ٹرمپ کاپھر آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کا اعلان
ایران میں پیسہ ختم،تنخواہیں ادا نہیں کر رہا:ٹرمپ ، حکمت عملی تبدیل :ایرانی فوج
جنوبی کیرولائنا ،تہران (نیوز ایجنسیاں )امریکی صدر ٹرمپ نے ریاست جنوبی کیرولائنا میں انتخابی ریلی کے دوران ایک بار پھر ایران اور آبنائے ہرمز کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ میں اب آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دے رہا ہوں۔ ٹرمپ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران کو کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنا چاہیے اور خبردار کیا کہ ایسا ہونے کی صورت میں بہت برے نتائج سامنے آئیں گے ۔ٹرمپ کے یہ نئے بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا نے حالیہ دنوں میں ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھا دیا ہے ۔قبل ازیں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز سے متعلق پورے خطے پر مکمل کنٹرول کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کے زمینی علاقوں پر بھی امریکا کا کنٹرول ہے ۔انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف اقتصادی جنگ سے امریکی فوجی آپشنز محدود نہیں ہوئے ، ایران کے خلاف امریکا کے فوجی آپشنز اب بھی موجود ہیں۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران میں مہنگائی ریکارڈ سطح پر ہے ، ایران کے پاس پیسہ نہیں، بحریہ اور فضائیہ نہیں، جبکہ وہ اپنے فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کو بھی تنخواہیں ادا نہیں کر رہا، ایران میں افراطِ زر 350 فیصد تک پہنچ چکا ہے ، اب ہم صرف یہ دیکھیں گے کہ کیا ہوتا ہے۔
امریکی صدر نے آبنائے ہرمز کی ناکا بندی کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ امریکا کو اس پورے خطے پر مکمل کنٹرول حاصل ہے ، جس میں آبنائے ہرمز کے ساتھ ساتھ اس سے متصل زمینی علاقے بھی شامل ہیں۔ ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمینیا نے کہا ہے کہ ملک کی فوجی حکمتِ عملی دفاعی سے جارحانہ انداز میں تبدیل ہو گئی ہے اور حالیہ جنگ کے دوران اس تبدیلی کا اظہار تیز اور وسیع ردِعمل اور پیشگی کارروائیوں کی صورت میں ہوا۔محمد اکرمینیا نے ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کو ایک انٹرویو میں کہا کہ اس جنگ کے دوران اردن میں امریکی اڈے پر حملے کے ایک موقع پر ہم نے دراصل پیشگی کارروائی کی حکمتِ عملی کا مظاہرہ کیا، دشمن کے جنگ میں داخل ہونے سے پہلے ہی ہم نے اردن میں اس کے اڈے کو نشانہ بنایا۔رواں سال جولائی میں 17 جولائی کو اردن میں ایک امریکی اڈے پر ایرانی بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں میں 3 امریکی فوجی ہلاک ہوئے تھے ۔ایرانی فوجی ترجمان نے مزید کہا کہ یہ جارحانہ فوجی نظرئیے کا ایک پہلو ہے ، تاہم اس کے دیگر پہلو بھی ہیں، ان میں یہ شامل ہے کہ جارحیت کی کسی بھی کارروائی کا فوری طور پر جواب دیا جائے گا اور یہ جواب یقینی طور پر جارحیت سے زیادہ وسیع ہو سکتا ہے ۔ترجمان وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا کہ واشنگٹن اپنی مرضی دوسروں پر مسلط کر رہا ہے ، کسی ریاست کو بینکوں یا کمپنیوں پر دباؤ ڈالنے کا حق نہیں۔
بینکوں اورکمپنیوں کو جائز تجارتی لین دین سے نہیں روکا جا سکتا، امریکی اقدامات محض اقتصادی جنگ کا تسلسل نہیں بلکہ عالمی تجارت میں مداخلت کے مترادف ہیں۔ نئی امریکی پابندیاں عالمی قوانین اور ریاستی خودمختاری کی خلاف ورزی ہیں، امریکی پابندیاں ایران کے خلاف غیر قانونی معاشی جنگ ہیں، امریکا خودمختار ریاستوں پر بالادستی کا دعویٰ کرنا چاہتا ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کسی آزاد ملک کو کسی دوسرے ملک سے قانونی تجارت ختم کرنے پر مجبور نہیں کرسکتا، امریکی اقدامات اقوام متحدہ کے چارٹر کی بھی خلاف ورزی ہے ، کسی خودمختار ریاست کو اپنی جائز پالیسی تبدیل کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکی دباؤ قبول کرنے سے خودمختاری ایک غیر ملکی اجازت نامے کی محتاج بن جائے گی، امریکی پالیسیاں اقوام متحدہ کے نظام کی بنیاد کمزور کر رہی ہیں، امریکی اقدامات دنیا کو دوبارہ مکمل نوآبادیاتی نظام کی جانب دھکیل سکتے ہیں۔نیٹو کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اتحاد کے اعلیٰ کمانڈر نے متعدد رکن ممالک کے نمائندوں کے ساتھ بات چیت کی ہے اور ایک اجلاس منعقد کیا گیا ہے ، جس میں آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آزادانہ آمدورفت کے تحفظ کیلئے ممکنہ تعاون پر بحث ہوئی ہے ۔نیٹو کے سپریم الائیڈ کمانڈر جنرل الیکسس گرینکووچ کے ترجمان نے بتایا کہ یہ اجلاس ان ممالک کے سربراہانِ دفاع کی سطح پر ہوا جو آبنائے ہرمز میں آزادانہ آمدورفت کے تحفظ میں ممکنہ طور پر حصہ لینے میں دلچسپی رکھتے ہیں، تاہم یہ کوئی نیٹو مشن نہیں ہوگا۔
ترجمان کے مطابق نیٹو نے اپنے رکن ممالک کو ایک ساتھ لانے اور ان کی فوجی صلاحیتوں کا جائزہ لینے کی صلاحیت کے باعث اس معاملے میں رابطہ کاری کا کردار ادا کیا ہے ۔ آبنائے ہرمز میں سکیورٹی صورتحال بدستور انتہائی سنگین ہے جہاں جہازوں کی آمد و رفت صرف 4 فیصد رہ گئی ہے ۔برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز کے مطابق28فروری سے اب تک آبنائے ہرمز میں 857 بحری سفر ریکارڈ ہوئے ، گزشتہ 7 روز میں آبنائے ہرمز سے صرف 21 جہاز گزرے ۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ 6 جولائی کے بعد آبنائے ہرمز کے اطراف 16 میزائل حملے رپورٹ ہوئے ، 16 میں سے 14 میزائل حملے جنوبی عمانی بحری راستے پر ہوئے ۔ فروری کے اواخر میں ایران کے ساتھ شروع ہونے والی جنگ میں اب تک امریکا کے 18فوجی ہلاک اور ساڑھے سات سو سے زائد فوجی زخمی ہو چکے ہیں۔امریکی خبر رساں ادارے اے پی کی رپورٹ میں پینٹاگون کے اعداد و شمار کا حوالہ دے کر بتایا گیا ہے کہ اس تعداد سے جنگ پر بڑھتے اخراجات بھی ظاہر ہوتے ہیں۔پینٹاگون کے مطابق اب تک زخمی ہونے والے 757 اہلکاروں میں سب سے زیادہ تعداد بری فوج کے اہلکاروں کی ہے جو 580 ہے جبکہ بحریہ کے 86، فضائیہ کے 64 اور 19 میرینز بھی مجموعی تعداد میں شامل ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments