سائبر خطرات کے پیش نظر اسٹیٹ بینک کی بڑی پیشرفت
کراچی(بزنس رپورٹر)اسٹیٹ بینک نے ملکی بینکاری نظام کو درپیش بڑھتے سائبر خطرات کے پیش نظر ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے پہلی بار سائبر شیلڈ سائبر ریزیلینس اسٹریٹیجی متعارف کرادی ۔
مرکزی بینک کے مطابق جدید دور میں سائبر حملے زیادہ پیچیدہ، منظم اور نقصان دہ ہو چکے ہیں، اس لیے ایک ایسی جامع حکمت عملی ناگزیر تھی جو پیش بندی، فوری ردعمل اور تیز رفتار بحالی تینوں پہلوؤں کا احاطہ کرے ۔ اس حکمت عملی کے تحت مالیاتی اداروں کو واضح روڈ میپ دیا گیا ہے تاکہ وہ اپنے آئی ٹی سسٹمز، کنٹرولز اور نگرانی کے طریقہ کار کو اپ گریڈ کر سکیں۔ اسٹیٹ بینک نے پانچ بڑے ستون مقرر کیے ہیں جن میں سائبر واقعات کو برداشت کرنے کی صلاحیت بڑھانا، سیکیورٹی سے متعلق گورننس اور جوابدہی کا مؤثر نظام،شعبے کے اندر معلومات کے تبادلے اور تعاون کو فروغ دینا، تربیت یافتہ ماہر افرادی قوت تیار کرنا اور ابھرتے ہوئے خطرات کے مطابق حفاظتی طریقہ کار کو مسلسل بہتر بنانا شامل ہے ۔