جو نامہ بر رہے ہیں، ڈر رہے ہیں

کراچی، شہروں کا شہر! پاکستان کے ماتھے کا جھومر! اُس زمانے میں وحشت کے نشانے پر تھا۔ میّت کو تب کفن میں نہیں، بوری میں ڈالا جاتا تھا۔ ڈرل مشین سے دیوار میں نہیں، زندہ انسانی جسم میں سوراخ کیا جاتا تھا۔ تئیس سالہ شاہد بھی اسی بربریت کی بھینٹ چڑھ گیا۔ اسے بے دردی سے قتل کیا گیا اور لاش دریا میں بہا دی گئی۔ شاہد کا باپ شاعر تھا۔ اس نے معاملہ پروردگار کے سپرد کیا اور آنسو شعروں میں پرو دیے۔ اس شاعر کا نام صابر ظفر ہے۔ بیٹے کی المناک موت پر اس نے جو دردناک شاعری کی اس کے مجموعے کا عنوان 'بے آہٹ چلی آتی ہے موت‘ رکھا۔ یہ اشعار دیکھیے:
وہ مجھے چھوڑ گیا دکھ بھری حیرانی میں/ خاک پر قتل ہوا اور ملا پانی میں
.........
میں تو یہ سوچ بھی نہ سکتا تھا/ تو مری موت پر نہ آئے گا
.........
کسی جگہ کا تعین، میں کرنے والا کون
جہاں بھی تو اسے رکھے تری رضا کے سپرد
سیالکوٹ کی نواحی بستی دولت پور سے تعلق رکھنے والا صابر ظفر بیالیس سال پہلے کراچی آیا تھا۔ سجاد باقر رضوی نے کہا تھا:
جس کیلئے اک عمر کنوئیں جھانکتے گزری/ وہ ماہِ کراچی مہِ کنعاں کی طرح تھا
کراچی کا چاند سمندر سے طلوع ہوتا ہے اور پھر مسافر کو یوں اپنی شعاعوں میں گرفتار کرتا ہے کہ مسافر وہیں کا ہو کر رہ جاتا ہے۔ شاید یہ شعر کسی نے کراچی ہی کو مخاطب کرکے کہا تھا:
ڈوب گئے اس میں کئی پورے چاند درد ترا چاہِ طلسمات تھا
صابر ظفر کو بھی کراچی نے واپس نہ جانے دیا۔ وہ کراچی ہی کا ہو رہا۔
ستّر کی دہائی کے اوائل تھے۔ ایک شعر اکھوے کی طرح پھوٹا اور خوشبو کی طرح ہر سمت پھیل گیا اور پھر کچھ ہی عرصے میں ضرب المثل بن گیا:
گروہِ عاشقاں پکڑا گیا ہے/ جو نامہ بر رہے ہیں، ڈر رہے ہیں
یہ شعر صابر ظفر کا تھا۔ اس کا ایک اور شعر بھی زبان زدِ خاص و عام ہوا:
خزاں کی رت ہے، جنم دن ہے اور دھواں اور پھول
ہوا بکھیر گئی موم بتیاں اور پھول
'ابتدا‘ اس کا اولین مجموعہ کلام تھا۔ یہ محض ابتدا تھی۔ اب تک اس کے چوالیس شعری مجموعے دلدادگاں کے ہاتھوں میں پہنچ چکے ہیں۔ وہ پبلسٹی سے بے نیاز ہے اور پبلک ریلیشننگ میں ٹُھس! ٹیلی ویژن مشاعروں میں بھی کم نظر آتا ہے۔ بہت ہی کم! اور اس میں کیا شک ہے کہ پی ٹی وی کی طرح نجی الیکٹرانک میڈیا بھی مشاعرے برپا کرنے کے حوالے سے میرٹ کی راہ پر نہ چل سکا اور مخصوص مافیاز کے نرغے میں محصور ہو کر رہ گیا۔مگر صابر ظفر جیسے شاعر صرف اپنے لیے لکھتے ہیں اور صرف اپنے پڑھنے والوں کے لیے۔ بقول غالب: نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پروا۔ اس بات پر بہت کم لوگ غور کرتے ہیں کہ شعر اپنا مقام خود بناتا ہے اور جہاں اسے پہنچنا چاہیے، پہنچ کر رہتا ہے۔ اسے کسی بیساکھی کی ضرورت ہوتی ہے نہ سیڑھی کی۔
صابر ظفر کی غزل گوئی کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ کبھی کبھی اس کا پورا مجموعہ کلام ایک ہی غزل اور ایک ہی موضوع پر مشتمل ہوتا ہے۔ 'رانجھا تخت ہزارے کا‘ ایسا ہی مجموعہ ہے۔ بحر بھی یوں لگتا ہے پنجابی ہی سے لیا ہے۔
باپ مرتے ہی اس طرح بھائی آکڑے، اپنی سب زمیں کے کیے حصے بخرے/اور رانجھڑے کو دیے کھیت بنجر، بال آگیا اس طرح شیشے اندر/ ایک عام سی زندگی کٹ رہی تھی، اور عمر بھی رانجھے کی گھَٹ رہی تھی/پاتا کیا کسی غیر میں گرمجوشی، سرد مہری تھی خون کے رشتے اندر/دیکھیں سازشیں ساری ہی بھابیوں کی، لمبی ہو گئی رات بے خوابیوں کی/دیتیں طعنے وہ روز ہی کاہلی کے، کہتیں کوئی بھی گُن نہیں تیرے اندر
صابر ظفر نے کئی تجربے کیے ہیں۔ غزل میں نئی راہیں نکالی ہیں۔ بنے بنائے ہوئے راستوں سے بچ کر چلا ہے۔ اس کا نظریہ یہ ہے کہ پگڈنڈی ہی سہی، اپنی تو ہو! سندھی اور پنجابی کے الفاظ مناسب انداز سے استعمال کرکے اردو کا دامن وسیع کیا یوں کہ اس کی غزل میں غرابت آئی نہ تغزل مجروح ہوا۔ ایک ہی مجموعے میں غزلیں مختلف زمینوں اور مختلف بحور میں بھی کہیں مگر موضوع ایک ہی رکھا۔ یہ ایک مشکل کام تھا مگر اس نے کامیابی سے کیا۔ اوپر جس مجموعے کا ذکر کیا گیا ہے 'بے آہٹ چلی آتی ہے موت‘ اس میں موت ہی کا موضوع تمام غزلوں میں آتا ہے اور مختلف دروازوں سے آتا ہے‘ اس طرح کہ یکسانیت نہیں محسوس ہوتی نہ ہی اکتاہٹ آتی ہے۔ اس کا تازہ ترین مجموعہ 'کھیتوں کی ریکھاؤں میں‘ کے عنوان سے شائع ہوا ہے۔ تمام کی تمام غزلوں میں پنجاب کا دیہی کلچر، کھیتی باڑی کی فضا، فصل پکنے کی خوشبو اور کاٹی جانے کی مصروفیت بھرپور انداز میں نظر آتی ہے۔ اس میں اردو زبان کا بھی کمال ہے کہ نئے الفاظ اپنے اندر جذب کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ذرا لفظیات پر غور کیجیے جو اس مجموعے میں نظر آتی ہیں: جَٹی، کڑاہ، ہالی، مزارع، نہری، کیاری، کٹائی، بیساکھ، ہرا کچور، جھینگر، کماد، گوڈی، سَکھیاں، خوشے اور بہت سے دوسرے الفاظ جو انہی موضوعات سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس مجموعے سے چند اشعار دیکھیے۔ دیہی پنجاب کا دل آپ کو ان میں دھڑکتا سنائی دے گا:
دانوں بھری بوریاں، لے کے ہوئے جو رواں
کوئی کہیں چھِن گئی، کوئی کہیں چھِن گئی
ہو گیا یوں بھی زوال، یوں بھی ہوا اشتمال
دور کی فصلیں تھیں دور، جو تھیں قریں، چھن گئیں
کھیت اور فصل ہی سے یاری کی
عمر بھر ہم نے کاشت کاری کی
اپنی اراضی الگ، اس کی اراضی الگ
نفرتیں پھر کس لیے دل میں بٹھائی گئیں
وساکھی پر اسے دیکھا تھا پہلی بار ظفر
وہ حُسن جس نے مرے دل پہ حکمرانی کی
جو بیج بوئے تھے ان کی نمو کا وقت آیا
بہار آئی ہے پھولوں کی پتیاں لے کر
مونگرے توڑتے جن کو دیکھا
وہ تھیں جَٹیاں مری دیکھی بھالی
میرا سرتاج ہے ہالی میرا
میری سرکار ہے کرماں والی
غربت کے دن ڈھل جائیں گے، دن ڈھل جائیں گے
آ جائے گی، آ جائے گی، خوشحالی کی شام
یہ زندگی زمیں ہے تو لگتا ہے یوں ظفر
ٹھیکے پہ لی ہوئی کوئی کلّر زمین ہے
دخل جو اک دوسرے کے کھیت میں دیں گے
کیسے رہیں گے تعلقات ہمارے
کُچھ ہالیوں کے اپنے مقدر کا حُسن ہے
کچھ کھیتیوں میں سون سکیسر کا حُسن ہے
ذرا بتائیے کیا اس کا ذائقہ ہو گا
اگر ہو عشق کی تھالی میں دُکھ کی ترکاری
لڑکیاں کھیتوں میں تھیں، پیلے دوپٹے لیے
پھولی وہ سرسوں، لگا، بابِ پرستاں کھلا
عجب ہے طرزِ سخن، جو طرح طرح سے ظفر
لکھا ہے تو نے سبھی کھیتیوں کے مضموں کو
کدالیں رکھ چکے کندھوں پہ ہالی
پرندہ شام کا پر اپنے جھاڑے
کسی دل میں یاد کی فصل میں نے جو بوئی ہے

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں