سٹاک ایکسچینج:بد ترین مندی 7حدیں گرگئیں،سرمایہ کاروں کو 558 ارب کا نقصان

سٹاک ایکسچینج:بد ترین مندی 7حدیں گرگئیں،سرمایہ کاروں کو 558 ارب کا نقصان

کاروبار کے آغازپر 106پوائنٹس کااضافہ، پھر دن بھر انڈیکس گرین زون میں داخل نہ ہوا،1لاکھ 44ہزار پرآگیا مشرق وسطیٰ جنگ، پٹرولیم قیمتیں،عالمی مارکیٹس میں تنزلی، ریکوڈک منصوبے میں تاخیر، شرح سود میں ممکنہ اضافہ اسباب بنے مالیاتی ادارے متحرک،بلوچپ شیئرز کی خریداری سے قدرے استحکام، انڈیکس 1 لاکھ 46 ہزار 842 پوائنٹس پر بند

کراچی(رپورٹ:محمد حمزہ گیلانی)پاکستان سٹاک ایکسچینج کاروباری ہفتے کے پہلے روز ہی شدید مندی کی لپیٹ میں آگیا، سرمایہ کار پریشانی میں مبتلا ہوکر دن بھر شیئرز فروخت کرتے رہے اور بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس مسلسل گراوٹ کا شکار رہا، سٹاک ایکسچینج میں کاروبارکا آغاز 106 پوائنٹس اضافے سے 1 لاکھ 51 ہزار 813 پوائنٹس کی نفسیاتی سے حد ہوا، اسکے بعد دن بھربینچ مارک کے ایس ای100 انڈیکس گرین زون میں داخل نہیں ہوا، مسلسل ریڈ زون میں ہی رہتے ہوئے ٹریڈ ہوتا رہا، امریکا اور ایران کے مابین کشیدہ صورتحال کا بڑھنا ، خلیجی ریاستوں اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات کا بگڑنا،عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا مسلسل بڑھنا، عالمی اسٹاک مارکیٹس کا تنزلی کا شکار ہونا، پاکستان سٹاک ایکسچینج سے عالمی سرمایہ کاری کا انخلا ہونا، ریکوڈک منصوبے میں تاخیر کی خبریں اور آئندہ شرح سود میں اضافے کے قوی امکانات مقامی سرمایہ کاروں اور بروکیج ہاؤسز کے اوسان خطا کرگئے ، اسی سبب دوران ٹریڈنگ کے ایس ای 100انڈیکس بدترین مندی کا شکار ہوکر پے در پے سات نفسیاتی حدیں 1 لاکھ 51 ہزار، 1 لاکھ 50 ہزار ،1 لاکھ49 ہزار ، 1 لاکھ 48 ہزار ، 1 لاکھ 47 ہزار ، 1 لاکھ 46 ہزاراور 1لاکھ 45 ہزار کی حدوں سے گر کر یومیہ 1 لاکھ 44 ہزار 656 پوائنٹس کی نفسیاتی حدتک ٹریڈ ہوا، یعنی کے ایس ای 100 انڈیکس ایک موقع پر 7 ہزار سے زائد پوائنٹس کم ہوا۔

تاہم نچلی سطحوں پر شیئرز کی قیمتیں آجانے سے مقامی مالیاتی ادارے متحرک ہوئے اور مخصوص بلو چپ کمپنیوں کے شیئرز میں خریداری کرنے لگے جس سے جاری بدترین مندی کی رفتار میں قدرے کمی واقع ہوئی اور کے ایس ای 100 انڈیکس 7 ہزار سے زائد پوائنٹس کی بدترین مندی کو ریکور کرتا ہوا دن بھر چار سے ساڑھے چار ہزار پوائنٹس کی مندی کا شکار رہا تاہم دن بھر دباؤ کی کیفیت میں مبتلا سرمایہ کاروں کو شیئرز ٹریڈنگ میں 558 ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑا، اور مارکیٹ کیپٹلائزیشن16 ہزار 885 ارب روپے سے گھٹ کر 16 ہزار 327 ارب روپے پر آگئی۔ دوسری جانب رول اوور ویک سے بھی انڈیکس کی جاری مندی میں ریکوری سست روی کا شکار رہی، اسی وجہ سے کے ایس ای 100 انڈیکس کی ٹریڈنگ کا اختتام 4 ہزار 864 پوائنٹس مندی سے 1 لاکھ 46 ہزار 842 پوائنٹس کی نفسیاتی حد پرہوا، اسی تناظر میں کے ایس ای 30 انڈیکس 1487 پوائنٹس گھٹ کر44431.41 پوائنٹس،کے ایم آئی 30 انڈیکس7371 پوائنٹس گھٹ کر 212754.02 پوائنٹس اور آل شیئر انڈیکس 2983.36 پوائنٹس کم ہوکر 87967.58 پوائنٹس کی نفسیاتی حد پر بند ہوا۔ دوسری جانب سٹاک ایکسچینج میں 567 کمپنیوں میں کاروبار ریکارڈ کیا گیا۔

جن میں سے صرف 51 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ ، 379 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں کمی اور 137 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں استحکام ریکارڈ کیا گیا۔ سٹاک ایکسچینج میں 29 ارب 60 کروڑ 31 لاکھ 19 ہزار 959 روپے مالیت کے صرف 52 کروڑ 91 لاکھ 30 ہزار 204 شیئرز کا لین دین ریکارڈ کیا گیا، اسکے علاوہ دن بھر سٹاک ایکسچینج میں آئل اینڈ گیس ، فارما ، آٹو ، انرجی اور بینکنگ شعبوں کے شیئرز میں تنزلی رہی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں