بھارت نے ریاست جموں و کشمیر میں ‘ یو این سے‘ جنگ بندی لائن کی قرار داد جس مقصد کے لئے منظور کرائی تھی‘ وہ اسے پورا کرنے کے قریب پہنچ گیا ہے۔عالمی سیاست میں کسی تنازعے پر‘ اچھی پوزیشن رکھنے والے فریق کو جب معاملہ‘ اپنے حق میں طے ہوتا دکھائی نہ دے‘ تو وہ کسی نہ کسی طریقے سے اپنی گرائونڈ پوزیشن برقرار رکھتے ہوئے‘ مہلت حاصل کر لیتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ‘ اپنی پوزیشن مستحکم کرتا جاتا ہے اور جب وہ معاملہ اپنی مرضی کے مطابق‘ بزورِ قوت حل کرنے کے قابل ہو جاتا ہے تو کمزور فریق کو مجبور کر دیتا ہے کہ وہ عارضی صورت حال کوہی‘ مستقل کرنے پر تیار ہو جائے۔ کشمیر اور فلسطین اس کی دو تکلیف دہ مثالیں ہیں۔فلسطین میں یہودیوں نے زمین کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے پر‘ قبضہ کر کے اسے‘یو این سے بطور ملک تسلیم کرا لیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ‘ اسرائیل اپنی طاقت کے بل بوتے پر‘ استحکام حاصل کرتا رہا اور جیسے ہی حواری طاقتوں کی طرف سے اسے مدد کی ضمانت مل گئی‘ جارحیت سے‘ مزید علاقہ حاصل کیا اور اپنا قبضہ مستحکم کر کے اسے طول دینے لگا اور اس امید میں بیٹھا ہے کہ ایک دن تمام فلسطینیوں کو جلاوطن کر کے‘ اس مظلوم قوم کو وطن سے ہمیشہ کے لئے‘ محروم کر دیا جائے۔
یہی کچھ ریاست جموں و کشمیر میں ہوا۔ جب بھارت1948ء میں جنگ آزادی کے مجاہدین کو پسپا کرتے ہوئے ریاست کے بڑے حصے پر قابض ہو گیا تو فریادی بن کر‘ یو این میں جا پہنچا اور فائر بندی کی قرارداد حاصل کر لی۔ اس قرار داد کی آڑ میں‘تنازع کشمیر کو حل طلب چھوڑا اور قبضہ مستحکم کرنے لگا۔ بھارت نے اقوام متحدہ میں یہ پوزیشن اختیار کی تھی کہ مہاراجہ کشمیر نے ریاست کو ‘بھارت میں ضم کرنے کا فیصلہ کیا تھا جبکہ پاکستان نے اپنے فوجی کشمیر میں داخل کر کے‘ جنگ شروع کر دی۔ اس لئے دونوں فریقوں کو یہاں جنگ بندی پر آمادہ کر کے‘ تنازعے کا حل تجویز کیا جائے۔ اقوام متحدہ نے بھارتی تجاویز کے عین مطابق‘ فائر بندی کی۔ ایک سے زیادہ قرار دادیں منظور کیں اور ہر قرارداد پر‘ دونوں فریقوں کی رضا مندی حاصل کی گئی۔ قراردادوں میں واضح طور سے درج تھا کہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ‘ ریاستی عوام پر چھوڑ دیا جائے۔دونوں ملک اپنی فوجیں کشمیر سے نکال لیں۔ صرف امن و امان کے تحفظ کی خاطر‘ بھارت کو حسبِ ضرورت اتنی فورس رکھنے کی اجازت دی جائے ‘ جو امن و امان برقرار رکھنے کی ذمہ داریاں ادا کرسکے۔ اس کے بعد اقوام متحدہ نے قرار داد کے مطابق‘ کشمیر میں ثالثی کے لئے‘ نمائندے بھیجنا شرو ع کئے۔ بھارتی حکومتوں نے حیلے بازیوںسے کام لیتے ہوئے‘ معاملے کو التوا میں رکھا اور مقبوضہ کشمیر میں اپنی فوجی طاقت بڑھاتا رہا۔ اس پر پاکستان نے مسلسل احتجاج کیا۔ یو این نے بھارت کو قرارداد وںکی خلاف و رزی سے روکنے کی بہت کوشش کی لیکن اس کی حیلہ سازیاں جاری رہیں۔ پاکستان نے یواین سے لگاتار درخواستیں کیں کہ وہ اپنی قراردادوں پر عمل کر ائے اور کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا موقع فراہم کرے۔ بھارت جیسے ہی فوجی پوزیشن مضبوط کرنے میں کامیاب ہو گیا‘ اس نے مذاکرات ہی سے انکار کر دیا۔ اس صورت حال سے تنگ آکر‘ پاکستان نے 1965 ء میں ا پنی فوجیں کشمیر میںداخل کرنے کی کوشش کی۔ جواب میں بھارت نے سیالکوٹ اور لاہور پر حملے کر دئیے۔بھارت کا یہ اقدام بھی عالمی قوانین کی خلاف ورزی تھی۔پاکستان کی کوششوں سے بیرونی طاقتوں کی مداخلت سے‘ پاکستان اور بھارت کے مابین‘ جنگ بندی ہوئی لیکن امریکہ نے پاکستان کو مجبور کیا کہ وہ معاہدہ امن کے لئے‘ بھارت کے اتحادی‘ سوویت یونین کے زیر انتظام‘ اسی کے شہر میں مذاکرات کرے۔امریکہ اور سوویت یونین‘ دونوں کے زبردست دبائو میں پاکستان کو ماننا پڑا کہ دونوں فریق‘ کشمیر کا تنازع باہمی مذاکرات کے ذریعے حل کریں گے۔ بھارت نے بعد میں اس کی یہ تاویل کی کہ پاکستان اقوام متحدہ کے بغیر‘ آپس میں مذاکرات کے ذریعے یہ مسئلہ حل کرے گا۔ابھی اس مسئلے پر بحث جاری تھی کہ1971ء آگیا۔ مشرقی پاکستا ن میں عوامی بغاوت ہوئی۔ بھارت نے بہانہ بنا کر‘ وہاں فوج داخل کر دی۔ پاکستانی فوج گھیرے میں آ گئی۔اسے مغربی پاکستان میں واپسی کے لئے‘ایک تکلیف دہ معاہدہ کرنا پڑا۔بعد میں شملہ مذاکرات میںہمیں اپنے جنگی قیدی اور مقبوضہ علاقے واپس لینے کی خاطر‘ کئی ناگوار شرائط ماننا پڑیں۔ اس وقت پاکستان‘ شکست کے اثرات کی لپیٹ میں تھا ۔بھارت کو بالادستی حاصل تھی۔ شملہ میں جو معاہدہ امن کیا گیا‘ اس میں پاکستان کو مزید یہ پابندی قبول کرنا پڑی کہ ہم کشمیر کا مسئلہ لے کر ‘ کسی عالمی فورم پر نہیں جائیں گے۔ اس دن سے آج تک بھارت نے تنازع کشمیر حل کرنے کے سلسلے میں پاکستان کے ساتھ‘ کبھی سنجیدہ مذاکرات نہیں کئے۔ دونوں ملکوں کے مابین جو بھی رابطے ہوئے‘ ان میں بھارت ادھر ادھر کی باتیں کر کے‘وقت گزارتا رہا‘ لیکن اصل تنازعے کے حل پر بات نہیں کی۔ہم نے کئی مرتبہ کوشش کی کہ اقوام متحدہ میں باہمی مذاکرات ناکام ہونے کی بنیاد پر‘ یہ مسئلہ دوبارہ اٹھایا جائے اور عالمی برادری اس عظیم انسانی المیے پر دوبارہ غور کرے لیکن ہماری یہ بات نہیں مانی جا رہی۔ بھارت‘ کشمیر میں مسلسل من مانیاں کر رہا ہے۔
جیسا کہ بھارت چاہتا تھا ‘ وقت کے ساتھ ساتھ وہ اپنی معاشی اور فوجی پوزیشن بہتر کرتا چلا گیا جبکہ پاکستان داخلی بحرانوں کی وجہ سے‘ ترقی کا عمل جاری نہ رکھ سکا ۔ ہم نے ایٹم بم ضرور بنا لیا لیکن یہ ہتھیار ‘دو طرفہ تباہی کی گارنٹی تو دیتے ہیں‘ فتح کی گنجائش کسی کے لئے نہیں چھوڑتے۔ فیصلہ کن جنگ صرف روایتی ہتھیاروں سے لڑی جا سکتی ہے۔شکست سے خوف زدہ ہو کر‘ کوئی فریق ایٹمی اسلحہ کا استعمال کر بیٹھے‘ تو وہی بچ سکتا ہے ‘ جس کے پاس وسیع و عریض علاقہ محفوظ رہ جائے۔ وہاں جوابی کارروائی کرنے کی گنجائش باقی رہ جائے تو وہ رسمی فتح کی امید کر سکتا ہے لیکن جس فریق کا رقبہ ہی تھوڑا ہو‘ وہ جوابی ایٹمی حملے کے بعد‘ کھنڈرات اورنیم جاں اور معذور انسانی آبادی کے سوا‘ کچھ نہیں بچا سکتا۔
بھارت اب اس پوزیشن میں آچکا ہے کہ کشمیر پر اپنی مرضی کا حل مسلط کردے۔ دنیا کو مجبور کیا جائے کہ وہ‘ تبدیل شدہ صورت حال کو قبول کر لے۔ بھارت کو بظاہر ایسا کرنے میں کسی رکاوٹ کا اندیشہ نہیں۔ وہ سمجھتا ہے کہ پاکستان سارے راستے بند ہوتے دیکھ کر‘ آزاد کشمیر کو بچا نے میں ہی اپنی ''کامیابی ‘‘ سمجھے اور خاموش ہو کر بیٹھ جائے۔کشمیری عوام کو بھارتی آئین کے مطابق بھی یہ تحفظ حاصل ہے کہ وہ اپنے معاملات خود چلانے میں بااختیار ہیں لیکن عملاً انہیں یہ سہولت حاصل نہیں۔ بھارتی حکومت وہاں سخت کنٹرول میں جعلی انتخابات کا انعقاد کرتی ہے اور اپنے پٹھوں کو نمائندہ حکومت قرار دے کر ‘مقبوضہ ریاست پر مسلط کر دیتی ہے۔ انتہا پسند بی جے پی‘ کئی برسوں سے کوشاں تھی کہ کشمیریوں کو بھارت کے آئین میں حاصل ‘اس حق سے بھی محروم کر دیا جائے۔ بھارت میں انسانی حقوق کا شعور اور سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والے حلقے‘ کشمیریوں کا یہ حق چھیننے کے خلاف رہے ہیں ‘ان میں بی جے پی کے سرکردہ لیڈر بھی شامل ہیں۔ یہ لوگ کشمیریوں کا حق خود ارادی سلب کرنے کے خلاف ہیں لیکن ایسے لوگوں کی تعداد تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ امکان یہ ہے کہ اب اگر بی جے پی نے اپنی اکثریت کے بل بوتے پر‘ مقبوضہ کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کر کے‘ اسے بھارت میں ضم کر لیاتو کوئی روکنے والا نہیں ہوگا۔دنیا میں آج بھی'' جس کی لاٹھی‘ اس کی بھینس‘‘ کا قانون رائج ہے۔ بدقسمتی سے ہم عالمی برادری میںتنہا ہو چکے ہیں۔ ہم پر دہشت گردوں کی سرپرستی کے الزامات لگائے جاتے ہیں۔ ہماری معاشی اور فوجی طاقت اس حالت میں نہیں کہ کسی کو روایتی جنگ میں ہم سے ‘ بڑی جوابی کارروائی کا خوف ہو۔دوسری طرف بھارت‘ آزاد کشمیر کے علاقوں پر قبضہ کرنے کی دھمکیاں شروع کر دے گا اور یہ چاہے گا کہ اگر پاکستان مجبوری کی حالت میں موجودہ پوزیشن تسلیم کرنے پر تیار ہو جائے‘ تو اس پر معاملہ طے کر لیا جائے۔ہمارے لئے امید کا صرف ایک راستہ باقی رہ جاتا ہے کہ چین ہمارے ساتھ ‘ روایتی دوستی کے وعدوں پر عملدرآمد کرتے ہوئے سلامتی کونسل کے مستقل رکن کی حیثیت میں‘ بھارت کو ظلم و بربریت کے اس اقدام سے روکے۔چین کے پاس‘ عالمی طاقتوں کو قائل کرنے کی صلاحیت موجودہے اور وہ خود ریاست جموں و کشمیر میں ایک بڑا سٹیک ہولڈر بھی ہے۔ اس کی رضا مندی کے بغیر‘ بھارت پوری ریاست جموں و کشمیر پر نہ تو قبضہ کر سکتا ہے اور نہ ہی اسے برقرار رکھ سکتا ہے۔عالمی رائے عامہ کے دبائو کے علاوہ خود‘ چین اتنی اہلیت رکھتا ہے کہ بھارت کو اپنی بات ماننے پر مجبور کر سکے۔بھارت کے سب سے بڑے دریا‘ برہم پترا کا منبع‘ چین کے قبضے میں ہے اور اس نے تبت میں اس دریا پر‘ ایک بہت بڑا ڈیم بنا کر یہ طاقت حاصل کر لی ہے کہ جب چاہے ‘ بر ہم پترا کا پانی روک کر بھارت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دے۔ ہمارے چینی دوست اس اقدام پر تیار ہو جائیں تو بھارت کو نہ صرف کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے سے روکا جا سکتا ہے بلکہ اسے تنازع کشمیر کا منصفانہ حل قبول کرنے پربھی آمادہ کیا جا سکتا ہے۔