بحری اصلاحات کے مثبت نتائج، بندرگاہوں کی کارکردگی نمایاں بہتر

بحری اصلاحات کے مثبت نتائج، بندرگاہوں کی کارکردگی نمایاں بہتر

سنگل ونڈو، متعلقہ اداروں کے انضمام سے کسٹمز کلیئرنس کے نظام میں بہتری لائی گئی بندرگاہیں علاقائی ٹرانس شپمنٹ حب بنانے کی طرف پیشرفت،کسٹمز کلیئرنس تیز کردی

اسلام آباد (بزنس ڈیسک) وزیراعظم کی ٹاسک فورس برائے بحری اصلاحات کے تحت نافذ اقدامات سے ملکی بندرگاہوں کی آپریشنل کارکردگی میں بہتری نمایاں ہونا شروع ہوگئی۔ حکام کے مطابق بندرگاہوں کو جدید خطوط پر استوار، تجارتی سرگرمیوں کو تیز کرنے اور پاکستان کو علاقائی ٹرانس شپمنٹ مرکز بنانے کے لیے مختلف اصلاحات پر مؤثر عمل درآمد جاری ہے ۔سرکاری ذرائع کے مطابق ٹاسک فورس میں شامل مختلف اداروں، جن میں نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن (این ایل سی) بھی شامل ہے ، کی مشترکہ کاوشوں سے بندرگاہی آپریشنز کو زیادہ مؤثر بنایا گیا۔ پاکستان سنگل ونڈو اور متعلقہ اداروں کے انضمام کے ذریعے کسٹمز کلیئرنس کے نظام کو بہتر بنایا گیا، جبکہ وی باک (WeBOC) سسٹم کی اپ گریڈیشن اور پورٹ کمیونٹی سسٹم کے نفاذ سے کلیئرنس کے عمل میں نمایاں تیزی آئی ہے ۔ذرائع کے مطابق جہاز کی آمد سے قبل گڈز ڈکلریشن جمع کرانے کا نیا نظام بھی متعارف کرایا گیا، جس سے درآمدی و برآمدی عمل مزید تیز اور شفاف ہونے کی توقع ہے ۔ اسی طرح قومی بندرگاہوں میں بہتر ہم آہنگی، یکساں ٹیرف، مختلف اقسام کے کارگو کے لیے مخصوص بندرگاہوں کے تعین، ریلوے نیٹ ورک، ٹریک اینڈ ٹریس اور بانڈڈ ٹرانسپورٹ سسٹم کو مضبوط بنانے کے اقدامات پر بھی پیشرفت جاری ہے ۔ حکام کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹلائزیشن، آٹومیشن اور مؤثر اسپیس مینجمنٹ کے باعث بندرگاہوں پر رش میں نمایاں کمی آئی ہے ، جبکہ ٹرانس شپمنٹ سے متعلق نئے ضوابط اور سرمایہ کار دوست پالیسیوں کے نفاذ سے پاکستان کی علاقائی تجارتی مرکز بننے کی صلاحیت مزید مضبوط ہوئی۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں