مقامی مینوفیکچرنگ سے گاڑیوں کی مڈل کلاس تک رسائی ممکن

مقامی مینوفیکچرنگ سے گاڑیوں کی مڈل کلاس تک رسائی ممکن

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)آٹو موٹیو انڈسٹری کے ماہرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی لا کر انہیں ملک کے سب سے بڑے طبقے یعنی متوسط طبقے (مڈل کلاس)کی پہنچ میں لاسکتا ہے ،

 بشرطیکہ ملک میں صرف اسمبلنگ کے بجائے آٹو انجن، ٹرانسمیشن اور سسپنشن سسٹم سمیت انجینئرنگ پرزہ جات کی باقاعدہ مقامی سطح پر تیاری کی جائے ۔ آٹو ماہر عثمان انصاری نے کہا کہ انجینئرنگ آئٹمز، پرزہ جات اور پرزوں کی مضبوط اور مؤثر مقامی تیاری گاڑیوں کی قیمتیں کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے ، کیونکہ اس صورت میں ڈالر یا روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ کا مقامی طور پر تیار کی گئی گاڑیوں کی لاگت پر نمایاں اثر نہیں پڑے گا۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ گاڑیاں اسمبل اور تیار کرنے والی کمپنیوں کو سو فیصد لوکلائزیشن کا ہدف حاصل کرنا چاہیے ۔آٹو انڈسٹری سے وابستہ زین شارق نے کہا کہ وہ گاڑیاں جن میں منافع کم لیکن فروخت کا حجم زیادہ ہوتا ہے، وہ شعبہ پاکستان میں بہت کمزور ہے ۔ ایک اوسط پاکستانی کو بہت اعلیٰ معیار کی ٹیکنالوجی کی ضرورت نہیں، اسے صرف اپنے خاندان کے لیے ایک مناسب سواری چاہیے ۔ بدقسمتی سے کمپنیاں بڑی گاڑیوں سے کم اوورہیڈ پر زیادہ منافع کما لیتی ہیں۔ آٹو موبائل ماہر شفیق احمد شیخ کا کہنا تھا کہ ماہرین اور اسٹیک ہولڈرز ہمیشہ یہ تجویز دیتے ہیں کہ پاکستان میں گاڑی کی قیمت کا ایک بڑا حصہ ٹیکسز پر مشتمل ہوتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ تمام کیٹیگریز میں معقول ٹیکس ریلیف دینے سے مزید برانڈز متوجہ ہوں گے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں