نان لسٹڈ کمپنیوں کے فزیکل شیئرز کا خاتمہ، ڈیجیٹل منتقلی لازمی
جعلسازی، چوری، گمشدگی اور ریکارڈ میں ردوبدل جیسے خطرات کا خاتمہ ہوگا ٹرانزیکشنز اب صرف سینٹرل ڈپازٹری سسٹم کے ذریعے ہونگی،ایس ای سی پی
کراچی(بزنس رپورٹر)سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان(ایس ای سی پی )نے اہم ریگولیٹری فیصلہ کرتے ہوئے نان لسٹڈ کمپنیوں کے فزیکل شیئر سرٹیفکیٹس کو سینٹرل ڈپازٹری سسٹم کے تحت الیکٹرانک فارم میں منتقل کرنے کا اعلان کر دیا ۔کمیشن کے مطابق آئندہ نان لسٹڈ کمپنیوں کے شیئرز کی خرید و فروخت یا منتقلی فزیکل فارم میں ممکن نہیں ہوگی اور تمام ٹرانزیکشنز ڈیجیٹل نظام کے ذریعے انجام دی جائیں گی۔ ایس ای سی پی کے فیصلے کے تحت نان لسٹڈ کمپنیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ رائٹس ایشو، بونس شیئرز، بائی بیک یا کسی بھی قسم کی ٹرانسفر سے قبل اپنے فزیکل شیئرز کو لازمی طور پر الیکٹرانک شکل میں تبدیل کریں۔ اس اقدام سے فزیکل شیئرز سے وابستہ جعلسازی، چوری، گمشدگی اور ریکارڈ میں ردوبدل جیسے خطرات کا خاتمہ ہوگا۔حکام کے مطابق الیکٹرانک شیئرز کے نفاذ سے ملکیت کا ریکارڈ محفوظ اور مرکزی نظام میں دستیاب ہوگا جس سے شیئر ہولڈرز اور کمپنیوں کے درمیان تنازعات میں واضح کمی آئے گی۔ ڈیجیٹل نظام کے باعث شیئرز کی منتقلی کا عمل تیز، شفاف اور محفوظ ہوگا جبکہ سیٹلمنٹ کا دورانیہ بھی کم ہو جائے گا۔ایس ای سی پی نے واضح کیا کہ آئندہ تمام شیئر ٹرانزیکشنز سینٹرل ڈپازٹری سسٹم کے ذریعے انجام پائیں گی اور فزیکل سرٹیفکیٹس قابل قبول نہیں ہوں گے ۔مزید برآں الیکٹرانک شیئرز کو بینک قرض کے حصول کے لیے بطور ضمانت بھی استعمال کیا جا سکے گاجس سے کارپوریٹ فنانسنگ میں سہولت پیدا ہوگی ۔