رمضان المبارک اور بہار نے اس سال اکٹھے پاکستان میں قدم رکھا ہے۔ ایک عشرہ گرمیوں کے رمضان گزارنے کے بعد اب رمضان بہار میں آیا ہے۔ اس مہینے کے آتے ہی گویا اندر باہر کا ماحول بدل سا جاتا ہے۔ معمولات‘ اوقاتِ کار اور مصروفیات ہی نہیں فضا بھی بدل جاتی ہے۔ نہ سخت سردی اور نہ گرمی‘ اس موسم میں روزے بھی آسان ہیں اور تراویح وغیرہ بھی۔ اللہ یہ مہینہ پورے عالم اسلام کیلئے مبارک کرے۔ اس ماہ کی عبادتیں قبول کرے اور اس کی برکتیں سب پر فراواں رکھے‘ آمین۔
میں سوچ رہا تھا کہ بہت سال کے بعد رمضان ایسے حالات میں آیا ہے جس میں ملکی اور عالمی حالات قدرے بہتر ہیں۔ اگرچہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں جمعہ کی نماز کے بعد خودکش دھماکے میں مولانا حامد الحق سمیت کئی قیمتی جانوں کی شہادت بڑا نقصان ہے جس نے رمضان کی آمد کے موقع پر ایک سوگ کی کیفیت پیدا کر دی۔ اس حادثے نے مولانا سمیع الحق کی شہادت کی یاد بھی تازہ کر دی۔ سیاست کا یہ ہے کہ پاکستان میں سیاسی حالات بہرحال اب چل پڑے ہیں۔ اپوزیشن موجودہ حکومت کو مانے نہ مانے‘ انتخابات کے نتائج تسلیم کرے نہ کرے‘ حکومت تو بہرحال یہی ہے۔ حقیقی نہیں سمجھتے تو ڈی فیکٹو تو بہرحال ہے۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ معاشی اشاریے بہتر ہوئے ہیں۔ مہنگائی کی شرح کم ہوئی ہے۔ بجلی کے نرخوں میں کمی کی بات کی جا رہی ہے جو آنے والی گرمیوں میں قدرے ٹھنڈی ہوا کا جھونکا سمجھا جائے گا۔ اللہ نے حالیہ مہینوں میں سیلابوں‘ زلزلوں اور دیگر آسمانی آفات سے بھی بچا کے رکھا ہے۔ عالم اسلام پر پچھلا رمضان اس طرح گزرا تھا کہ غزہ کے فلسطینی بموں کی سحری اور گولیوں کے افطار پر مجبور تھے۔ اپنے ملبے پر کھڑے ہو کر روزے رکھنا آسان نہیں جب ہر گھر سے روز میتیں اٹھ رہی ہوں۔ اس استقامت کے لیے لفظ موجود نہیں جو فلسطینیوں نے اس پورے آزمائشی دور میں ثابت کی۔ اس سال بھی ان کا رمضان ملبے کے ڈھیروں کے بیچ گزرے گا لیکن کم ازکم عارضی جنگ بندی ہو چکی‘ جو کسی وقت بھی تبدیل ہو سکتی ہے۔ عالمی برادری میں بھی نسبتاً سکون ہے‘ یوکرین اور روس کی جنگ بندی کے امکانات پیدا ہو رہے ہیں۔ حیرت انگیز طور پر روسی اور امریکی قیادت قریب آ رہی ہے۔ اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کے حالیہ اجلاسوں میں امریکی اور روسی مؤقف یکساں ہیں۔ یہ نتائج یورپ‘ نیٹو ممالک اور یوکرین کو بھونچکا کر دینے والے ہیں۔ دنیا میں اگر کہیں بھونچال دیکھا جاسکتا ہے تو وہ وائٹ ہائوس‘ واشنگٹن ہے جہاں روز امریکی صدر ملاقاتیں کر رہے ہیں اور ہر دن نت نئی صورتحال پیدا ہورہی ہے۔
تازہ ترین صورتحال میں یوکرین کے صدر ولادومیر زیلنسکی‘ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس کے بیچ اوول آفس وائٹ ہائوس میں کیمروں کے سامنے شدید گرما گرمی میں جملوں کا تبادلہ ہے۔ ایک تلخ اور تنائو والے ماحول میں صدر زیلنسکی وائٹ ہائوس سے رخصت ہوئے۔ مشترکہ پریس کانفرنس بھی منسوخ کر دی گئی اور وہ معاہدہ بھی دھرا رہ گیا جو یوکرین کی قیمتی معدنیات میں امریکی شراکت داری کیلئے تیار کیا گیا تھا۔ میں حیرت زدہ ہو کر وہ وڈیو کلپ دیکھ رہا ہوں جس میں ٹرمپ‘ وانس اور زیلنسکی ایک دوسرے کی باتیں کاٹ کر‘ سفارتی ادب آداب کو پس پشت ڈال کر‘ کیمروں کی پروا کیے بغیر جملے ادا کر رہے ہیں۔ میں نے سربراہان کی کسی میٹنگ میں‘ جو کیمروں کے سامنے ہو‘ ایسا منظر کبھی نہیں دیکھا اور یقینا وائٹ ہائوس سمیت دنیا کے صدارتی محلات نے بھی ایسے مناظر کبھی نہیں دیکھے ہوں گے۔ ایک اخبار نے ایک امریکی افسر کے حوالے سے یہ بھی لکھا کہ زیلنسکی کو وائٹ ہائوس سے چلے جانے کا کہا گیا۔
روس یوکرین جنگ میں امریکہ ا ور نیٹو ممالک یوکرین کی ریڑھ کی ہڈی رہے ہیں۔ لیکن اب امریکہ اس حمایت سے دستبردار ہو رہا ہے۔ 46 سالہ ولادومیر زیلنسکی جو اپنے پس منظر کے لحاظ سے کامیڈین ہیں‘ 2019ء سے یوکرین کی صدارت سنبھالے ہوئے ہیں۔ انہوں نے یہاں سے بات شروع کی کہ ہم نے روس سے کئی معاہدے کیے لیکن صدر پوتن ناقابلِ اعتبار ہیں‘ نئے معاہدے کی پاسداری بھی نہیں کریں گے‘ ہم سیز فائر ضرور چاہتے ہیں لیکن سکیورٹی کیلئے گارنٹیاں بھی مانگتے ہیں۔ امریکی قیادت ان گارنٹیوں کیلئے تیار نہیں تھی؛ چنانچہ یہ مکالمہ تلخ تر ہوتا گیا۔ اگر یہ ملاقات بار آور ہوتی تو یوکرین کی معدنیات میں امریکی شراکت داری کا معاہدہ تیار تھا۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ ٹرمپ سمجھتے ہیں کہ امریکہ کو 350 بلین ڈالر یوکرین کو دینے کا کچھ فائدہ نہیں ہوا‘ اس لیے یوکرین کی معدنیات میں امریکی شراکت داری ہو جائے تو امریکہ کو کچھ صلہ مل جائے گا۔ زیلنسکی اسکے عوض گارنٹیاں مانگتے تھے‘ جس کیلئے امریکی تیار نہیں تھے چنانچہ بات ادھوری رہ گئی بلکہ بگڑ گئی۔
امریکی صدر نے بار بار کہا کہ آپ کی پوزیشن سخت خراب ہے‘ فوجیوں کی شدید کمی ہے اور آپ کے جیتنے کے امکانات نہیں ہیں۔ ہمارے بغیر آپ کے پاس کوئی کارڈز نہیں ہیں‘ آپ کو امریکہ کا شکرگزار ہونا چاہیے کہ اس نے آپ کو 350 ارب ڈالر کی امداد دی۔ امریکی نائب صدر اور صدر‘ دونوں نے کہا کہ آپ امریکہ اور امریکی صدر کے ساتھ بے ادبی کا مظاہرہ کر رہے ہیں جو غلط ہے۔ ایک موقع پر زیلنسکی نے امریکی نائب صدر سے کہا کہ آپ اونچا بول کر اپنی بات کر رہے ہیں۔ اس پر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وانس اونچا نہیں بول رہے‘ آپ جنگ بندی نہیں چاہتے‘ آپ لاکھوں لوگوں کی جانوں کو دائو پر لگا رہے ہیں اور ممکنہ تیسری عالمی جنگ پردائو کھیل رہے ہیں۔ اس گرماگرمی کے بعد زیلنسکی کو رخصت ہونے کو کہا گیا یا وہ ازخود رخصت ہو گئے‘ بہرحال وہ زیادہ دیر وائٹ ہائوس میں نہیں رکے۔ بعد کی کئی ٹویٹس میں زیلنسکی نے امریکی عوام‘ کانگریس اور دیگر ممالک کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے یوکرین کی مدد کی لیکن انہوں نے وائٹ ہائوس میٹنگ میں اپنے رویے پر معافی مانگنے سے انکار کر دیا‘ اس اعتراف کے ساتھ کہ یہ میٹنگ دونوں کیلئے اچھی نہیں رہی اور تنہا یوکرین کیلئے روس کو روکنا ممکن نہ ہوگا۔ کچھ دن قبل فرانس کے صدر اور بعد میں برطانوی وزیراعظم نے ٹرمپ سے ملاقات کی تھی اور ان کا مقصد بھی ٹرمپ کو یوکرین کی حمایت سے دستبردار ہونے سے باز رکھنا تھا۔ اب زیلنسکی بھی اسی مقصد سے وائٹ ہائوس پہنچے کہ پوتن کی حمایت سے امریکہ کو باز رکھا جا سکے‘ لیکن یہ تینوں سربراہان اپنے مقصد میں ناکام رہے۔ ٹرمپ کا مؤقف وہی ہے کہ یوکرین روس جنگ میں سب سے زیادہ مالی نقصان امریکہ کا ہوا ہے اور یورپی ممالک اپنے حصے کی رقم بہت کم دے رہے ہیں یا قرض کی صورت میں دے رہے ہیں جو انہیں واپس ملنا ہے۔ فرانس اور برطانیہ نے اس بات کی تردید کی تھی۔ اب یورپی اور نیٹو ممالک کیلئے زیلنسکی ٹرمپ ملاقات ایک بڑے دھچکے کی طرح ہے اور اس پر متعدد قسم کے ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔
مجھے 1990ء میں سوویت روس سے الگ ہونے کے بعد کا یوکرین یاد آتا ہے جس کے پاس جوہری ہتھیار تھے۔ روس کے ایک تہائی جوہری ہتھیار یوکرین میں تھے لیکن دسمبر 1994ء میں امریکہ‘ برطانیہ‘ فرانس‘ چین اور روس کی طرف سے یوکرین کے تحفظ کی یقین دہانیوں کے بعد بڈاپسٹ کے ایک اعلامیے میں یوکرین نے جوہری ہتھیار تلف کرنے کا اعلان کیا اور پھر ان جگہوں کو میوزیم بنا دیا گیا۔ یہ اپنے ہاتھ پائوں خود کاٹ ڈالنے کی بہت بڑ ی غلطی تھی جو اب یوکرین کو بھگتنا پڑ رہی ہے۔ اب 30 سال بعد جب امریکی صدر یوکرین کے صدر سے کہتا ہے کہ آپ کے پاس کوئی کارڈ ہے؟ تو شاید زیلنسکی نے سوچا ہو کہ کارڈ تو بہت تھے لیکن ہم نے خود تلف کر دیے۔ یہ بہت بڑا سبق ہے کہ اپنے بازو خود کاٹ دینے والی قوم کسی اور ملک پر کیسے بھروسا کرسکتی ہے؟