اسٹاک ایکسچینج:گزشتہ ہفتے منفی رجحان، 3267پوائنٹس کی کمی
عالمی ومقامی معاشی خدشات پرسرمایہ کار محتاط ، مارکیٹ کیپٹلائزیشن 372ارب گرگئی ایران، امریکہ کشیدگی، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ، مہنگائی مارکیٹ پراثر انداز
کراچی(کامرس رپورٹر)پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں گزشتہ ہفتے مندی کا رجحان غالب رہا، جہاں عالمی اور مقامی معاشی خدشات کے باعث سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کیے رہے امریکا ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ، اور ملک میں مہنگائی کے دباؤ نے مارکیٹ کی سمت کو منفی رکھا۔ ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق کے ایس ای100انڈیکس میں مجموعی طور پر 3,267 پوائنٹس کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ ماہرین کے مطابق ملک میں بڑھتی مہنگائی کے باعث اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود میں ممکنہ اضافے کے خدشات نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا، اس کے ساتھ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے نے پیداواری لاگت بڑھانے کے خدشات کو جنم دیا، جس سے سرمایہ کاری مزید دباؤ کا شکار رہی، کاروباری حجم کے لحاظ سے ایک ہفتے کے دوران 6 ارب شیئرز کا لین دین ہوا، جن کی مالیت 228ارب روپے رہی۔ تاہم مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں 372 ارب روپے کی نمایاں کمی دیکھی گئی، جس کے بعد مجموعی مالیت 18 ہزار 877 ارب روپے تک محدود ہوگئی اسٹاک سرمایہ کاری کے رجحانات کا جائزہ لیا جائے تو انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے 14.6 ملین ڈالر، غیر ملکی کمپنیوں کی جانب سے 12.5 ملین ڈالر جبکہ انشورنس سیکٹر کی جانب سے 11.9 ملین ڈالر کی سرگرمیاں ریکارڈ کی گئیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق آئندہ ہفتوں مارکیٹ کی سمت کا انحصار عالمی جغرافیائی صورتحال، تیل قیمتوں اور اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی پر ہوگا۔