پی بی سی کے وفد کی آئی ایم ایف کے وفد سے ملاقات

پی بی سی کے وفد کی آئی ایم ایف کے وفد سے ملاقات

معیشت کو میکرو اکنامک استحکام سے پائیدار اور برآمدات پرمبنی ترقی کی جانب منتقلی پرگفتگو ٹیکس نظام میں اصلاحات ملاقات کا مرکزی موضوع ، پائیدار معاشی ترقی کیلئے ناگزیر قرار

کراچی (بزنس رپورٹر)پاکستان بزنس کونسل (پی بی سی) کے ایک وفد جس کی قیادت چیئرپرسن ڈاکٹر زیلف منیر کر رہی تھیں، نے دورۂ پاکستان پر آئے ہوئے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے مشن سے ملاقات کی۔ اس مشن کی سربراہی ایوا پیٹرووا، ہیڈ آف مشن ٹو پاکستان اور ماہر بینیچی، ریذیڈنٹ ریپریزنٹیٹو، کر رہے تھے ۔ ملاقات میں پاکستان کی معیشت کو میکرو اکنامک استحکام سے پائیدار اور برآمدات پر مبنی ترقی کی جانب منتقل کرنے پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ موجودہ پروگرام کے تحت افراطِ زر میں کمی اور مالیاتی استحکام میں بہتری کو تسلیم کرتے ہوئے ۔۔

 

 

، پی بی سی کے وفد نے اس امر پر زور دیا کہ استحکام کو اب سرمایہ کاری، پیداواری صلاحیت اور روزگار کے مواقع میں عملی تبدیلی کی صورت اختیار کرنی چاہیے ۔ 10.5 فیصد پالیسی ریٹ اور بنیادی سرپلس کے تناظر میں، گفتگو کا محور ان ساختی اصلاحات پر رہا جو نجی شعبے کے اعتماد کو بحال کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ ٹیکس نظام میں اصلاحات اس ملاقات کا مرکزی موضوع رہیں۔ وفد نے نشاندہی کی کہ موجودہ ٹیکس ڈھانچہ ٹیکس ادا کرنے والے اور دستاویزی کاروباری اداروں پر غیر متناسب بوجھ ڈالتا ہے ۔ آمدن، منافع حصص اور کیپٹل گین پر سپر ٹیکس کا تسلسل، نیز ایڈوانس اور ودہولڈنگ ٹیکس کے وسیع نظام نے کارپوریٹ ٹیکس کی مؤثر شرح کو اس وقت بڑھا دیا ہے ، جب پاکستان کو برآمدات میں اضافے اور صنعتی توسیع کی ضرورت ہے ۔ اجلاس کے دوران پیش کیے گئے اصلاحاتی روڈ میپ کے مطابق، پی بی سی نے سپر ٹیکس کی تمام صورتوں کے خاتمے ، کارپوریٹ ٹیکس کی شرح کو مرحلہ وار کم کر کے 25 فیصد تک لانے ، اور ایڈوانس اور ودہولڈنگ ٹیکس نظام کو معقول بنانے کا مطالبہ کیا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں