گڈز ٹرانسپورٹ ہڑتال نے برآمدی شعبوں کا بھٹہ بٹھا دیا

گڈز ٹرانسپورٹ ہڑتال نے برآمدی شعبوں کا بھٹہ بٹھا دیا

450ارب روپے کا نقصان، حکومت لاجسٹک نظام یقینی بنائے ، ایسوسی ایشنز

کراچی (بزنس ڈیسک)گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال نے برآمدی شعبوں کا بھٹہ بٹھا دیا، اب تک 450 ارب روپے کے نقصان کا تخمینہ لگایا گیا ہے ۔ ویلیوایڈڈ ٹیکسٹائل، نٹ ویئر ریڈی میڈ ولیدر گارمنٹس، ٹاول سیکٹر سمیت دیگر برآمد کنندہ شعبوں نے 9روزہ ہڑتال کے بعد سی فریٹ چارجز میں غیر معمولی اضافے اور بحری جہازوں میں کنسائنمنٹس کیلئے مطلوبہ اسپیس نہ ملنے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے ۔برآمدی ایسوسی ایشنز کے چیف کوآرڈی نیٹر محمد جاوید بِلوانی، پی ایچ ایم اے کے سینٹرل چیئرمین محمد بابر خان، ٹی ایم اے کے اطہر باڑی ودیگر نے کہا ہے کہ طویل تعطل کے باعث برآمدی کارگو کی نقل و حرکت تقریباً مکمل رک گئی۔ انہوں نے کہا کہ ہڑتال کے بعد بھاری فریٹ اخراجات کے باعث برآمدات میں بڑے پیمانے پر نقصان کا خدشہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو خاموش تماشائی نہیں بننا چاہیے کیونکہ برآمد کنندگان کو بھاری نقصانات کا سامنا کرنے سے ملک قیمتی زرمبادلہ سے محروم ہوا ہے ۔ہڑتال کے باعث برآمدی کارگو کی نقل و حمل میں خلل سے کنٹینرز مقررہ جہازوں تک نہیں پہنچ پائے ، شپنگ اسپیس ضائع ہوئی جس کے بعد برآمد کنندگان کو محدود جہازوں کی جگہ کے حصول کیلئے کہیں زیادہ فریٹ نرخوں پر مقابلہ کرنا پڑرہا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ہڑتال کے دوران متعدد کنٹینرز فیکٹریوں اور گوداموں میں پھنسے رہے جاوید بِلوانی نے کہا کہ یہ اضافہ پاکستانی برآمد کنندگان کے لیے قطعا ناقابلِ برداشت ہے ۔ حکومت کو ایک قابلِ اعتماد، بلاتعطل اور بین الاقوامی سطح پر مسابقتی برآمدی لاجسٹکس نظام بھی یقینی بنانا ہوگا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...