ٹرمپ کو عدالت سے ایک اور دھچکا، پاکستان سمیت 75 ممالک پر عائد امیگرنٹ ویزا پابندی ختم
پالیسی قانون کے منافی ،امریکی وزیر خارجہ نے قانونی اختیارات سے تجاوز کیا،قونصلر افسروں کو جائے پیدائش کی بنیاد پر امیگرنٹ ویزا مسترد کرنیکا حکم دینا غلط تھا :عدالت قومیت کی بنیاد پرمسترد ویزوں کے تمام فیصلے کالعدم ،دیگر قانونی وجوہات کی بنیاد پر مسترد درخواستیں برقرار،ٹرمپ انتظامیہ اپیل کرسکتی ، فریقین کو 11 ستمبر تک مہلت
نیو یارک(نیوز ایجنسیاں)ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے پاکستان سمیت 75 ممالک کے تارکین وطن کیلئے ویزوں پر عائد پابندی کو جمعہ کے روز ایک امریکی وفاقی جج نے کالعدم قرار دے دیا،سابق صدر جو بائیڈن کی مقرر کردہ جج جینیٹ ورگاس نے فریقین کو 11 ستمبر تک مہلت دی ہے کہ وہ مقدمے کے باقی معاملات کو حل کرنے کے لیے اپنی تجاویز پیش کریں۔ٹرمپ انتظامیہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کرسکتی ہے ۔ نیویارک کی ڈسٹرکٹ جج نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ یہ پالیسی قانون کے منافی ہے اور وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اسے نافذ کرکے اپنے قانونی اختیارات سے تجاوز کیا۔جنوری میں امریکی محکمہ خارجہ نے دنیا کے تقریباً 40 فیصد ممالک کے شہریوں کے لیے امیگرنٹ ویزوں کا اجرا روک دیا تھا۔ ان ممالک میں افغانستان، البانیہ، الجزائر، انٹیگوا اور باربوڈا، آرمینیا، آذربائیجان، بہاماس، بنگلہ دیش، بار باڈوس، بیلاروس، بیلیز، بھوٹان، بوسنیا اور ہرزیگووینا، برازیل، برما، کمبوڈیا، کیمرون، کیپ وردے ، کولمبیا، کوٹ ڈی آئیوری، کیوبا، جمہوریہ کانگو، ڈومینیکا، مصر، اریٹیریا، ایتھوپیا، فجی، گیمبیا، جارجیا، گھانا، گریناڈا، گوئٹے مالا، گنی، ہیٹی، ایران، عراق، جمیکا، اردن، قازقستان، کوسوو، کویت، کرغیزستان، لاؤس، لبنان، لائبیریا، لیبیا، مالدووا، منگولیا، مونٹی نیگرو، مراکش، نیپال، نکاراگوا، نائجیریا، شمالی مقدونیہ، پاکستان، کانگو، روس، روانڈا، سینٹ کٹس اینڈ نیوس، سینٹ لوشیا، سینٹ ونسنٹ اینڈ دی گریناڈائنز، سینیگال، سیرا لیون، صومالیہ، جنوبی سوڈان، سوڈان، شام، تنزانیہ، تھائی لینڈ، ٹوگو، تیونس، یوگنڈا، یوراگوئے، ازبکستان اور یمن شامل تھے۔
محکمہ خارجہ کا کہنا تھا کہ اس اقدام کا مقصد ایسے افراد کو امریکا میں داخل ہونے سے روکنا ہے جو وہاں پہنچ کر سرکاری امداد اور فلاحی سہولیات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ وفاقی ضلعی عدالت کی جج جینیٹ ورگاس نے اس پالیسی کے لیے محکمہ خارجہ کی پیش کردہ وجہ پر اعتراض کیا اور ایسے تمام ویزا مسترد کیے جانے کے احکامات ختم کرنے کا فیصلہ دیا جو صرف اسی پالیسی کی بنیاد پر کیے گئے تھے ۔ یہ فیصلہ ٹرمپ انتظامیہ کی سخت گیر امیگریشن پالیسی کے لیے ایک اور بڑا دھچکا ہے ۔امریکی قانون کے تحت کسی تارک وطن کو اس بنیاد پر ویزا دینے سے انکار کیا جاسکتا ہے کہ وہ مستقبل میں حکومت پر بوجھ بن سکتا ہے ، تاہم اس کے لیے قونصلر افسر کو درخواست گزار کی مالی حالت، عمر، صحت، مہارت اور خاندانی حالات سمیت مختلف عوامل کا جائزہ لینا ضروری ہے ۔جج ورگاس نے قرار دیا کہ عملی طور پر امریکی حکام کو ایسے درخواست گزاروں کے ویزے بھی صرف ان کے ملکِ پیدائش کی بنیاد پر مسترد کرنے کا حکم دیا گیا تھا جو اپنے اخراجات خود برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے ۔اس ویزا پابندی کے باعث امریکا میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ رہنے یا ملازمت اختیار کرنے کے خواہش مند افراد کے مستقل سکونت کے ویزوں کی کارروائی رک گئی تھی۔ تاہم سیاحتی یا طلبا کے ویزوں جیسے غیر تارک وطن ویزے اس پابندی میں شامل نہیں تھے۔
عدالتی ریکارڈ کا حصہ بننے والی ایک ہدایت میں وزیر خارجہ مارکو روبیو نے تمام امریکی سفارتی اور قونصلر دفاتر کو درخواست گزاروں کے ویزے مسترد کرنے کا حکم دیا تھا، حتیٰ کہ اس صورت میں بھی جب درخواست گزار اضافی شواہد پیش کرکے یہ ثابت کردے کہ وہ حکومت پر بوجھ بننے کے خدشے پر ویزا مسترد کیے جانے کی شرط پر پورا نہیں اترتا۔جج ورگاس نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ نتیجہ پہلے ہی طے کردیا گیا تھا اور ویزا مسترد ہونا تھا۔جج کے مطابق یہ پالیسی 1965 کے اس قانون سے متصادم ہے جو ویزوں کے اجرا میں قومیت کی بنیاد پر امتیازی سلوک سے روکتا ہے ۔ اس کے علاوہ ایک اور قانونی شق بھی وزیر خارجہ کو قونصلر افسران کے انفرادی مقدمات میں فیصلے کے طریقہ کار پر اختیار دینے سے روکتی ہے ۔تاہم وہ ویزا درخواستیں جنہیں دیگر قانونی وجوہات کی بنیاد پر مسترد کیا گیا تھا، برقرار رہیں گی، چاہے متعلقہ افسر نے ویزا مسترد کرتے وقت مذکورہ پابندی کا حوالہ دیا ہو۔ اس لیے یہ واضح نہیں کہ عدالت کے فیصلے کے نتیجے میں کتنے ویزے دوبارہ زیر غور آئیں گے ۔75 ممالک میں زیادہ تر غیر یورپی ممالک شامل ہیں، جن کا تعلق کیریبین، سب صحارا افریقا، بلقان، مشرق وسطیٰ، وسطی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا سے ہے۔
ان میں امریکا کے کئی شراکت دار ممالک بھی شامل ہیں، جن میں اردن، مصر اور جارجیا نمایاں ہیں۔امریکی محکمہ خارجہ نے ان ممالک کی فہرست اقتصادی مشیروں کی کونسل کے اعداد و شمار کی بنیاد پر تیار کی تھی۔ ان ممالک کو ہدف بنایا گیا جہاں 30 فیصد سے زیادہ تارکین وطن کے گھرانے کسی نہ کسی شکل میں سرکاری امداد حاصل کر رہے تھے ۔مقدمے میں چھ امریکی شہری بھی درخواست گزاروں میں شامل تھے ، جنہوں نے اپنے غیر ملکی رشتہ داروں کے لیے خاندانی بنیاد پر ویزا درخواستیں دی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پابندی کے باعث گھانا، جمیکا، گوئٹے مالا اور ایتھوپیا میں موجود ان کے رشتہ دار امریکی ویزے حاصل نہیں کرسکے ۔پانچ کولمبیائی شہری بھی مقدمے کا حصہ تھے جنہوں نے ملازمت کی بنیاد پر ویزوں کے لیے درخواستیں دی تھیں۔ ان میں سے ایک کو ویزا مسترد کیے جانے کا نوٹس بھی ملا تھا جس میں اسی حکومتی پالیسی کا حوالہ دیا گیا تھا۔
تاہم ٹرمپ انتظامیہ کو ایک محدود معاملے میں عدالت سے کامیابی بھی ملی۔ جج نے قرار دیا کہ مذکورہ پالیسی ایسی باقاعدہ قانونی ضابطہ بندی نہیں تھی جسے نافذ کرنے سے پہلے عوامی رائے کے لیے پیش کرنا ضروری ہوتا۔مقدمے میں ٹرمپ انتظامیہ کے وکلا نے 2018 کے امریکی سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کا حوالہ دیا، جس میں ٹرمپ کی پہلی صدارتی مدت کے دوران عائد سفری پابندی کے تیسرے مرحلے کو برقرار رکھا گیا تھا۔ اس پابندی کے تحت متعدد ممالک، جن میں اکثریت مسلم ممالک کی تھی، کے شہریوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔تاہم جج ورگاس نے کہا کہ اس مقدمے اور موجودہ ویزا پابندی میں بنیادی فرق ہے ۔ 2018 کا مقدمہ صدر کے اس اختیار سے متعلق تھا کہ وہ یہ فیصلہ کرسکتے ہیں کہ کون امریکا میں داخل ہوسکتا ہے ، جبکہ موجودہ مقدمہ اس سوال سے متعلق ہے کہ کسی شخص کو ویزا جاری ہی کیا جاسکتا ہے یا نہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments