نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- کوروناپھیلاؤروکنےکیلئےکراچی میں مکمل لاک ڈاؤن کاامکان
  • بریکنگ :- پیداواری صنعتی یونٹس کوبندکرنےکی تجویز
  • بریکنگ :- کراچی:مارکیٹیں،ٹرانسپورٹ سروس بھی بندکرنےکی تجویز
  • بریکنگ :- ایس اوپیزپرعملدرآمدکیلئےقانون نافذکرنیوالےاداروں کی مددلی جائےگی
  • بریکنگ :- ٹاسک فورس کوروناپھیلاؤروکنےکیلئےاقدامات کی منظوری دےگی
  • بریکنگ :- کراچی:سندھ حکومت کی سیاسی جماعتوں،تاجرتنظیموں سےمشاورت
  • بریکنگ :- آج کوروناٹاسک فورس کےاجلاس میں پارلیمانی جماعتوں کوشرکت کی دعوت
  • بریکنگ :- تاجروں،صنعتکاروں کےنمائندےبھی اجلاس میں شریک ہوں گے
  • بریکنگ :- اجلاس میں مکمل لاک ڈاؤن،سخت ترین پابندیوں سےمتعلق حتمی فیصلہ ہوگا
Coronavirus Updates

قربانی سے جڑی معیشت کا حجم 400 ارب روپے

قربانی سے جڑی معیشت کا حجم 400 ارب روپے

دنیا اخبار

رواں سال35 لاکھ گائے ،60لاکھ سے زائد بکرے اور بھیڑیں بکنے کا امکان ، پچھلے کی نسبت اس سال عید پر معاشی سرگرمیاں تیز دکھائی دے رہی ہیں ، لیدر صنعت کو لاکھوں کی کھالیں ملیں گی ،سابق صدر ٹینرز ایسویسی ایشن

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان میں قربانی کے لئے جانور خریدنے اور ان کو ذبح کرنے کی تیاریاں عروج پر ہیں۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ خریداری معاشی بحالی کے لئے بہت ضروری ہے کیونکہ قربانی سے جڑی معیشت کا اس سال حجم 400 ارب روپے کے قریب ہے ۔پاکستان میں گزشتہ برس کی نسبت اس سال عید قرباں پر معاشی سرگرمیاں تیز دکھائی دے رہی ہیں۔پاکستان ٹینرز ایسویسی ایشن کے سابق صدر دانش خان نے ڈی ڈبلیو کو بتایا اس سال 35 لاکھ سے زیادہ گائے ،48لاکھ سے زیادہ بکرے اور 12 لاکھ سے زیادہ بھیڑوں کے بکنے کا امکان ہے ۔ لیدر کی صنعت میں معاشی سرگرمی تیز ہوگی، جہاں ہزاروں افراد کا روزگار قربانی کی کھالوں سے وابستہ ہے ۔ان کا مزید کہنا تھا کہ لاہور، کراچی، سیالکوٹ اور ساہیوال کی لیدر صنعت کو لاکھوں کے حساب سے کھالیں ملیں گی اور لیدر کی صعنت میں تیزی آنے سے ہزاروں افراد کو روزگار میسر ہوگا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement