے دنوں کے مقررہ عرصے میں طے کرنے پر اتفاق رائے کیا جائے اور دوسرے مرحلے پر اس وقت سوچ بچار شر وع ہو ‘ جب پہلے حصے پر عملدرآمد شروع ہو چکا ہو۔ دوسرے حصے میں زیادہ غور طلب اور پیچیدہ مسائل کا حل تلاش کیا جائے‘ خواہ اس پر معاہدہ کرنے میں ڈیڑھ دو سال کا عرصہ بھی لگ جائے تو انتظار کر لینا چاہئے مگر یہ بات دونوں فریقوں کو پیش نظر رکھنا پڑے گی کہ خدانخواستہ مذاکرات بے نتیجہ ختم ہوئے تو بہت بڑی تباہی شروع ہو جائے گی اور جو کچھ ہو سکتا ہے‘ اس سے پناہ مانگنا پڑے گی۔