مشترکہ مسائل۔ ایک حل

ہمارا صدمہ اور غصہ بجا ہے۔ ہمیں افغان قوم کے ان صدموں کو بھی دیکھنا ہو گا‘ جو گزشتہ 25سال کی جنگ میں وہاں کے عوام برداشت کرتے آ رہے ہیں۔ ہم تسلیم کریں یا نہ کریں‘ افغان عوام کی اکثریت یہی محسوس کرتی ہے کہ وہ پاکستانی حکمرانوں کی پالیسیوں کی وجہ سے اپنے ملک میں طویل خانہ جنگی اور خونریزی سے گزر رہے ہیں۔ بے شک کابل کی نئی حکومت ‘ پرانی پالیسیوں اور پرانے دکھوں کو بھلا کر ‘ باہمی تعلقات کے نئے دور کا آغاز کرنا چاہتی ہے‘ مگر ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ گہرے اور دیرینہ زخم اچانک ٹھیک نہیں ہو جاتے۔ بھرتے بھرتے وقت لیتے ہیں۔ نئے افغان صدر اشرف غنی ماضی کا ملبہ اٹھا کر پھینک دینے کے بعد‘ پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات کا نیا باب کھولنے کے خواہش مند ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے صدارتی ذمہ داریاں سنبھالنے کے فوراً بعد پہلا دورہ چین اور پاکستان کا کیا۔ یہ ان کی ترجیحات کی واضح علامت ہے۔ چین نے اس تبدیلی کو فوری طور پر محسوس کرتے ہوئے‘ افغان صدر کا شاندار استقبال کیا اور انہیں افغانستان میں‘ امن و استحکام کے قیام میں مدد دینے کے لئے فراخدلانہ امداد اور تعاون کی پیش کش کی۔ چینیوں اور افغان حکام کے درمیان بہت سے منصوبوں پر تبادلہ خیال ہوا۔ ان دنوں دونوں ملکوں کے ماہرین ان منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں‘ جو ترجیحات کے مطابق اپنے وقت پر شروع ہوتے جائیں گے۔ سچی بات ہے‘ چین کے دورے کے بعد‘ نئے افغان صدر نے سب سے پہلے پاکستان کے دورے پر آنا مناسب سمجھا۔ پاک فوج کی طرف سے ان کی شاندار پذیرائی کی گئی۔ انہیں وہی پروٹوکول دیا گیاجس کے‘ ایک سربراہ مملکت کی حیثیت میں وہ حق دار تھے‘ لیکن میں نہیں سمجھتا کہ سیاسی طور پر ان کا شایان شان استقبال کیا گیا۔ کسے معلوم تھا کہ چند ہی روز کے بعد‘ پاکستان پر ایک دلخراش صدمہ ٹوٹے گا اور اس کے فوراً ہی بعد پشاور کے ایک سکول میں قیامت برپا کرنے والوں کے خلاف مدد کے لئے افغانستان کے تعاون کی ضرورت پڑ جائے گی۔ یہ بھی شاید اتفاق ہی ہو کہ افغان صدر پاکستان کے دورے پر آئے‘ تو ان کا استقبال پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کی طرف سے کیا گیااور امتحان کے لمحات میں بھی‘ جنرل راحیل شریف ہی تعاون کی تجویز لے کر کابل گئے۔ 
تاریخ پر کسی کا بس نہیں چلتا۔ جب ہمارے چیف آف آرمی سٹاف کو اچانک کابل جانا پڑا‘ تو حالات بدل چکے تھے۔ اس بار ہم اپنے ملک میں دہشت گردی کی دل دہلا دینے والی واردات کے بعد‘ افغان حکومت کے پاس گئے تھے۔ یقینی طور پر ہم اپنے مشکل وقت میں اپنے برادر مسلمان پڑوسی کے پاس گئے تھے۔ جنرل راحیل نے یقینا میزبان صدر کے اس صدمے کو یاد رکھا ہو گا‘ جس سے انہیں گزشتہ ماہ خود گزرنا پڑا تھا۔ میزبان صدر نے اس حقیقت کا محتاط الفاظ میں ذکر بھی کیا تھا۔ انہوں نے کہا ''افغانوں اور دیگر مسلمانوں پر انہی لوگوں نے حملے کئے‘ جنہوں نے گزشتہ مہینے خودکش بمباری کر کے پکتیا کے صوبے میں ایک والی بال میچ کے دوران ہمارے بچوں پر حملہ کیا تھا۔ جس میں 35تماشائی نوجوان اور بچے جان سے گئے تھے۔‘‘ میزبان صدر نے پاکستانی مہمان کے المیے کا دکھ ضرور محسوس کیا ‘ مگرساتھ ہی انہیں اپنے دکھ بھی یاد تھے۔ درحقیقت انہوں نے کہا تھا کہ ہم پر وہ صدمے مدتوں سے گزر رہے ہیں‘ جن سے آپ ایک روز پہلے گزرے ہیں۔ جنرل راحیل شریف نے امید ظاہر کی کہ صدر اشرف غنی اور ان کی کولیشن ‘ پاکستان پر وحشیانہ حملہ کرنے والے نام نہاد طالبان کے خلاف کارروائی کریں گے‘ جو پاکستان کی اطلاع کے مطابق افغان سرحد کے اندر چھپے ہوئے ہیں۔ خبریں ہیں کہ صدر اشرف غنی اور جنرل راحیل دونوں نے اپنے اپنے ملکوں کی خفیہ ایجنسیوں کی نہایت اہم معلومات کا تبادلہ کیا۔ افغان صدر نے پشاور حملے پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ پشاور میں سینکڑوں بچوں کو شہید کرنے والے دہشت گردوں کی افغانستان میں نقل و حرکت پر پابندی لگائیں گے اور ممکن بنائیں گے کہ وہ ہماری سرزمین پر رہ کر دہشت گردی کی سرگرمیاں جاری نہ رکھ سکیں‘ لیکن یہ صدر اشرف غنی کے اپنے تاثرات تھے۔ ان کی حکومت میں شامل دیگر سیاسی لیڈروں اور بہت سے اعلیٰ حکام کے محسوسات یہ نہیں ہیں۔ بہت سے افغان لیڈر جن میں حامد کرزئی بھی شامل ہے‘ آج بھی یہ سمجھتے ہیں کہ دہشت گردوں کے پیچھے پاکستان کاخفیہ ہاتھ ہے اور ان کے ملک میں دہشت گردی کی بیشتر وارداتوں میں اس کا ہاتھ ضرور رہا ہے‘ جن میں کابل کے اندر ہونے والے بہت سے واقعات بھی شامل ہیں۔ افغان حکام اور لیڈر یہ بھی محسوس کرتے ہیں کہ پاکستانی قیادت اور وہاں کی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ‘ غریب اور پسماندہ افغان قوم پر‘ اپنی بالادستی قائم کرنے کی خواہش مند ہیں اور ہمارے ملک کو وہ اپنے علاقائی اثرورسوخ میں اضافے کے لئے‘ بطور سٹریٹجک ڈیپتھ استعمال کرنے کے خواہش مند ہیں۔ خصوصاً بھارت کے خلاف۔ ایک ریٹائرڈ افغان جنرل عتیق اللہ امرخیل نے کابل میں کہا کہ ''پاکستانی جنرل اپنی مشکل میں ہم سے مدد مانگنے نہیں آئے بلکہ وہ اپنی طاقت کے زعم میں صدر غنی پر دبائو ڈالنے آئے ہیںکہ ہمارے صدر ‘ پشاور سکول پر حملہ کرنے والے ان دہشت گردوں کو ڈھونڈ کے پاکستان کے سامنے پیش کریں‘ جن کے ٹھکانے‘ بقول پاکستان‘ افغانستان کے اندر ہیں۔‘‘ جنرل نے کہا ''تحریک طالبان پاکستان کا مسئلہ ہے۔ ہمارا نہیں۔‘‘ اس قسم کے خیالات کرزئی حکومت کے زمانے سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں کے ہیں۔ افغان عوام کی اکثریت‘ پاکستانی بچوں کے وحشیانہ قتل عام کے المیے کو پوری طرح محسوس کر رہی ہے۔ ایسے مواقع پر جو لوگ زخم خوردہ فریق کو پرانی باتیں یاد دلاتے ہیں‘ وہ افغانستان میں ہی نہیں‘ پاکستان میں بھی موجود ہیں۔ دہشت گردوں نے اسلام کے نام کو جس بری طرح سے استعمال کیا ہے‘ اس کے نتیجے 
میں بے شمار سادہ لوح عوام اور بعض ذمہ دار اشخاص محسوس کرتے ہیںکہ دہشت گرد ‘ امریکی حکومت کے زیراثر ڈھائے جانے والے مظالم کے ردعمل میں بھیانک جرائم کرتے ہیں۔ ایک سیاسی جماعت کے منتخب نمائندے نے ایک ٹی وی شو میں بچوں کی المناک شہادتوں پر اظہارغم کرتے ہوئے بات کا رخ ایک دم بدلا اور امریکہ کے خلاف پرزور تقریر جھاڑ دی۔ حالانکہ دہشت گردوں کا نشانہ‘ ان کے اپنے ہی وطن کے شہری اور بچے بنائے جا رہے ہیں‘ لیکن یہ لوگ امریکہ کا نام لے کر ایسے دلائل پیش کرتے ہیں‘ جن سے ہمیں دہشت گردوں کو اس لئے حق بجانب سمجھنا چاہیے کیونکہ وہ امریکہ کے مخالف ہیں اور پاکستان وہاں کی حکومت کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھتا ہے۔ جب ہمارے اپنے لوگ‘ یہ طرزعمل روا رکھیں گے‘ تو افغانستان کی تکلیف تو 25 سال سے زیادہ پرانی ہے۔ گزشتہ دو تین دنوں سے اسلام آباد میںلال مسجد کے باہر شہریوں کے مظاہرے ہو رہے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ وہاں کے مولوی صاحب‘ پشاور میں ہونے والی دہشت گردی کی غیرمشروط مذمت کریں۔ وہ حضرت تادم تحریر‘ اس کے لئے تیار نہیں ہو رہے۔ جب اپنے ہم وطنوں میں ایسے لوگ موجود ہیں‘ تو افغانستان کے سینئرحکام کی شکایت کرنے سے پہلے‘ ان کے تجربات کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے۔ وہاں کی موجودہ بیوروکریسی میں بہت سے عناصر ایسے ہیں‘ جو کرزئی کے زمانے سے چلے آ رہے ہیں اور انہوں نے پاکستان کو اپنی اس وقت کی حکومت کی پالیسیوں کی روشنی میں ایک ایسے پڑوسی کی طرح دیکھا ہے‘ جو ان کے ملک میں خلفشار پھیلانے کا ذمہ دار رہا ہے۔ نئی حکومت نے ماضی کو فراموش کرتے ہوئے‘ پاکستان کے ساتھ ازسرنو تعلقات کی نئی بنیادیں رکھنا شروع کی ہیں‘ ہمیں اس پالیسی کے اثرات کا انتظار کرنا چاہیے اور وہاں کی حکومت کو باور کرانا چاہیے کہ ماضی میںجو کچھ ہوا‘ دونوں ملکوں کی سابق حکومتوں کی پالیسیوں کا نتیجہ تھا۔ وہ خطے کی صورتحال کو ایک اور سوچ اور نکتہ نظر سے دیکھا کرتے تھے۔ جب کہ آج پاکستان کی حکومت ماضی کی تلخیاں فراموش کر کے نئے دور کا آغاز کرنا چاہتی ہے اور محسوس ہوتا ہے کہ یہی کوشش نئی افغان حکومت کے پیش نظر ہے۔ مناسب ترین طریقہ یہی ہے کہ تبدیل شدہ حقائق کا ادراک کرتے ہوئے‘ ان امکانات کو آزمانے کی کوشش کرنا چاہیے‘ جن میں دونوں ملکوں کے عوام کے لئے امن‘ ترقی اور خوشحالی کے راستے کھولے جائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اور افغانستان دونوں ہی دہشت گردی کے زخموں سے چور ہیں۔ ہمیں ان زخموں کو بھی بھرنا ہے ۔ آنے والے دنوں میں دہشت گردوں سے اپنے عوام اور معاشروں کو بھی بچانا ہے اور مستقبل میں امن کی تعمیر کے لئے ایک دوسرے سے تعاون بھی کرنا ہے۔ دونوں طرف کے وہ لوگ جو کسی نہ کسی وجہ سے دہشت گردی کے درپردہ حامی ہیں‘ شرانگیزیاں ضرور کریں گے‘ لیکن ہمیں انہیں حقارت سے دھتکارتے ہوئے‘ ثابت کرنا ہے کہ ہم ماضی سے بہت کچھ سیکھ چکے ہیں ۔ اب ہمیں امن اور تعاون کے راستوں پر آگے بڑھتے ہوئے تاریخ کو ایک نیا رخ دینا اور پورے خطے کے امن اور استحکام میں مثبت کردار ادا کرنا ہے۔ ہمارے مسائل مشترک ہیں اور ان کا حل بھی ایک ہے۔ 

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں