الائیڈہسپتال ون: ڈائلیسزمشینوں کی قلت مریض پریشان

الائیڈہسپتال ون: ڈائلیسزمشینوں کی قلت مریض پریشان

نیفرالوجی ڈیپارٹمنٹ میں عرصہ دراز سے ڈائیلسز کی دو مشینیں بند پڑی ہیں ، دیگر مشینیں بھی مدتِ معیاد پوری کر چکی ہیں ، جو آئے روز خراب رہتی ہیں گرودوں کے مریضوں کے بروقت ڈائیلسز نہ ہوں تو دل کے پٹھے کمزور ہونے کے ساتھ جھٹکے لگنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ، جو جان لیوا ہو سکتا ہے : ماہرین

فیصل آباد (عاطف صدیق کاہلوں)الائیڈ ہسپتال ون کے نیفرالوجی ڈیپارٹمنٹ میں عرصہ دراز سے ڈائیلسز کی دو مشینیں مبینہ طور پر غیر فعال پڑی ہیں، جس کے باعث گردوں کے مرض میں مبتلا مریضوں کی بڑی تعداد علاج سے محروم ہو رہی ہے ۔ ذرائع کے مطابق دیگر مشینیں بھی مدتِ معیاد پوری کر چکی ہیں جبکہ بعض مشینوں کے آئے روز خراب ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ نیفرالوجی ڈیپارٹمنٹ کے ڈائیلسز یونٹ میں مجموعی طور پر 21 مشینیں موجود ہیں۔ ایک مریض کے ڈائیلسز کے لیے تقریباً پانچ گھنٹے درکار ہوتے ہیں، اس طرح ایک مشین پر روزانہ چار سے پانچ مریضوں کا ڈائیلسز ممکن ہوتا ہے ۔ تاہم ہسپتال میں زیرِ استعمال ڈائیلسز کی تقریباً تمام مشینیں زائدالمعیاد ہو چکی ہیں اور ہر مشین 80 ہزار گھنٹے سے زائد چلائی جا چکی ہے ،

جبکہ بین الاقوامی معیار کے مطابق ڈائیلسز مشین صرف پانچ ہزار گھنٹے تک استعمال ہونی چاہیے ، اس سے زائد استعمال سے علاج کے نتائج متاثر ہونے کا خدشہ ہوتا ہے ۔ذرائع کے مطابق فیصل آباد، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، گوجرہ، میانوالی اور سرگودھا سمیت مختلف اضلاع سے گردوں کے مریض علاج کے لیے الائیڈ ہسپتال ون کا رخ کرتے ہیں، مگر مشینوں کی کمی کے باعث انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ اس وقت ہسپتال کو کم از کم 80 نئی ڈائیلسز مشینوں کی ضرورت ہے تاکہ مریضوں کو مناسب سہولت فراہم کی جا سکے ۔مشینوں کی قلت کے باعث صرف ایمرجنسی اور نیفرالوجی وارڈ میں آنے والے مریضوں کا ہی ڈائیلسز ممکن ہے ، جبکہ آؤٹ ڈور مریضوں کو کئی کئی ماہ بعد کا وقت دیا جاتا ہے ۔ طبی ماہرین کے مطابق اگر بروقت ڈائیلسز نہ کیا جائے تو مریض کے دل کے پٹھے کمزور ہونے کے ساتھ ساتھ جھٹکے لگنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ،

جس سے جان کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ نیفرالوجی ڈیپارٹمنٹ کی انتظامیہ کی جانب سے اضافی مشینری کی فراہمی کے لیے متعدد بار تحریری طور پر ہسپتال انتظامیہ کو آگاہ کیا گیا، تاہم مبینہ طور پر عدم دلچسپی اور لاپراہی کا مظاہرہ کیا گیا۔ نئی مشینیں خریدنے کے لیے کوئی مؤثر اقدامات نہ کیے گئے اور زائدالمعیاد مشینوں کو 24 گھنٹے چلا کر ڈنگ ٹپاؤ پالیسی کے تحت نظام چلایا جا رہا ہے ۔دوسری جانب میڈیکل سپرنٹنڈنٹ الائیڈ ہسپتال ون ڈاکٹر فہیم یوسف نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ہسپتال میں موجود تمام ڈائیلسز مشینیں فعال اور درست حالت میں ہیں، جبکہ ان کی بروقت مینٹی ننس بھی باقاعدگی سے کروا لی جاتی ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں