ترقی کے تقاضے

اس بار بھارتی سیکرٹری خارجہ کے دورۂ پاکستان پر ‘ پاکستان نے پہلی مرتبہ بیوروکریٹک سطح پر اپنے ملک میں بھارتی مداخلت کے ثبوت باقاعدہ فراہم کئے ہیں۔ اس سے پہلے سیاسی مذاکرات میں اس کا تذکرہ ضرور ہوتا رہا‘ لیکن یہ باضابطہ یاددہانی نہیں تھی۔ مختلف مواقع پر سربراہی اور وزارتی رابطوں میں اس کا ذکر آتا رہا‘ لیکن یہ کوئی باضابطہ کمیونیکیشن نہیں تھی۔ اس سے پہلے پاکستان کی کورکمانڈرز کانفرنس میں بھارتی مداخلت کا سوال اعلیٰ سطح پر زیربحث لایا گیا۔ بھارت نے ان شکایات کے جواب میں پاکستان کے ساتھ مذاکرات یکطرفہ طور پر ختم کر دیئے اور ان کی بحالی کی کوشش بھی نہیں کی جا رہی۔ اعلیٰ سطح پر باہمی کشیدگی کی یہ صورتحال اس وقت پیدا ہو رہی ہے‘ جب پاکستان میں ہماری قومی تاریخ کے عظیم ترین سٹریٹجک نیٹ ورک کی تعمیرات شروع کی جانے والی ہیں۔ یاد رکھنا چاہیے کہ بڑے تعمیراتی منصوبے شروع کرنے سے پہلے‘ اطمینان بخش داخلی و بیرونی حالات پیدا کئے جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں صورتحال اس کے برعکس ہے۔ نہ تو خطے میں ہمارے لئے سازگار حالات موجود ہیں اور نہ ہی داخلی استحکام کا دوردور تک پتہ ہے۔ چین کے سوا‘ ایک بھی پڑوسی ملک ایسا نہیں‘ جس کی طرف سے ہمیںاپنے داخلی امن و امان اور استحکام میں خلل اندازی کا اندیشہ نہ ہو۔
ابھی تک ایران کے ساتھ ایک عارضی ٹھہرائو کی صورتحال چلی آ رہی تھی‘ لیکن یمن کے خلاف سعودی عرب کی جنگ میں شریک ہو کر‘ صورتحال ہمارے کنٹرول میں نہیں رہ گئی۔ جب تک یمن میں سعودی کارروائیاں ایک حد کے اندر رہتی اور ایران کے لئے قابل برداشت ہیں‘ ہم آزمائش میں نہیں پڑیں گے‘ لیکن جیسے ہی ایران نے یمن کی مدد کو آنے کا فیصلہ کر لیا‘ ہم براہ راست اس جنگ کا حصہ بن جائیں گے۔ اس کے بعد ہمیں ایران کی طرف سے کبھی اطمینان نہیں رہے گا۔ جیسے ہی ایران‘ سعودی تصادم میں شدت آئی‘ جنگ کا دائرہ پاک ایران سرحدوں تک بھی پھیل سکتا ہے اور جب خدانخواستہ سعودی عرب اور ایران کا تصادم شروع ہوا‘ تو ہمارے لئے معاملات صرف ایران کی سرحدوں تک محدود نہیں رہیں گے۔ ان دونوں ملکوں کی طرف سے جنگ شیعہ سنی رنگ بھی اختیار کر سکتی ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہو گا‘ جب عدم استحکام ہمارے ملک کے کونے کونے میں پھیل جائے گا۔ پھر ایسی تباہی آئے گی ‘ جس کے نتائج ہمیں صدیوں بھگتنا پڑیں گے اور خاکم بدہن پاکستان کی بقا اور سلامتی بھی خطرے میں پڑ جائے گی۔ اس فساد کے لئے ایندھن پہلے سے تیار ہے۔ نفرت پھیلانے والے مولوی سلامت رہیں‘ فرقہ وارانہ کشیدگی کی آگ بھڑکنے کے سارے سامان موجود ہیں۔
افغانستان کی طرف آئیں‘ تو وہاں طالبان کا معاملہ ابھی تک سلجھتا ہوا نظر نہیں آ رہا۔ ابھی باقاعدہ مذاکرات بھی شروع نہیں ہو پائے۔ افغانستان کے اندر بھی کئی فریق ہیں۔ دو فریق تو حکومت کے اندر تاجک اور پختون ہیں۔ دونوں میں غیرمستحکم قسم کا آزمائشی سمجھوتہ چل رہا ہے‘ جو آگے بھی بڑھ سکتا ہے اور ٹوٹ بھی سکتا ہے۔ طالبان اور اہل تشیع کے درمیان کشیدگی ہی نہیں تصادم کا اندیشہ بھی موجود ہے‘ جو وقتاً فوقتاً جاری رہتا ہے۔ جب بھی ان دونوں فرقوں کے باہمی تصادم میں تیزی آئی‘ تو ایران اس سے غیرمتعلق نہیں رہ سکے گا۔یہ لڑائی علاقائی اور گروہی طور پر اتناپھیل سکتی ہے‘ جس کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ اس کی سرحدیں وسطی ایشیا سے لے کر‘ پاکستان اور بھارت تک جاسکتی ہیں۔
سب سے بڑا خطرہ بھارت کی طرف سے ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان اور بھارت ابھی تک اپنا کوئی مسئلہ حل نہیں کر سکے۔ ہمارے تمام تنازعات کشمیر کے جھگڑے نے مقفل کر رکھے ہیں ۔ تقسیم کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سرحدی تنازعات ‘جو آسانی سے حل کئے جا سکتے ہیں‘ بارہا اس کے مواقع بھی پیدا ہوئے‘ لیکن عین کنارے پر پہنچ کر سلسلہ ٹوٹ گیا۔ اس میں سرکریک کا تنازع سرفہرست ہے۔ پاکستان اور بھارت‘ دونوں ہی اس کا حل تلاش کر چکے ہیں‘ صرف عمل درآمد کا مرحلہ باقی ہے‘ لیکن جیسے ہی ہم قریب آنے لگتے ہیں‘ تنازع کشمیر اس پر سایہ فگن ہو جاتا ہے۔
برصغیر میں فساد کی سب سے بڑی جڑ کشمیر کا تنازع ہے۔ ہم حالات بہتر بنانے کی طرف ایک قدم آگے بڑھاتے ہیں‘ تو کشمیر کسی نہ کسی سمت سے زخم لگا کر ہمیں برسوں پیچھے دھکیل دیتا ہے۔ یہ سلسلہ اب اتنا رائج ہو چکا ہے کہ ہمیں کسی طرف نکلنے کا راستہ نہیں مل رہا۔ ایک سال پہلے تک بھارت میں ایسے سیاسی ذہن کی حکومت تھی‘ جو سوچے سمجھے منصوبوں کے تحت جنگ چھیڑتا تھا‘ مگر موجودہ حکمران انتہاپسند اور مذہبی جنونی ہیں۔ یہ لوگ بغیر سوچے سمجھے بھی جنگ میں کود سکتے ہیں۔ سمجھ دار دشمن سے تو لڑا جا سکتا ہے‘ لیکن جنونیوں سے لڑنے کی نہ کوئی تدبیرکی جا سکتی ہے‘ نہ تیاری۔ بھارت کی موجودہ حکمران پارٹی کے بعض حلقے آج بھی سوچے سمجھے بغیر‘ جنگ میں کود پڑنے کے مطالبے کرتے رہتے ہیں۔ پاکستان میں کسی بھی طرح کا استحکام ان لوگوں کو گوارا نہیں۔ اگر ہمارے ملک میں تعمیروترقی کا ہمہ گیر عمل شروع ہوتا ہے‘ تو کوئی نہیں جانتا بھارتی انتہاپسندوں کا ردعمل کیا ہو گا؟ وہ اپنے ملک کے اندر پاکستانیوں کی ٹرین تباہ کر سکتے ہیں۔ اس میں تو خیرمسلمان تھے۔ انہوں نے تو گجرات میں مذہب پرست بھارتیوں سے بھری ہوئی ٹرین کو بھی آگ لگا دی تھی تاکہ وہ گجرات میں بھارتی مسلمانوں کا قتل عام کر سکیں۔ جب اس طرح کے ذہن سے واسطہ ہو‘ تو کوئی تدبیر کارگر نہیں ہو سکتی۔ پاکستان کو ترقی و خوشحالی کا ہمہ گیر عمل شروع کرتے دیکھ کر‘ ہندوانتہاپسندوں کا بوکھلانا بعیدازقیاس نہیں۔ جیسا کہ پاکستان نے بھارت کو بارہا سرکاری طور پر مطلع کیا ہے کہ اس کے ایجنٹ پاکستان میں سرگرم عمل ہیں۔ پورے ملک میں عالمی سطح کے ترقیاتی ڈھانچے کی تعمیر ‘ ایسے تنگ نظر لوگ کیسے برداشت کر پائیں گے؟ وہ بھی ایسی صورت میں جب پاکستان کے اندر تربیت یافتہ بھارتی ایجنٹوں کا جال پھیلا ہوا ہے۔ وہ صرف پاکستان کے اندر ہی نہیں‘ افغانستان میں بھی موجود ہیں اور منصوبہ ہو توہمارے ملک کے اندر آ کر بھی کارروائیاں کر سکتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ دشمن کے وعدے اور یقین دہانیاں اپنی جگہ‘ لیکن اس کی نقصان پہنچانے کی ذہنیت پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ وہ کسی بھی وقت اپنی یہ طاقت بروئے عمل لا سکتا ہے۔
گردونواح میں پھیلے ہوئے خطرات کے علاوہ ہمارے ملک کے اندر بھی صورتحال اطمینان بخش نہیں۔ ہماری فوج ایک ایسی جنگ میں مصروف ہے‘ جس کی مثال شاید ہی کہیں پائی جاتی ہو۔ ہماری سرحدیں چین کے سوا کسی طرف سے محفوظ نہیں۔ اسے ہر طرف سرحدوں پر مستعد رہنا پڑتا ہے۔ اطمینان بخش صورتحال کسی طرف بھی موجود نہیں۔ پوری جنگ نہیں‘ تو آدھی جنگ کی صورتحال ہر طرف پائی جاتی ہے۔ ملک کے اندر ہم کسی طرف سے غافل نہیں رہ سکتے۔ حد یہ ہے کہ ہماری حکومت قیام امن کے لئے جو آل پارٹیز کانفرنس بلاتی ہے‘ اس میں بھی ایسے لوگ موجود ہوتے ہیں‘ جن کے ذہن میں پاک فوج کے خلاف بغض و عناد بھرا ہوتا ہے۔ وہ ہمارے جوانوں کو شہید نہیں مانتے اوردہشت گردوں کے جو ساتھی مارے جاتے ہیں‘ انہیں وہ شہید قرار دیتے ہیں۔ جس ملک میں مقتدرہ کے اس اعلیٰ ترین درجے پر ایسے ذہن رکھنے والے لوگ مشاورت میں شریک ہوتے ہوں‘ اس کے دفاع پر کتنا بھروسہ کیا جا سکتا ہے؟ اور یہ بات ہمارے حساس اداروں کے اہلکاروں کو معلوم ہے کہ جو منافقین‘ ان کی خدمت میں حاضر ہو کر وفاداری اور امن پسندی کا یقین دلاتے ہیں‘ ان کے دلوں میں کتنا کینہ ہوتا ہے؟ یہ ہے وہ خارجی صورتحال‘ جس میں ہم جنوبی ایشیا کی تاریخ کا سب سے بڑا ترقیاتی منصوبہ شروع کرنے جا رہے ہیں۔ چین ان حالات سے گزرا ہوا ہے‘ لیکن اس نے داخلی طور پر بہرحال اپنے حالات قابل اطمینان رکھے ہوئے ہیں۔ کم از کم اس کے داخلی دشمن اتنے سرگرم اور متحرک نہیں ‘جتنے ہمارے ہیںاور طاقت کے اعتبار سے وہ اس مقام پر پہنچ چکا ہے‘ جب کوئی اس کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔ اگر ہمیں اکنامک کوریڈور کے منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانا ہے تو پہلے تحفظات کے وہ سارے انتظامات کرنا ہوں گے‘ جو ان کے لئے درکار ہیں۔ یہ سب کچھ ممکن ہے۔ اگر ہم خطرات کا اندازہ کر سکیں۔ اگر ہم اپنے اندر بیٹھے دشمنوں کا بھی اندازہ نہیں کر سکیں گے‘ توباقی خطروں سے بچنے کے انتظامات کیسے کر سکتے ہیں؟

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں