وزیر خزانہ کادورۂ امریکہ اور دہشت گردی کی ابھرتی لہر

تحریک انصاف پنجاب، خیبرپختونخوا، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں برسرِ اقتدار ہے۔ اس کے باوجود ان علاقوں میں کارکردگی بہتر بنانے کے بجائے نئے انتخابات کی مانگ کی جا رہی ہے۔ اس وقت امن و امان کے حوالے سے خیبر پختونخوا کی صورتحال گمبھیر دکھائی دیتی ہے۔ خصوصاً سوات میں نظامِ زندگی بری طرح متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔ کالعدم ٹی ٹی پی ان علاقوں میں دوبارہ فعال ہو رہی ہے۔ مارکیٹوں اور سرکاری دفاتر سے بھتہ لینے کی بھی اطلاعات ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ اعلیٰ حکومتی شخصیات کے رشتہ داروں سے بھی بھتہ لیا گیا ہے۔ پہلے یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ صرف سرکاری افسران اور سیاستدانوں کے لیے مسائل پیدا کیے جا رہے ہیں لیکن سوات میں ہونے والاحالیہ احتجاج کچھ اور ہی خبریں دے رہا ہے۔ اس احتجاج کو سوات کی تاریخ کا سب سے بڑا احتجاج بھی کہا جا رہا ہے۔ اس میں صرف سیاستدان یا سرکاری افسران شریک نہیں تھے بلکہ عام شہریوں نے بھی بھرپور شرکت کی جس کا مطلب یہ ہے کہ عام آدمی بھی کالعدم ٹی ٹی پی سے بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق پچھلے دو ماہ میں یہ چھٹا عوامی احتجاج ہے جو مبینہ طور پر شدت پسندوں کے خلاف کیا جا رہا ہے۔ حالیہ احتجاج بچوں کی سکول وین پر فائرنگ کے بعد کیا گیا۔ اس واقعے میں بس کا ڈرائیور جان کی بازی ہار گیا۔ بعض حلقوں کا دعویٰ ہے کہ یہ دہشت گردی نہیں بلکہ ٹارگٹ کلنگ تھی لیکن عوام کی اکثریت اسے دہشت گردی قرار دیتی نظر آتی ہے۔ احتجاج میں لگنے والے نعرے بھتہ خوری اور دہشت گردی سے متعلق تھے نہ کہ ٹارگٹ کلنگ کے خلاف۔ اس حملے کو ٹارگٹ کلنگ قرار دینے والوں کو شاید علم نہیں کہ حملے کا وقت بھی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ حملہ ملالہ یوسفزئی پر ہونے والے حملے کے دس سال مکمل ہونے کے اگلے دن کیا گیا۔ اتفاق سے ان دنوں ملالہ یوسفزئی بھی سیلاب زدگان سے ا ظہارِ ہمدردی کے لیے پاکستان آئی ہوئی ہیں۔ شدت پسند کئی مرتبہ اعلان کر چکے ہیں کہ اگر ملالہ یوسفزئی پاکستان آئیں تو اس کے سخت نتائج بھگتنا ہوں گے۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے بھی سوات میں عام آدمی کو لاحق خطرات کو سنجیدگی سے لینے پر زور دیا ہے۔ پچھلے ماہ ٹی ٹی پی مخالف لیڈر سمیت پانچ لوگ بم دھماکے میں جان کی بازی ہار گئے تھے۔ سوات پاکستان کا اہم سیاحتی علاقہ ہے۔ یہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے تقریباً دو سو چالیس کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ اسلام آباد سے ڈھائی سو کلومیٹر کے فاصلے پر حکومت کی رِٹ ختم ہو چکی ہے اور شدت پسند دوبارہ فعال ہو چکے ہیں تو شاید غلط نہ ہو گا۔ ماضی میں بھی جب تحریک طالبان سوات پر قابض ہوئی تھی تو حکومت نے بروقت اور مناسب رد عمل نہیں دیا تھا جس کے اثرات پورے ملک پر پڑے تھے۔ خیبرپختونخوا حکومت کے ترجمان اس موقع پر جو منطق پیش کر رہے ہیں اس سے اتفاق کرنا مشکل ہے۔ ان کے مطابق اگر کالعدم ٹی ٹی پی کوئی حملہ کرے تو وہ اس کی ذمہ داری بھی قبول کرتی ہے۔ چونکہ ٹی ٹی پی نے حالیہ حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی اس لیے اس پر الزام نہیں لگایا جا سکتا۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ بدامنی ٹی ٹی پی نہیں پھیلا رہی تو پھر کون پھیلا رہا ہے؟ اس حوالے سے تو معاملات اور سنگین ہو جاتے ہیں کہ اب مزید کئی دھڑے حکومتی رِٹ کو چیلنج کر رہے ہیں۔ حکومتی ترجمان کو ثبوتوں کے ساتھ عوام کے سامنے آنا چاہیے اور عوامی خدشات دور کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ میں یہاں اس بات کا ذکر ضروری سمجھتا ہوں کہ آرمی پبلک سکول پر ہونے والا حملے نے آپریشن ضربِ عضب کی بنیاد رکھی تھی جس کے بعد دہشت گردی تقریباً ختم ہو گئی تھی۔ کیا بچوں کی سکول وین پر ہونے والے حملے کے بعد بھی حکومت کوئی بڑا قدم اٹھائے گی یا پھر ہاتھ پر ہاتھ دھرے کسی بڑے سانحے کا انتظار کیا جائے گا؟ یہاں تحریک انصاف کو سوچنا ہو گا کہ کیا یہ وقت دھرنا دینے کا ہے یا خیبرپختونخوا میں حکومتی رِٹ قائم اور بحال کرنے کا ہے۔
اس وقت پاکستان کی معاشی صورتحال واضح ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ وزیر خزانہ صاحب پہلے قرضوں کو ملتوی کروانے کے حامی تھے پھر اچانک قرض ادا کرنے کو ملک کے بہتر امیج کے ساتھ جوڑنا شروع کر دیا گیا۔ یہ درست ہے کہ قرضوں کی بروقت ادائیگی سے پاکستانی معیشت پر اعتماد بڑھے گا لیکن ایک ہائی پروفائل شخصیت کی امریکہ سے واپسی کے فوراً بعد پالیسی میں تبدیلی یہ پیغام دے رہی ہے کہ پاکستان کو قرضوں کی ادائیگی ملتوی کرنے یا انہیں گرانٹ میں تبدیل کرنے کے حوالے سے مثبت اشارے نہیں ملے۔ میں نے گزشتہ کالم میں ذکر کیا تھا کہ قرض ادائیگی سے متعلق خبریں اہم شخصیت کے پاکستان واپس آنے کے بعد ہی سامنے آ سکیں گی۔ اس کے علاوہ پچھلے کالم میں شرحِ سود کے تبدیل نہ ہونے کے بارے میں بھی خبر دے دی تھی جو حرف بحرف درست ثابت ہوئی ہے۔ اس وقت وزیر خزانہ اسحاق ڈار آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے مذاکرات کے لیے امریکہ میں موجود ہیں۔ آئی ایم ایف کا گیس، بجلی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے پر اصرار ہے۔ ورلڈ بینک نے بھی بجلی کی قیمت بڑھانے کی شرط عائد کر رکھی ہے۔ آئی ایم ایف نے اس خدشے کا اظہار بھی کیا ہے کہ پاکستان مطلوبہ اہداف حاصل نہیں کر سکے گا اور یہ کافی حد تک درست دکھائی دیتا ہے۔ وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف گلوبل مہنگائی کے باعث ترقی پذیر ممالک کے قرضوں پر ریلیف دینے اور انرجی کو سستا کرنے کے لیے سبسڈی دینے پر یقین رکھتا ہے۔ اس حساب سے پاکستان کو بھی اس کے حصے کا ریلیف ملنا چاہیے۔ وزیر صاحب کی خواہش اپنی جگہ لیکن اس مرتبہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک ممکنہ طور پر اتنا ہی ریلیف دیتے دکھائی دے رہے ہیں جو معاشی نبض کو رواں رکھنے کیلئے ضروری ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارے یو این ڈی پی کے سربراہ کے ایک حالیہ بیان کو بھی ایک بڑی پیشرفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ عالمی بحرانوں نے پاکستان سمیت دنیا کی نصف سے زائد آبادی پر مشتمل 54 ممالک کو قرضوں میں ریلیف کی اشد ضرورت میں مبتلا کردیا ہے۔ درجنوں ترقی پذیر ممالک قرضوں کے تیزی سے گہرے ہوتے بحران کا سامنا کر رہے ہیں اور ان کے غیر فعال ہونے کے خطرات سنگین ہیں۔فوری ریلیف کے بغیر یہ ممالک غربت کی سطح میں اضافہ دیکھیں گے اور موسمیاتی موافقت اور تخفیف میں سرمایہ کاری کی اشد ضرورت ہے۔ اعداد و شمار کے صورت حال تیزی سے بگڑ رہی ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں سے 19 اب مؤثر طریقے سے قرض دینے والی منڈی سے باہر ہو چکے ہیںجن کی تعداد سال کے آغاز میں 10 تھی۔ یہ بیان واشنگٹن میں آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور جی 20 کے وزرائے خزانہ کے اجلاسوں سے قبل دیا گیا ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے کے سربراہ کا یہ بیان عالمی مالیاتی اداروں کے فیصلوں میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں لا سکے گا۔ ذہن نشین رہے کہ اقوم متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے پاکستان کے دورے کے دوران دنیا سے اپیل کی تھی کہ پاکستان کی مالی مدد کی جائے لیکن اس کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہیں ہو سکا تھا۔ یو این ڈی پی کے سربراہ کا بیان ایک رسمی کارروائی ہی دکھائی دیتا ہے۔
ایک طرف پاکستان کے معاشی بحران میں اضافہ دکھائی دے رہا ہے اور دوسری طرف تحریک انصاف کے لانگ مارچ کو روکنے کے لیے وفاقی کابینہ نے 41 کروڑ روپے کی منظوری دے دی ہے۔ اس مشکل گھڑی میں یہ رقم سیلاب زدگان کو زندگی کی طرف واپس لانے کے لیے استعمال کی جا سکتی تھی۔ تحریک انصاف کے سربراہ بھی اس معاملے کی حساسیت سے نابلد دکھائی دیتے ہیں۔ حالات کے پیشِ نظر یہ کہا جا سکتا ہے کہ لانگ مارچ بہر صورت ہو گا اور حکومت کی انٹیلی جنس رپورٹس میں بھی لانگ مارچ ہونے کی خبر دی جا رہی ہے۔ تحریک انصاف مطلوبہ نتائج حاصل کر پاتی ہے یا نہیں اس بارے میں کوئی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی لیکن ایک بات بھاری دل کے ساتھ کہنا ضروری ہو گیا ہے کہ جب ملک کی بڑی سیاسی جماعت کے رہنما ہی کو ملکی معیشت سے زیادہ لانگ مارچ کی پروا ہو تو دوست ممالک اور عالمی مالیاتی اداروں سے ملک کا خیال نہ رکھنے کا گلہ نہیں بنتا۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں