پاک بحریہ عالمی امن کی سفیر!

دشت تو دشت ہیں دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے
بحرِ ظلمات میں دوڑا دیے گھوڑے ہم نے
پاک بحریہ پاکستان کے سمندروں کی پاسبان‘ ساحلوں کی نگہبان‘ شمالی بحیرۂ عرب میں دو لاکھ 40ہزار مربع کلو میٹر پر مشتمل اکنامک زون اور مشرق میں سرکریک سے لے کر مغرب میں گوادر تک پھیلی ایک ہزار کلومیٹر طویل ساحلی پٹی کے دفاع اور قومی اثاثوں کی حفاظت کیلئے روایتی و غیر روایتی خطرات سے نمٹنے کیلئے ہمہ وقت تیار ہے۔ پاک بحریہ میری ٹائم فورسز کا حصہ بن کر بحری خطے میں دہشت گردی و منشیات کی نقل و حرکت کی روک تھام کیلئے متعدد میری ٹائم سکیورٹی آپریشنز سرانجام دینے کے علاوہ بحری تحفظ و سلامتی کی مجموعی صورتحال میں بہتری لانے کیلئے علاقائی و دیگر دوست ممالک کے ساتھ مل کر مسلسل سر گرم عمل ہے۔ پاک بحریہ نے سمندری دفاع کو مزید منظم کرتے ہوئے تمام سرکاری ایجنسیوں و دیگر سٹیک ہولڈرز کی کوششیں مربوط کرنے کیلئے 2012ء میں جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن آرگنائزیشن (JMIO) کی منظوری دی۔ بعدازاں بحری معاملات میں ہم آہنگی کی توسیع کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے 2013ء میں جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن اینڈ کوآرڈی نیشن سنٹر (JMICC) کا قیام عمل میں لایا گیااور اب تمام تر ڈیٹا کلیکشن‘ معلومات کی ترسیل کا مرکز JMICC تقریباً 52قومی سٹیک ہولڈرز اور 11بین الاقوامی سٹیک ہولڈرز کے ساتھ روابط رکھے ہوئے ہے۔ JMICC کا عالمی سطح پر روابط میں اضافہ سمندری تحفظ و سکیورٹی کیلئے فائدہ مند ثابت ہوا۔ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کیلئے بھی فرض شناسی کی روایت کو نبھاتے ہوئے پاک نیوی اور میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی کی مشترکہ کاوشوں سے بہت سی قیمتی جانوں کو بچایا جا چکا ہے۔ JMICC سٹیک ہولڈرز کی خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر انسدادِ منشیات کے بھی جنوری 2024ء سے نوکامیاب آپریشن کیے گئے ہیں‘ تاہم حالیہ دور میں غیر روایتی خطرات جیسا کہ بحری قزاقی‘ انسانی سمگلنگ‘ موسمی تغیرات‘ آبی دہشت گردی وغیرہ جیسے چیلنجز کی وجہ سے عالمی میری ٹائم سٹریٹجی میں بھی تبدیلی آئی جو اس حقیقت کی نشاندہی ہے کہ دنیا میں بڑی سے بڑی طاقت بھی تنہا اس گلوبل کامن (سمندر) کو قابو نہیں کر سکتی۔ اسی صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے 2007ء میں پہلی امن مشقوں کے انعقاد کا سہرا بھی پاک بحریہ کے سر ہے‘ جس میں دنیا کی تمام بڑی بحری افواج کی شمولیت کا سلسلہ تاحال کامیابی اور تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔ یہ مشقیں ہر دو سال بعد منعقد ہوتی ہیں۔ ان مشقوں کی کامیابی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہر بار امن مشقوں میں حصہ لینے والے ممالک کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ رواں برس فروری میں 9ویں کثیر القومی امن مشق‘ Together For Peace کے موٹو کے تحت پاکستان کی امن اور باہمی تعاون پر مبنی سلامتی کیلئے غیر متزلزل حمایت کی عکاس ہے۔ اس میں چین‘ سعودی عرب‘ امریکہ‘ جاپان‘ ترکی‘ روس اور افریقی یونین کے ممالک سمیت 60ممالک شریک ہوئے۔ امن مشق کے ساتھ ساتھ ان ممالک کے بحری سربراہوں اور کوسٹ گارڈز کے مشترکہ امن ڈائیلاگ کے کامیاب انعقاد سے پاک بحریہ نے بلاشبہ تاریخ رقم کی ہے۔ عالمی امن مکالمے کے ذریعے علاقائی سلامتی اور سمندری خطرات سے نمٹنے کیلئے مشترکہ حکمت عملی طے کی گئی۔ اس انٹر نیشنل امن ڈائیلاگ اور Sea Guard exerciseمیں 60ممالک کے تقریباً 120وفود نے اپنے بحری جہازوں‘ سپیشل سروسز گروپ اور مندوبین کے ساتھ حصہ لیا۔ یہ اس خطے کی نمایاں ترین تاریخ ساز عسکری سرگرمی ہے۔ پاکستان نیوی ڈاکیارڈ کے خوبصورت ساحلی علاقے میں نویں کثیر القومی میری ٹائم امن مشق 2025ء میں حصہ لینے والے سبھی ممالک کے جھنڈے بھی لہرائے گئے۔ چیف آف نیول سٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے اس موقع پر شرکا کو خوش آمدید کہا اور اس بات پر روشنی ڈالی کہ 2007ء میں شروع ہونے والی یہ مشق اب ایک باقاعدہ خصوصیت بن چکی ہے‘ جو محفوظ اور سازگار سمندری ماحول کو فروغ دینے کیلئے علاقائی اور غیرعلاقائی بحری افواج کو یکجا کرتی ہے۔ انہوں نے بحیرۂ عرب میں ایک کلیدی شراکت دار کی حیثیت سے پاک بحریہ کے کردار اور علاقائی میری ٹائم سکیورٹی گشت سمیت علاقائی میری ٹائم سکیورٹی کو بڑھانے کیلئے اس کے اقدامات پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سمندر میں امن و استحکام کو فروغ دینے کی کوششوں پر بین الاقوامی برادری کے اعتماد کے اعتراف میں پاک بحریہ نے اس سال امن ڈائیلاگ متعارف کرایا ہے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پاکستان فلیٹ کمانڈر ریئر ایڈمرل عبدالمنیب نے مشترکہ میری ٹائم سکیورٹی اور شرکا کے درمیان باہمی تعاون کو بڑھانے میں امن مشق کی اہمیت پر زور دیا۔
اس عالمی عسکری ایونٹ میں شریک دوسرے ممالک کے سربراہوں نے امن مشقوں کے انعقاد کو سراہتے ہوئے کہا کہ بحری تجارت کو مؤثر اور محفوظ بنانے میں ان مشقوں کا اہم کردار ہے۔ ان مشقوں میں پاک بحریہ کے PNS Moawin سمیت 11ملکوں کے 13وار شپس نے حصہ لیا۔ ان مشقوں کا مقصد عالمی سلامتی کیلئے بحری افواج کے درمیان تعاون میں اضافہ اور ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھانا ہے۔ یہ امن مشقیں دو مراحل میں منعقد ہوئیں‘ Harbor اور Sea۔ Harbor مرحلہ 7تا 9فروری 2025ء کو منعقد ہوا‘ یہ مختلف سرگرمیوں جیسا کہ سیمینارز‘ آپریشنل بحث و مباحثہ‘ عملی مظاہروں اور سپورٹس پر مشتمل تھا ۔ Sea مرحلے کا انعقاد 10اور 11فروری کو ہوا جس میں میری ٹائم سکیورٹی کی مشقوں سمیت سمندی قزاقی و دہشت گردی کے خلاف آپریشنز‘ سرچ اینڈ ریسکیو اور فائرنگ کی مشقیں ہوئیں۔ چیف آف نیول سٹاف نے ان مشقوں میں حصہ لینے والے بنگلہ دیش بحریہ کے جہاز BNS Somudra Joy‘ چین بحریہ کے جہاز PLA (N) GAO YOUHU‘ انڈونیشیا بحریہ کے جہاز KRI Bung Tomo‘ ایران بحریہ کے جہاز IRIS Jamaran‘ جاپان بحریہ کے جہاز JS Murasame‘ ملائیشیا بحریہ کے جہاز KD Terengganu‘ سری لنکا بحریہ کے جہاز SLNS Vijayabahu‘ متحدہ عرب امارات بحریہ کے جہاز Abu Dhabi-class corvette اور امریکہ بحریہ کے جہاز USS Lewis B. Puller کا دورہ بھی کیا۔ امن مشق میں پاک بحریہ کے پُر عزم اور نڈر جوانوں نے اپنی صلاحیتوں کے جوہر بھی دکھائے۔ انسدادِ دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے عملی مظاہرے بھی کیے گئے۔ اس میں ایلیٹ سپیشل سروس گروپ نیوی SSGN اور پاکستان میرین نے مشترکہ طور پر حصہ لیا۔ اس ایونٹ کا سب سے اہم حصہ پاک بحریہ کی Sea Eagles ٹیم کی فری فال جمپنگ کا شاندار مظاہرہ تھا۔
یہ مشق بحیرۂ عرب میں انٹرنیشنل فلیٹ ریویو کے انعقاد کیساتھ اختتام پذیر ہوئی جس میں آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ آرمی چیف نے کہا کہ امن مشق 2025ء ایک ایسا فورم بن کر سامنے آیا ہے جس نے تمام عالمی جغرافیائی طاقتوں کو محفوظ سمندر اور خوشحال مستقبل کے مشترکہ مقصد کے ایک پلیٹ فارم پر یکجا کیا۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پاک بحریہ سفارتکاری کے اصولوں پر عملدرآمد کرتے ہوئے قومی بحری سرحدوں کا دفاع اور میری ٹائم اثاثوں کی حفاظت کی اپنی بنیادی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کے ساتھ ساتھ تمام ممالک کو ساتھ ملا کر بحر ہند اور عالمی پانیوں میں امن کیلئے بھی کوشاں ہے۔ بلاشبہ ہماری خاموش دفاعی قوت‘ بحری حدود اور سمندری اور ساحلی مفادات کی نگہبانی کے ساتھ ساتھ میری ٹائم سیکٹر اور بلیو اکانومی کے فوائد ملک و قوم تک پہنچانے کیلئے بھی پُرعزم ہے۔

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں