چھوٹی مچھلی کے شکاریوں کیخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ، گہرے سمندر میں ٹرالرز کی فشنگ پر پابندی
فشریز میں چھوٹی مچھلیوں کی خریدو فروخت اور ٹرالرز کے ذریعے مچھلیاں پکڑنے پر پابندی عائد ، مچھلی اور جھینگے کیلئے جال کی حد مقرر ، چھوٹی مچھلیاں پکڑنے اورانہیں پراسیس کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہو گی
چھوٹی مچھلی سے پولٹری فیڈ بنانے والی کمپنیوں کے لائسنس کی منسوخی کا حکم، سندھ حکومت کو کریک ڈاؤن کی ہدایت ،مچھلی کی برآمد بڑھانے کیلئے وفاق و سندھ مل کر کام کرینگے،وزیر جہاز رانی کراچی(بز نس رپورٹر) وفاقی اور سندھ حکومت نے چھوٹی مچھلی کا شکار کرنے والوں کے خلاف مشترکہ طور پر کریک ڈائو ن کا فیصلہ کیا ہے ، چھوٹی مچھلی سے پولٹری فیڈ بنا کر ایکسپورٹ کرنے والی صنعتوں کے لائسنس منسوخ کردیے جائیں گے ، فشریز میں چھوٹی مچھلیوں کی خریدو فروخت اور گہرے پانی میں ٹرالرز کے ذریعے مچھلیاں پکڑنے پر پابندی عائد کردی ہے ، مچھلی کیلئے 55ایم ایم اور جھینگے کے لیے 25ایم ایم کے جال کی حد مقرر کردی ہے ، چھوٹی مچھلیاں پکڑنے ، انہیں پراسیس کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی ۔یہ فیصلے وفاقی وزیر بندرگاہ و جہاز رانی کامران مائیکل کی زیر صدارت پی این ایس سی بلڈنگ میں منعقدہ اجلاس میں کیے گئے ۔ اجلاس میں چیئرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ وائس ایڈمرل شفقت جاوید، صوبائی وزیر لائیو اسٹاک اینڈ فشریز جام خان شورو، چیئرمین پی این ایس سی عارف الٰہی، قائم مقام چیئرمین فشر مین کوآپریٹو سوسائٹی سلطان قمر صدیقی اور دیگر اداروں کے حکام موجود تھے ۔ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر کامران مائیکل نے بتایا کہ اجلاس میں فشریز کے معاملات کی بہتری پر بات ہوئی، مچھلی کی ایکسپورٹ بہتر بنانے اور اس کی پراسیسنگ میں عالمی قوانین پر عمل درآمد کے لیے وفاق و سندھ حکومت مل کر کام کریں گے ، مچھلی کے شکار کے لیے 55ایم ایم اور جھینگے کے شکار کے لیے 25ایم ایم کے جال کی حد مقرر کردی ہے ، اس سے چھوٹے جال پر کارروائی کی جائے گی، فشنگ کے قوانین موجود ہیں ان پر سختی کے ساتھ عمل کرایا جائے گا، سندھ حکومت نے غیرقانونی شکار میں ملوث ماہی گیروں اور ٹرالرز سمیت چھوٹی مچھلی پراسیس کرنے والی کمپنیوں کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی کرادی ہے ، مچھلیوں کی نسل کشی برداشت نہیں کی جائے گی، مچھلیوں کے انڈے پکڑنے والوں کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹی مچھلیوں کے شکار کے نقصانات سے متعلق ماہی گیروں کو آگاہی دی جائے ، سندھ حکومت اس ضمن میں سیمینارز منعقد کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ فشریز سے متعلق اہم امور طے پائے ہیں اور طے کیا گیا ہے کہ ہر ماہ متعلقہ اداروں کا اجلاس منعقد کیا جائے گا جس میں ہر ماہ کیے گئے اقدامات کا جائزہ لیا جائے گا۔ وفاقی وزیر کامران مائیکل نے بتایا کہ گزشتہ سال ایک لاکھ تیمر کے پودے لگائے تھے جبکہ اس سال 3 لاکھ تیمر کے پودے لگائیں گے ، تیمر کاٹنے پر کارروائی ہوگی، اس سال انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او )کا مستقل ممبر بننے کے لیے اپلائی کریں گے ۔صوبائی وزیر فشریز جام خان شورو نے کہا کہ ابراہیم حیدری میں کارخانے اور فیکٹریاں قائم ہیں جو چھوٹی مچھلیوں سے فیڈ بناتی ہیں، ان کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے گا، ہم نے ایسی کمپنیوں کے لائسنس منسوخ کرنے کے لیے وفاق سے درخواست کی تھی، 15 سال سے قوانین موجود ہیں لیکن ان پر عمل نہیں ہورہا، فشریز کی بہتری کے لیے سندھ حکومت بہت سرمایہ کاری کرچکی اب وفاق بھی فشری کی بہتری کے لیے سرمایہ کاری کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ہمارے گرفتار شدہ ماہی گیروں کو رہا نہیں کرتا جب کہ ہم بھارتی ماہی گیروں کو رہا کردیتے ہیں، ہم نے وفاق سے درخواست کی ہے کہ وہ پاکستانی ماہی گیروں کو رہا ئی دلائے ۔ جن دوماہ میں مچھلیوں کے شکار پر پابندی ہوتی ہے ان دونوں ماہ میں ماہی گیروں کو انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے مخصوص رقم دینے کی تجویز وفاق کو پیش کردی ہے ۔