بھکاری مافیا کا ظلم،بچے سردی میں بھیک مانگنے پر مجبور

بھکاری مافیا کا ظلم،بچے سردی میں بھیک مانگنے پر مجبور

فیصل آباد(ذوالقرنین طاہر سے )محکمہ سوشل ویلفیئر اینٹی بیگری سکواڈ اور چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے افسر سردی میں سست پڑگئے پیشہ ور بھکاریوں نے تمام حدیں پار کرتے ہوئے شدید سردی میں چھوٹے بچوں کو گرم ملبوسات کے بغیر ننگے پاوں سڑکوں پر بھیک مانگنے کے لیے چھوڑ دیا۔

محکمے فرضی کارر وائیوں اور رپورٹس سے کام چلانے لگے پیشہ ور بھکاریوں نے اپنے منظم گروہ بنارکھے ہیں ہر چوک اور شاہراہ پر الگ گروہ کا قبضہ ہوتا ہے اور یہ گروہ مستقل طور پر اپنی مجوزہ جگہ پر ہی بھیک مانگتا ہے حالیہ دنوں میں سردی کی لہر کے باعث درجہ حرارت میں واضح کمی ہوچکی اور پیشہ ور بھکاری اس شدید سردی کا فائدہ ہمدردی حاصل کرنے کے لیے اٹھاتے ہیں شدید سردی میں معصوم بچوں کو ننگے پاوں اور بغیر گرم ملبوسات کے سڑکوں پر چھوڑ دیا جاتا ہے ننھے بچے سردی میں ٹھٹھرتے ہوئے سڑکوں پر آنے جانے والوں کے سامنے اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھ پھیلاتے ہیں اور دیکھنے والے ان کی حالت پر رحم کھا کر ان کو پیسے دے دیتے ہیں تاکہ بچے گرم ملبوسات یا جوتے خرید سکیں مگر ان بچوں کو سڑکوں پر چھوڑنے والے پیشہ ور بھکاری ان سے پیسے لے کر اپنی جیبوں میں ڈال لیتے ہیں متعلقہ محکمے اپنے فرائض سر انجام دینے کو تیار نہیں ہیں چائلڈ پروٹیکشن بیورو کو سرکاری خزانے سے کروڑوں روپے لگا کر ایک سٹیٹ آف دی آرٹ بلڈنگ بناکر دی گئی ملازمین کو لاکھوں روپے ماہانہ تنخواہ دی جاتی ہے لاکھوں روپے مالیت کی گاڑیاں اور ان میں سرکاری پٹرول فراہم کیا جاتا ہے ۔محکمہ سوشل ویلفیئر کے اینٹی بیگری سکوا ڈ کی حالت بھی کچھ مختلف نہیں ان کو بھی سپیشل ایجوکیشن کی بڑی گاڑی فراہم کی گئی ہے سول ڈیفنس اور پولیس کے ملازمین بھی اینٹی بیگری سکواڈ کا حصہ ہیں تنخواہوں دفاتر اور گاڑیوں کی مد میں ماہانہ لاکھوں روپے کا بوجھ ہے اور کام نہ ہونے کے برابر دونوں محکموں کے افسر سردی کی شدت سے بچنے کے لیے دفاتر میں بیٹھ کر آرام کرتے ہیں سڑکوں پر سردی میں ٹھٹھرتے بچے مختلف امراض کا شکار ہورہے مگر کسی کو کوئی پرواہ نہیں شہری کہتے ہیں کہ پیشہ ور بھکاریوں کے ساتھ دونوں محکموں کے افسر بھی بچوں پر ہونے والے اس ظلم میں برابر کے شریک ہیں ڈسٹرکٹ آفیسر چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو روبینہ اقبال کا کہنا ہے کہ ہماری ٹیم ایسے بچوں کی نشاندہی ہونے پر ریسکیو کرتی ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں