انتقام ہر صورت لیا جائیگا : مجتبیٰ خامنہ ای مجھے قتل کرنیکی دھمکی پر عمل ہوا تو ایران کو مکمل نیست و نابود کر دیا جائیگا : ٹرمپ، امریکا، ایران ایک دوسرے پر گرج پڑے

انتقام ہر صورت لیا جائیگا : مجتبیٰ خامنہ ای مجھے قتل کرنیکی دھمکی پر عمل ہوا تو ایران کو مکمل نیست و نابود کر دیا جائیگا : ٹرمپ، امریکا، ایران ایک دوسرے پر گرج پڑے

امریکا نے ایران سے آبنائے ہرمز کھلی رکھنے پر عوامی طور پر ضمانت مانگ لی،عراقچی کا دورہ مسقط،عمانی وزیرخارجہ سے بحری جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کے انتظامات پر بات چیت قطری وفد مذاکرات کے بعد ایران سے واپس روانہ، سعودی ولی عہد کا امریکی صدر سے رابطہ، تہران پر نئی پابندیاں، ایرانی ساحلوں کے قریب 2امریکی طیارہ بردار جہاز دوبارہ تعینات

تہران، واشنگٹن(نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)ایران کے سپریم لیڈر نے ہفتے کے روز اپنے والد اور پیشرو کی شہادت کا بدلہ لینے کا پختہ عزم ظاہر کیا ہے ۔رواں ہفتے فائرنگ کے تبادلے کے بعد ایک دوسرے پر گرجتے ہوئے دونوں ممالک کی جانب سے بیانات میں سخت ترین الفاظ کا استعمال کیا جا رہا ہے ، جس کی وجہ سے فروری کے آخر میں بڑے پیمانے پر ہونے والے امریکی و اسرائیلی حملوں کے بعد جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والا عبوری سفارتی معاہدہ خطرے میں پڑ گیا ہے ۔ ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے ایک تحریری پیغام میں کہا انتقام ہماری قوم کی خواہش ہے اور یہ ہر صورت لیا جائے گا۔ اپنے والد کی تدفین کے بعد جاری کیے گئے پہلے پیغام میں انہوں نے مزید لکھا: اس معاملے کا انحصار نہ تو میری ذاتی زندگی پر ہے اور نہ ہی دیگر حکام پر۔ ہم موجود ہوں یا نہ ہوں، یہ (انتقام) ہو کر رہے گا۔

انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران نے ان افراد کی ایک فہرست تیار کر لی ہے جنہیں نشانہ بنایا جائے گا۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متنبہ کیا ہے کہ اگر ایران نے موجودہ امریکی صدر کو قتل کرنے کی کوشش کی یا وہ اس میں کامیاب رہا، تو ریاستہائے متحدہ امریکا ایران کو مکمل طور پر تباہ کر دے گا۔صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری ایک بیان میں لکھا:اگر ایرانی حکومت نے دنیا کے کسی بھی کونے سے ، امریکا کے موجودہ صدرجو کہ اس معاملے میں، میں خود ہوں!کو قتل کرنے یا قتل کرنے کی کوشش کی دھمکی پر عمل کیا، تو اسلامی جمہوریہ ایران پر داغنے کیلئے 1000 میزائل تیار اور ہدف پر مرکوز ہیں، جبکہ اس کے فوری بعد مزید ہزاروں میزائل فائر کیے جائیں گے ۔انہوں نے مزید کہااحکامات پہلے ہی جاری کیے جا چکے ہیں اور امریکی فوج ایک سال کی مدت کے لیے ، جس میں توسیع کی جا سکتی ہے ، ایران کے تمام علاقوں کو مکمل طور پر نیست و نابود اور تباہ کرنے کے لیے تیار، رضامند اور اہل ہے۔

امریکا کے ساتھ مذاکرات میں ایران کے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے سخت موقف اپناتے ہوئے کہا:جنگ کا خاتمہ دنیا کے تمام ممالک کی ترجیح ہے ، لیکن سب کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہ تصادم ایران کے ہتھیار ڈالنے پر کبھی ختم نہیں ہوگا۔ ایرانی عوام اپنے دفاع کے لیے مکمل تیار ہیں۔سفارتی محاذ پر ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اصرار کیا کہ تہران گزشتہ ماہ دستخط کیے گئے مفاہمت نامے کے تحت اپنے وعدوں پر قائم ہے ۔ تاہم سوئٹزرلینڈ اور قطر میں ہونے والے مذاکرات کے باوجود حتمی معاہدے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ 'آبنائے ہرمز' کا مستقبل ہے ، جسے ایران نے جنگ کے دوران تجارتی جہاز رانی کے لیے بند کر دیا تھا۔ایران اس گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں پر کنٹرول برقرار رکھنے اور فیس وصول کرنے پر اصرار کر رہا ہے ، جسے واشنگٹن نے مسترد کر دیا ہے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی صدر ٹرمپ کے گزشتہ روز کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا تہران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کی کوئی درخواست نہیں کی، تاہم اس نے ایک علاقائی ثالث کی جانب سے ایران کا دورہ کرنے اور تازہ ترین پیش رفت پر بات چیت کرنے کی درخواست کو قبول کیا ہے ،یہ دورہ مشہد میں ہوا اور ہم نے قطری فریق کے سامنے اپنے خیالات اور موقف کا اظہار کیا۔اطلاعات کے مطابق قطر کا ایک وفد تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے سلسلے میں گزشتہ روز ایران میں مذاکرات مکمل کر کے واپس روانہ ہو گیا ہے جبکہ ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی عمانی حکام سے مذاکرات کیلئے اعلیٰ سطح سیاسی اور قانونی وفد کے ہمراہ مسقط پہنچ گئے جہاں انہوں نے اپنے عمانی ہم منصب سید بدر البوسعیدی سے ملاقات کی۔دونوں وزرائے خارجہ نے آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی محفوظ آمد و رفت یقینی بنانے کے لیے مؤثر طریقئہ کار وضع کرنے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ اقدامات اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (اسلام آباد میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ) کے آرٹیکل 5 کے مطابق ہوں گے ۔اس دوران واشنگٹن ایران سے یہ مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ عوامی طور پر اس بات کی ضمانت دے کہ آبنائے ہرمز سے آزادانہ اور محفوظ بحری آمد و رفت یقینی بنائی جائے گی۔واشنگٹن نے علاقائی ثالثوں کے ذریعے یہ پیغام براہِ راست تہران تک پہنچایا ہے ۔جبکہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان علاقائی پیش رفت پر تبادلہ خیال ہوا ہے ،سعودی ولی عہد نے خطے میں بحری سرگرمیوں کے تحفظ پر خصوصی طور پر زور دیا۔ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے ابھی صرف 21 یا 22 دن ہی گزرے ہیں اور امریکا نے اس عرصے کے دوران مسلسل اس کی مختلف شقوں کی خلاف ورزی کی ہے ۔

وزارت خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ بدھ اور جمعرات کے واقعات اس یادداشت کی پہلی اور دوسری شقوں کی واضح خلاف ورزی تھے ، اور ایرانی تیل کی فروخت کے لائسنس کی منسوخی نے بھی اس کی ایک اور شق کی سنگین خلاف ورزی کی۔ان کے مطابق، امریکا کی جانب سے نئی پابندیاں عائد کرنا اس مفاہمت کی یادداشت کی شق نمبر نو کے منافی ہے ۔ترجمان ایرانی وزارتِ صحت حسین کرمان پور کے مطابق 8اور 9 جولائی کو امریکی افواج نے ملک کے 6 شہروں کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 17 افراد شہید اور 115 زخمی ہوئے ،شہدا میں 1 اور زخمیوں میں 2 خواتین بھی شامل ہیں۔

ادھر امریکا نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اورپاسداران انقلاب کے مبینہ مالی معاون علی انصاری سمیت 13 افراد اور مختلف اداروں کو بلیک لسٹ کر دیا،جن میں ایران کے 3 ایکسچینج ہا ئوسز اور متعدد فرنٹ کمپنیاں بھی شامل ہیں۔امریکی اخبار نیو یارک پوسٹ کے مطابق خطے میں ایک بار پھر کشیدگی بڑھنے کے ساتھ ہی امریکی بحریہ نے ایران کے قریب اپنے 2 طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن اور یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش تعینات کر دئیے ہیں،امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام)نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی بحریہ کے 20 سے زائد جنگی جہاز تعینات کر رکھے ہیں، جب سینٹ کام سے پوچھا گیا کہ آیا یہ تعیناتی ایران کی معیشت کو ماضی میں نقصان پہنچانے والی بحری ناکہ بندی دوبارہ شروع کرنے سے متعلق ہے ؟ تو اس نے آپریشنل معاملات پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا، تاہم دونوں طیارہ بردار بحری جہاز ایران کے میزائلوں کی ممکنہ مار کی حدود میں دیکھے گئے ، جس کے باعث ان کے لیے خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں